کیونکہ کیڑے کو دانت نہیں لگ سکتے۔
عینک

یہی کہ 'بھائی صاحب موذی کا خطاب صرف میرے لئے ہی کیوں؟'
فرق تو نہیں معلوم۔ تعلق یہ ہے کہ بُھول جائیں تو فُول بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انار یقیناً کام یا پڑھائی سے چُھٹی کا نام ہو گا ، اس لئے۔
پاکستانی ٹاک شوز دیکھ کر۔
بے حسی اور ڈھٹائی کا سوئمنگ کاسٹیوم پہن کر۔
کس نے کہا نہیں آتا۔ آتا ہے بھئی اور دل کھول کر آتا ہے۔ یقین نہیں تو ذرا سٹار پلس اور اپنے پاکستانی ڈرامے دیکھ لیں۔ سب سمجھ جائیں گے کہ گھریلو سیاست میں ایک سونامی کی نہیں دس سونامیوں کی شدت ہُوا کرتی ہے۔
وقت وقت کے درمیان کھیل چل رہا ہے تو لا محالہ جیتے گا وقت ہی۔
گلے کو خراب کرتا ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بیماری کا بہانا کر کے کام اور پڑھائی سے چھٹی کر سکتا ہے اور سارا وقت ٹیلی ویژن دیکھ سکتا ہے۔ اور موبائل فون پر گیمز کھیل سکتا ہے اور اور اور۔۔۔ کافی ہیں یا؟

جامن اور گلاب دونوں ایک ہی باغ کے باسی ہوں گے شاید۔
برفی 'ب' سے شروع ہوتی ہے اور قلاقند 'ق' سے۔
مٹھائی والے کی مرضی۔ شخصی آزادی بھی کوئی شے ہوتی ہے آخر۔
آپ سے کس نے کہا کہ صرف گلاب کے ساتھ ہی ہوتا ہے
جب ایک ہی سیاست دان ایک ہی شام میں پانچ چینلز کے پروگرامز میں نظر آ رہا ہوتا ہے۔
جتنی صبح اور شام کی۔
داستانِ امیر حمزہ میں۔
'نیم' کا۔
آپ کو کان کا ذکر پسند ہے تو 'ناک' والے حصے کو الٹا پڑھ لیں۔
تا کہ ہر طرف سے خطرے کی بُو کو سونگھ سکے۔
یہ آپ کے پچھلے چند سوال خصوصی طور پر ناک ہی پر کیوں فوکس کر رہے ہیں بھلا
ایک اور ناک
ویسےمحاورے سے ہٹ کر ناک پر مکھی اکثر تب بیٹھتی ہے جب آپ کسی انتہائی اہم کام مثلاً آٹا گوندھنے یا پودوں کی گوڈی کرنے میں مصروف ہوں۔ اس کے علاوہ جب آپ کسی بہت سخت استاد یا سینئر کے سامنے بیٹھے ہوں یا پھر کسی کے سامنے بہت بارعب بن کر بیٹھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
جمہوری سیکولر ملک ہے اس لئے۔
ورائٹی بھی کوئی چیز ہوتی ہے آخر۔
کھیلتے ہیں بھئی۔ بس اب محلے گلیوں میں نہیں کھیلتے بلکہ دھرنوں اور احتجاجوں میں ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے شامل ہوتے ہیں۔ اور عوامی اور سرکاری املاک کو بطور گِلی استعمال کرتے ہیں۔
اردو محفل کے زمروں 'اسلام' اور سیاست ' کے میدانوں میں۔
اچھا ہے نمکین ہے ورنہ ہم شیر دل انسانوں نے راتوں رات وہاں سے پانی نکال کر اپنی ٹینکیاں بھر لینی تھیں اور سمندر خالی کر دینے تھے۔
الٹے جوتے پہن کر۔
تذکیر و تانیث کا۔
خود کو پتہ چل جاتا ہے کہ ہم کہاں تک گنتی جانتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے آپ کی معلوماتِ عامہ بھی میرے جیسی ہی ہیں۔ فی زمانہ سچ کے پاؤں نہیں ہُوا کرتے اور جھوٹ کے پاؤں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا میں ہوا کرتے ہیں۔ پلک جھپکتے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔
جہاں اس کا دل چاہے۔ ہاتھی کوئی ہماری مرضی کا پابند تھوڑی ہے۔
وہی جو ایک پورا دن بجلی کے نہ جانے اور ایک پورا ہفتہ بجلی کے نہ آنے میں ہوتا ہے۔
الیکشنز نہ ہوا کرتے۔
تو وہ ہم پاکستانیوں کے سامنے وہی ہاتھ جوڑ دیتا کہ کسی وقت تو میرا پیچھا چھوڑ دیا کرو۔














