۱. قران مجید کو بطور خط پڑھتے ہیں یا بطور کتاب؟ اگر بطور خط، تو کیا احساسات وارد ہوتے ہیں؟
میں قرآن مجید کو بطورِ ہدایت نامہ پڑھتا ہوں۔ انفرادی کیفیات کو زیادہ ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔
البتہ پڑھتے ہوئے یہ خیال ہمیشہ رہتا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ مجھ سے بات کر رہے ہیں، مجھے ہدایات دے رہے ہیں، مجھے سمجھا رہے ہیں۔
۲. آپ ماشاء اللہ حج کی سعادت حاصل کرچکے ہیں،شاعر لوگ تو جذبات کی داستانیں منظوم کرتے ..ہم نے ڈھونڈا ایسا کلام مگر ہماری کوتاہی دیکھیے کہ ایسا دھاگہ ملا نہیں
اسی مناسبت سے گرہ لگائیے،
کعبے پر پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دنیا بھول گیاحج کی سعادت کے لیے اللہ تعالیٰٰ سے دعا ہے کہ ہمت اور استطاعت عطا فرمائے۔ آمین
ابھی تک عمرہ ہی کیا ہے۔ جس پر ایک تحریر
یہاں پیش کر چکا ہوں، جس میں احساسات کا اظہار بھی ہے، اور اس سے زیادہ احساسات و جذبات بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کا معاملہ ہے۔

گرہ لگانے سے فی الحال قاصر ہوں۔ کبھی لگ گئی تو پیش کر دوں گا۔
۳.ایسے کون سے لمحے تھے جنہوں نے زندگی بدل دی؟
انسانی زندگی میں ایسے لمحات زندگی کے مختلف دائروں میں آتے رہتے ہیں۔
ایف ایس سی تک پڑھائی سے بہت بھاگا اور غفلت کی۔ مگر ایف ایس سی کے نتائج کی ٹھوکر نے سیدھا کیا، اور پھر تعلیمی کیریئر میں کوئی نقصان نہیں اٹھایا۔
انفرادی معاملات کافی ڈسٹرب ہو چکے تھے اور اجتماعیت سے بھی کسی حد تک کٹ چکا تھا، اور اسی بات کو میں انفرادی اعمال میں کوتاہی کا سبب بھی سمجھتا ہوں۔ وجوہات کا ذکر مناسب نہیں سمجھتا۔ پھر شدید ایکسیڈنٹ ہوا، اللہ تعالیٰ نے دوسری زندگی عطا فرمائی، تو معاملات کو نئے سرے سے بہتری کی جانب موڑا۔
۴.حضرت ابو بکر صدیق رض کی کس بات سے اتنا متاثر ہیں کہ اس کو عملی طور پر لاگو کیا ہوا ہے؟ان کے اخلاص اور قربانی کی انتہائی کیفیات سے شدید متاثر ہوں۔ جس طرح نبی اکرمﷺ کی زندگی میں انھوں نے بےلوث ہو کر ان کا ساتھ دیا۔ اور اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ ان کے حضور پیش کر دیا، اس کی مثال ڈھونڈے نہیں ملتی۔ چاہے وہ ہجرت کا سفر ہو، اس میں سانپ کا ڈسا جانا ہو، غزوۂ تبوک پر اپنے گھر کا سارا سامان حاضر کر دینا ہو۔ واقعۂ معراج پر کفار کی تضحیک کے موقع پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل ایمان اور اعتماد کے ساتھ نبیﷺ کی صداقت کی گواہی ہو۔
پھر نبیﷺ کے بعد جس طرح غمزدہ مسلمانوں کو اکٹھا کیا، برپا ہونے والے فتنوں کا مقابلہ کیا، اور اہم فیصلے کیے، وہ بھی ان کی استقامت پر دال ہے۔
عملی طور پر ان سے یہی کچھ سیکھنے کی کوشش ہے، اخلاص کے ساتھ دین پر کاربند رہنے کی کوشش، دوستی میں بےلوثی، اور فیصلوں پر اعتماد اور استقامت۔
بہت کمزور ہوں ان معاملات میں۔ مگر کوشش کرتا رہتا ہوں۔