فرزانہ نے کہا:
۔ زمین سے لب بام(جہاں محبوب ہو) تک کتنے ہاتھ کا فاصلہ ہوتا ہے؟
دادی نے بالشت سے ناپ لینا سکھایا تھا، انگریزوں کے ملک میں یہ طریقہ استعمال کیا تو سمجھے لعنت بھیج رہی ہے ورنہ ضرور ناپ کر بتادیتی ۔۔ ۔ ۔ ۔
2۔ اگر کمند لگائی جائے اور وہ محبوب تک پہنچنے سے دو چار ہاتھ پہلے ٹوٹ جائے تو کتنا افسوس ہوگا، شعر کے ساتھ وضاحت کریں۔
ہم اتنی کچی گولیاں کھیلتے ہی نہیں،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر آپ اناڑی ہیں تو پھر کھلاڑی کہاں کے!
(کیا آپ نے یہ سب غور سے پڑھا تھا؟)
جی یہ سب اتنی غور سے پڑھا تھا کہ یہ سب بھی لکھ ڈالا تھا
“کس نے کہا تھا کہ انگریزوں کے ملک میں یہ طریقہ استعمال کیا جائے۔ حاصل جواب یہ کہ معلوم نہیں پڑا کہ فاصلہ کتناہے ویسے مجھے بڑی امید تھی کہ کسی طرح معلوم کر ہی لو گی چلو اب کسی اور سے پوچھنا پڑے گا۔ کان ادھر لانے کا کیا فائدہ ہوا جو بات راز کی تھی وہ تو سرِمحفل کہہ ڈالی (سب کو خبر ہو گئ ہے اب خود ہی جواب دینا سب کو)
کچی گولیوں سے بھی کھیلتے ہیں یہ مجھے خود بھی نہیں پتہ کیونکہ میں بھی ہمیشہ پکی گولیوں سے ہی کھیلتا رہا ہوں (مغل کی پکی گولیاں)۔ محلے کے لڑکوں کے ساتھ کنچے کھیلا کرتی تھی میں نے کبھی کھیلے بھی تو بانٹے کنچے تو بچے کھیلا کرتے تھے چھوٹے چھوٹے البتہ بانٹے سے بڑے بھی مستفید ہوتے تھے۔ لڑکے کے ماتھے سے خون نکال دیا تو یہ تو سمجھ آتا ہے کہ اس کی شکل نظر نہیں آئی مگر اس کی والدہ محترمہ “لامہ“ لے کر گھر نہیں پہنچی اور اگر نہیں پہنچی تو کیوں نہیں پہنچی۔، تحقیق کی کہیں اس کی ماں سوتیلی تو نہیں تھی کہ لڑکے کے ماتھے سے محلہ کی پارہ صفت لڑکی نے پتھر جیسا کنچا مار کر خون نکال دیا اور کوئی پوچھ گچھ ہی نہیں۔
چاند اس لئے اونچائی پر ہوتا ہے تاکہ لوگوں کی پہنچ سے دور ہو ورنہ پہلی کا چاند دس پندرہ تاریخ کو مشکل سے نظر آئے۔“
اب جواب آں غزل ارشاد ہو