آپ ایسا کریں کہ “ شکریہ قیصرانی“ اپنے “ دستخط “ میں شامل کر دیں، ہر دفعہ لکھنے کی زحمت سے بچ جایا کریں گے۔
جیہ — مئی 1، 2006 6:29 شام
صحیح کہا آپ نے۔۔۔ بقولِ غالب۔۔۔ بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیئو کہ ہاں کیوں ہو
قیصرانی — مئی 1، 2006 6:35 شام
ارے نہیں شمشاد بھائی، تازہ گھان سے اترتی جلیبی اور تازہ ادا کئے گئے شکریہ کا اپنا مزہ ہے۔
قیصرانی
شمشاد — مئی 1، 2006 7:51 شام
مرضی ہے آپ کی، تلتے رہیں جلیبیاں، ہم تو کھانے والوں میں سے ہیں۔
قیصرانی — مئی 1، 2006 7:54 شام
شکریہ شمشاد بھائی جان۔
قیصرانی
شمشاد — مئی 1، 2006 8:02 شام
او بھائی کس بات پر مسلسل شکریہ ادا کیئے جا رہے ہو، کوئی اور بات بھی کرو، اور ہاں بتایا بھی تھا کہ اس محفل میں شکریہ بہت ہی خاص خاص موقعوں پر کیا جاتا ہے۔ تا کہ اجنبیت کا احساس نہ ہو۔
قیصرانی — مئی 1، 2006 8:07 شام
شکریہ اس لئے ادا کیئے جا رہا ہوں کہ کڑاہی پکا رہا ہوں۔ اس سے فراغت پاکر تفصیلی لکھوںگا۔
قیصرانی
شمشاد — مئی 1، 2006 8:34 شام
تو کیا “ شکریہ “ کی کڑاہی پکا رہے ہیں، لوگ تو گوشت یا مرغ کی پکاتے ہیں،
قیصرانی — مئی 1، 2006 8:49 شام
کڑاہی تو مرغی کی تھی، مگر تڑکا “شکریہ“ کا لگایا ہے۔
قیصرانی
قیصرانی — مئی 1، 2006 8:52 شام
ہاںجی شمشاد بھائی۔ اب میں کڑاہی پکا کر فارغ ہو چکا ہوں۔ اب فرمائیں۔ سوالنامہ کہاں تک پہنچا؟ اور کب تک میں توقع رکھوں؟
قیصرانی
شمشاد — مئی 1، 2006 10:53 شام
سوالنامہ اتنی جلدی تھوڑا ہی بن جائے گا، بنا رہا ہوں، ابھی کچھ وقت لگے گا۔
F@rzana — مئی 1، 2006 11:42 شام
ایک تو میں قیصرانی کی چٹخارے دار طبیعت سے عاجز ہوں، ہر روز نت نئی کھانے پینے کی چیزیں لے آتے ہیں اور وہ بھی خوب مرغن، میں تو پڑھ پڑھ کر ہی موٹی جاؤں گی، خود دھان پان ہیں نا اس لیئے انھیں کیوں پرواہ ہو!
قیصرانی نے کہا:
ارے نہیں شمشاد بھائی، تازہ گھان سے اترتی جلیبی اور تازہ ادا کئے گئے شکریہ کا اپنا مزہ ہے۔
قیصرانی
چلیں کر دیا معاف، آپ بھی کیا یاد کریں گی کہ کس سخی سے پالا پڑا تھا۔ ویسے کیا سوچ کر آئی تھیں اس دھاگے پر؟
محب علوی — مئی 2، 2006 8:27 صبح
اب اندازہ ہو رہا ہے کہ جویریہ کا کافی تفصیلی تعارف ہوگیا ہے اور غالب فہمی بھی اب ہو چکی ، اس لیے میں میر پر ایک پوسٹ کروں گا جس پر شاعرانہ گفتگو ہوگی ۔ تمام ارکان سے درخواست ہے کہ وہاں خالصتا شعری حوالوں سے بات کریں
جیہ — مئی 2، 2006 8:34 صبح
ٹھیک۔۔ اب اس دھاگے کو یہیں پر ختم کر دیتے ہیں۔۔۔۔ آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ۔۔۔۔ مجھے یہاں توقع سے زیادہ پزیرائی ملی۔۔۔ الفاظ نہیں کہ بیان کرسکوں۔ کہ مجھے کتنی خوشی ہے اس بزم میں آکر۔۔۔۔ اچھا اجازت ۔۔۔ بقول میر اب تو جاتے ہیں میکدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا اور ہاں۔۔ غالب نے بھی میر کو سراہا تھا۔۔۔ ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کو میر بھی تھا
شمشاد — مئی 2، 2006 9:05 صبح
تو آپ کا مطلب ہے تالا لگا دوں اس دھاگے کو چلتا رہنے دیں، آپ کا کیا لیتا ہے۔