میرا خیال ہے عادت تو شاید شروع سے ہو لیکن اس کو پالش میرے ٹیچرز نے کیا۔ کیونکہ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مجھے ٹیچرز ہی دھکیلتے تھے تو اپنا نقطہ نظر دلیل کے ساتھ پیش کرنا اور دوسروں کی بات کو سمجھنا تب شروع کیا۔
لیکن باقاعدہ دلائل دینا میں نے برطانیہ میں اپنے ڈیزائن کے استاد سے سیکھا۔ کیونکہ اپنے پراجیکٹ کی تیاری اور پھر اس کے ڈیزرٹیشن (جس کو ہمارے یہاں تھیسس کہا جاتا ہے) کے لئے ہمیں دو سال خوب گھمایا گیا تھا۔ میرے ایک جملے پر میرے استاد کے دس سوالات نکل آتے تھے اور پھر آرگیومنٹ ، کاؤنٹر آرگیومنٹ اور ٹھوس دلائل کا وہ سلسلہ چلتا تھا کہ ڈیزائن کی کلاس کے بعد دماغ گھوما ہوا ہوتا تھا۔

ویسے ان سوالوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اپنے استاد کی بات کا جواب بھی سوال میں دینا شروع کر دیا۔ اور یہ حکمتِ عملی کافی مفید ثابت ہوئی۔ بلکہ میں نے تو گھر والے جو پہلے ہی میرے سوالوں سے نالاں رہتے تھے ، مزید تنگ کرنا شروع کر دیا۔ آخر میں میرے زیادہ سوالات پوچھنے پر پابندی لگا دی گئی اور پانچ سوال فی دن کا کوٹہ مقرر کر دیا گیا

۔
کتنا مزے کا وقت یاد کروا دیا محسن۔