سلام عرض ہے

شمشاد — اپریل 25، 2006 11:08 صبح
میرا مخلصانہ اور مفت مشورہ ہے کہ ‘ لائبریری ٹیم ‘ میں شامل ہو جائیں۔
جیہ — اپریل 25، 2006 11:13 صبح
اداب عرض
بہت خوشی ہوئی جان کر کہ شمشاد بھائی لکھتے بھی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ خوب لکھتے ہوگے۔ جہاں تک میں نے ان کے خطوط پڑھے اس محفل میں، اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کا دل زندہ ہے۔ حالانکہ تصویر سے تو لگتا ہے کہ عمر کے اس حصے میں ہیں جس آدمی کا کام صرف پوتوں پوتیوں کو بہلانا اور بازار سے سودا سلف لانا ہوتا ہے ( گستاخی معاف)
جی ہاں نبیل بھائی میں بھی مارک ٹوین کی مرید ہوں اس سلسلے میں۔ کسی کو کتاب دوں اللہ نہ کرے۔ کسی جگہ پڑھا تھا (شاید یوسفی صاحب کی کسی کتاب میں) کہ کسی کو کتاب عاریتا دینے والا احمق ہوتا ہے۔ اور جو اس کتاب کو واپس بھی کرے، وہ اس سے بھی زیادہ احمق ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا شمار دونوں طرح کے احمقوں میں نہیں ہوتا، نہ کتاب کسی کو دیتی ھوں اور نا واپس کرتی ہوں۔
محب علوی بھائی ، مجھے افسوس ہے کہ فی الوقت میرے پاس سکینر موجود نہیں ورنہ برقیانا تو اس کتاب کا بہت ھی ضروری ہے۔ اب یہ کتاب بجھوانے سےتو رہی کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ آپ مجھ سے زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ھوسکتے۔
غلام عباس کا افسانہ کتبہ کیا اس سایٹ پر موجود نہیں؟ اگر نہیں تو میں ضرور کوشش کرونگی کہ اس افسانے کو پوسٹ کروں۔ انشاءاللہ
غالب کے شعر کو پسند کرنے کے لیے شکریہ۔
علوی صاحب آپ بتایں کہ کس ٹیم کا حصہ بننا مناسب ہوگا؟ اور اگر تھوڑی سی تعارف بھی ہو جائے ان ٹیموں کا، تو کیا کہنے۔
جیہ — اپریل 25، 2006 11:15 صبح
ارے
ارے شمشاد بھائی آپ بھی نا ھر وقت آن لائن ہوتے ھیں۔ مفت مشورے کے لئے شکریہ
شمشاد — اپریل 25، 2006 11:31 صبح
وہ کیا کہتے ہیں ملا کی دوڑ مسجد تک، تو جب بھی موقع ملتا ہے اس محفل میں پہنچ جاتا ہوں۔
میرے اوتار سے آپ نے یہ سمجھا ہے، ابھی بدلتا ہوں اسے :cry:
اور مشتاق احمد یوسفی ہی کی کسی کتاب میں پڑھا تھا
“ کتب خانہ دیکھنے کے لیے گھر تشریف لائیں لیکن یاد رکھیے، خوبصورت کتاب خوبصورت بیوی کی طرح ہوتی ہے، بس دور سے دیکھنے کے لیے، بغل میں دبا کر لے جانے کے لیے نہیں“
جیہ — اپریل 25، 2006 11:43 صبح
مشتاق احمد یوسفی کے کیا کہنے؟ لفظوں کے بازیگر ہیں۔ الفاظ سے اس طرح کھیلتے ہیں جیسے بلی چوہے کے ساتھ۔ میرے پاس ان کی تمام کتب ہیں مگر سب سے پسندیدہ کتاب ان کی سوانحِ نوعمری “ زرگزشت“ ہے۔ البتہ آب گم کو پڑھ کر وہ مزا نہیں آیا، جو ان کی چراغ تلے اور دوسری کتامیں پڑھ کار آیا۔
کیا فرماتے ہیں آپ بیچ اس مسئلے کے ؟
نبیل — اپریل 25، 2006 11:54 صبح
جویریہ، آب گم کو شروع میں پڑھ کر ایسا ہی لگتا ہے کیونکہ یہ ذرا مختلف انداز میں لکھی ہے یوسفی صاحب نے۔ لیکن اگر ایک مرتبہ اس کا انداز بھا جائے تو یہ یوسفی صاحب کا بہترین شاہکار معلوم ہوتا ہے۔ یہ کتاب literally میری بیڈ سائیڈ بک ہے۔ یہ واقعی میرے سرہانے کے ساتھ رکھی ہوتی ہے۔ میں جس مرضی صفحے سے اسے پڑھنا شروع کر دوں وہی لطف آتا ہے۔
جیہ — اپریل 25، 2006 12:05 شام
شکریہ نبیل صاحب، اب تو مجھ پر اس کتاب کا دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔ ویسے بھی یوسفی میرے چند پسندیدہ ترین مصنفین میں سے ہیں۔
شمشاد — اپریل 25، 2006 12:31 شام
مزاح میں نے بہت سے لکھاریوں کا پڑھا ہے ہر ایک کا منفرد انداز ہے
ان میں ڈاکٹر یونس بٹ، شفیق الرحمان، کنیا لال کپور، کرنل محمد خان اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ سب ہی اپنی اپنی جگہ ایک چمکتا دھمکتا ستارہ ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ مزہ یوسفی صاحب کی تحریروں سے آیا ہے۔
تیلے شاہ — اپریل 25، 2006 12:34 شام
یوسفی صاحب کا ایک انٹرویو میرے پاس تھا
فرصت میں ڈھونڈ کر پیش کروں گا بہت دلچسپ ہے
شمشاد — اپریل 25، 2006 12:37 شام
زرگزشت کے سارے ہی کردار بہت دلچسپ ہیں لیکن مجھے سب سے زیادہ خان صاحب کا کردار پسند آیا۔ خاص کر ان کے الفاظ، تخمیر، خوبصعورت وغیرہ جو انہی کے منہ سے اچھے لگتے ہیں۔
جیہ — اپریل 25، 2006 12:37 شام
ویسے شمشاد بھائی صدیق سالک بھی کسی سے کم نہیں طنز و مزاح میں، ہمہ یارانِ دوزخ تو آپ نے پڑھی ھوگی۔ اور مستنصر حسین تارڑ کے ہاں بھی مزاح کی ہلکی سی چاشنی پا ئی جاتی ہے۔ خاص کر اس وقت جب صنفِ نازک اس کی ہمسفر ہو
شمشاد — اپریل 25، 2006 12:38 شام
تیلے شاہ نے کہا:
یوسفی صاحب کا ایک انٹرویو میرے پاس تھا
فرصت میں ڈھونڈ کر پیش کروں گا بہت دلچسپ ہے

