محترم بہنا سدا ہنستی مسکراتی رہیں ۔ آمین
انتظار کرتے
9 اپریل سے 18 اپریل آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
انتظار کرتے
9 اپریل سے 18 اپریل آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
انتہائی معذرت خواہ ہوں نایاب بھائی۔ ان دنوں زندگی نے ایسا گھما چھوڑا ہے کہ ابھی پچھلے چکر آنے ختم نہیں ہوتے کہ ایک اور گول چکر شروع ہو جاتا ہے۔ ان شاءاللہ کوشش کروں گی کہ اختتامِ ہفتہ تک کچھ پوسٹ کر سکوں۔
بالکل شمشاد بھائی۔ اب تو مجھے مجبوراً 18 اپریل تک کا انتظار کرنا پڑے گا،
تو 18 اپریل کون سی دور ہے، دو گھنٹوں سے بھی کم فاصلے پر تو ہے۔
محیر العقول واقعات بھی ہو جاتے ہیں کبھی کبھی

تو پوری کی پوری کب آئیں گی آپ
جی اور 24 گھنٹے اٹھارہ تاریخ کے ہوئے۔تو میرے پاس ہوئے 26 گھنٹے۔
جزاک اللہ نایاب بھائی
اللہ کا کرم ہے آپی
الحمداللہ میری بھی پاکستان واپس سیٹل ہونے کے بعد یہی کیفیت ہے۔ مطمئن خوش اور سکون ہی سکون !!!!!!!!!!
بس آج شام تک کا وقت دے دیں مہ جبین آنٹی ، نایاب بھائی۔ میں ان شاءاللہ ضرور لکھتی ہوں۔ اصل میں یکسوئی سے لکھنا چاہتی ہوں۔ دن میں اتنی بار ادھر ادھر مصروف ہونا پڑتا ہے کہ سارا تسلسل خراب ہو جاتا ہے۔مجھے بھی بہت اچھا لگا فہیم۔
جزاک اللہ خیر۔ آپ کا بڑا پن ہے کہ آپ نے خصوصاً بلاگ بھی پڑھا اور یہاں بھی تبصرہ کیا۔ بہت ممنون ہوں۔
نایاب بھائی اتنا مشکل سوال کہ ابھی تک مجھے اس کا جواب سجھائی نہیں دیا۔ " ڈوب کر اپنے من میں پا جا سراغ زندگی " تو اصل فلسفہ زندگی ہے اور اسے سمجھنا ہر کسی خصوصاً میرے جیسے کند ذہنوں کے لئے کہاں ممکن ہے۔ ڈوبنا ہی تو بنیادی شرط ہے۔۔جب تک مجھے یہ ہی معلوم نہیں ہو گا کہ زندگی کا مطلب کیا ہے تو میری زندگی صرف سانسوں کے آنے جانے کا ہی نام ہو گا اور بس۔ ااور میرا ماننا ہے کہ جس دن میں اپنے آپ کو جان گئی اور یہ سمجھ گئی کہ میں کیا چاہتی ہوں اور میری حقیقت کیا ہے تو شاید مجھ پر 'سراغِ زندگی' عیاں ہو ہی جائے گا۔ میرا محدود علم ، مشاہدہ اور تجربہ مجھے یہی بتاتا ہے کہ 'میں' کو جاننا اس سفر کی پہلی کڑی اور پھر اپنی زندگی میں سے اس 'میں' کو نکال باہر کرنا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں تو زندگی کے کانٹے خودبخود راستے سے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ باقی مجھے زندگی کا لغوی معنی بھی ابھی تک سمجھ نہیں آ سکا تو اتنی گہرائی میں کہاں جا سکوں گی۔
یہ آگہی تو شاید شعور کا لازمی حصہ ہے اور جب بھی ملے ، بہت تکلیف دیتی ہے۔ لیکن میں اس کے ساتھ یہ بھی جانا کہ اس امتحان میں فیل ہونے میں بھی ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے اور اگر ہم ایک بار فیل ہونے کے بعد کچھ سیکھ لیں تو اگلی بار زندگی کا امتحان ایسا کڑا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر غلطیوں سے سیکھا نہ جائے تو بار بار امتحان اور بار بار فیل ہونے کے بعد آخر میں آپ کا نام امتحانی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے 'مستقل ناکام' کا سرٹیفیکیٹ ہاتھ میں پکڑا کر۔
۔ نایاب بھائی جلدی سے دو تین کافی کی پیالیاں اور ایک بڑا تھیلا باداموں کا بھیجیں تا کہ اگلے کے لئے تھوڑا دماغ تیز کر لوں۔ 