اور ایک منظوم خط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اکبر الہ آبادی نے اقبال کو لکھا:
نامہ کوئی نہ یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے تو آم بھیجئے
ایسے ضرور ہوں کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگر ہوں بیس تو دس خام بھیجئے
معلوم ہے تو آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الہ آباد میرے نام بھیجئے
ایسا نہ ہو کہیں کہ یہ آوے جواب میں
’’تعمیل ہو گی پہلے مگر دام بھیجئے‘‘
ضمیر صاحب
مدیحہ گیلانی