دعا ہے کہ یہ “ فرصت “ آپ کو جلد میسر آ جائے۔
شمشاد — اپریل 25، 2006 12:43 شام
جویریہ مسعود نے کہا:
ویسے شمشاد بھائی صدیق سالک بھی کسی سے کم نہیں طنز و مزاح میں، ہمہ یارانِ دوزخ تو آپ نے پڑھی ھوگی۔ اور مستنصر حسین تارڑ کے ہاں بھی مزاح کی ہلکی سی چاشنی پا ئی جاتی ہے۔ خاص کر اس وقت جب صنفِ نازک اس کی ہمسفر ہو

ان دونوں کو بھی پڑھا ہے اور بھی بہت سارے دوسروں کو بھی، اس وقت نام بھی یاد نہیں آ رہے۔ اور مستنصر صاحب کے ساتھ تو ساری دنیا گھوما ہوں ان کے سفرناموں کے ذریعے۔
نبیل — اپریل 25، 2006 1:01 شام
اداب عرض
جویریہ مسعود نے کہا:
جی ہاں نبیل بھائی میں بھی مارک ٹوین کی مرید ہوں اس سلسلے میں۔ کسی کو کتاب دوں اللہ نہ کرے۔ کسی جگہ پڑھا تھا (شاید یوسفی صاحب کی کسی کتاب میں) کہ کسی کو کتاب عاریتا دینے والا احمق ہوتا ہے۔ اور جو اس کتاب کو واپس بھی کرے، وہ اس سے بھی زیادہ احمق ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا شمار دونوں طرح کے احمقوں میں نہیں ہوتا، نہ کتاب کسی کو دیتی ھوں اور نا واپس کرتی ہوں۔

جویریہ مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے کہ آپ کے پاس کتابوں کا ذخیرہ کس طرح اکٹھا ہوا ہے۔ :p
تیلے شاہ — اپریل 25، 2006 1:03 شام
شمشاد نے کہا:
تیلے شاہ نے کہا:
یوسفی صاحب کا ایک انٹرویو میرے پاس تھا
فرصت میں ڈھونڈ کر پیش کروں گا بہت دلچسپ ہے

دعا ہے کہ یہ “ فرصت “ آپ کو جلد میسر آ جائے۔
بس 15 یا 20 دن لگیں گے
شمشاد — اپریل 25، 2006 1:16 شام
اداب عرض
نبیل نے کہا:
جویریہ مسعود نے کہا:
جی ہاں نبیل بھائی میں بھی مارک ٹوین کی مرید ہوں اس سلسلے میں۔ کسی کو کتاب دوں اللہ نہ کرے۔ کسی جگہ پڑھا تھا (شاید یوسفی صاحب کی کسی کتاب میں) کہ کسی کو کتاب عاریتا دینے والا احمق ہوتا ہے۔ اور جو اس کتاب کو واپس بھی کرے، وہ اس سے بھی زیادہ احمق ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا شمار دونوں طرح کے احمقوں میں نہیں ہوتا، نہ کتاب کسی کو دیتی ھوں اور نا واپس کرتی ہوں۔

جویریہ مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے کہ آپ کے پاس کتابوں کا ذخیرہ کس طرح اکٹھا ہوا ہے۔ :p

کیا مطلب ہے نبیل بھائی آپ کا کہ کس طرح اکٹھا کیا ہو گا یہ کتابوں کا ذخیرہ ؟
(کہیں آپ کا بھی تو وہی مطلب تو نہیں ہے جو میں سمجھ رہا ہوں) :wink:
شمشاد — اپریل 25، 2006 1:18 شام
تیلے شاہ نے کہا:
شمشاد نے کہا:
تیلے شاہ نے کہا:
یوسفی صاحب کا ایک انٹرویو میرے پاس تھا
فرصت میں ڈھونڈ کر پیش کروں گا بہت دلچسپ ہے

دعا ہے کہ یہ “ فرصت “ آپ کو جلد میسر آ جائے۔
بس 15 یا 20 دن لگیں گے

چلیں یہ بھی غنیمت ہے، 15 یا 20 منٹ میں پڑھنے کے لیے 15 یا 20 دن انتظار کر لیں گے۔
جیہ — اپریل 25، 2006 1:40 شام
اداب عرض
نبیل نے کہا:
جویریہ مسعود نے کہا:
جی ہاں نبیل بھائی میں بھی مارک ٹوین کی مرید ہوں اس سلسلے میں۔ کسی کو کتاب دوں اللہ نہ کرے۔ کسی جگہ پڑھا تھا (شاید یوسفی صاحب کی کسی کتاب میں) کہ کسی کو کتاب عاریتا دینے والا احمق ہوتا ہے۔ اور جو اس کتاب کو واپس بھی کرے، وہ اس سے بھی زیادہ احمق ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا شمار دونوں طرح کے احمقوں میں نہیں ہوتا، نہ کتاب کسی کو دیتی ھوں اور نا واپس کرتی ہوں۔

جویریہ مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے کہ آپ کے پاس کتابوں کا ذخیرہ کس طرح اکٹھا ہوا ہے۔ :p
ھا ھاھا ۔ اب تو سچ ھی بولنا پڑےگا۔ ساری تو نہیں مگر 3 کتابیں واقعی میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد — اپریل 25، 2006 1:49 شام
ھا ھاھا ۔ اب تو سچ ھی بولنا پڑےگا۔ ساری تو نہیں مگر 3 کتابیں واقعی میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارِ خدا، چلیں گنتی شروع تو ہوئی
F@rzana — اپریل 25، 2006 3:18 شام
ہاہاہا :lol: :lol: :lol:
یعنی 3 کتابیں خریدی گئیں اور باقی ساری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔wow

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%B9%D8%B1%D8%B6-%DB%81%DB%92.1974/page-3