عباس اعوان — اگست 12، 2016 3:52 صبح
مرحبا فی المحفلِ الاردو۔

محمد وارث — اگست 12، 2016 4:13 صبح
ولی ناممکن که نیست۔ اگر کوشش به خرج دهید، حتماً این زبان را در مدت نه چندان طولانی فرا خواهید گرفت.
خان صاحب، جیسا کہ محترم کامکار صاحب نے فرمایا کہ اردو سیکھنے کے خواہش مند ہیں تو براہِ کرم اسی تھریڈ میں انہیں خوش آمدید کے بہانے ہی سے بزبانِ فارسی ہی سہی مگر اردو کی طرف لائیے اور کچھ تعارفانہ جملے سکھائیے تا کہ ان کا یہاں آنا سود مند ثابت ہو

سید عمران — اگست 12، 2016 6:19 صبح
مرحبا فی المحفلِ الاردو۔
لو جی۔۔۔۔
انگریزی اور پنجابی کے بعد اب عربی بھی۔۔۔۔
فارسی تو ہوگئی گول!!!





حسان خان — اگست 12، 2016 10:57 صبح
آقای کامکار، اگر بخواهید خودتان را به زبان اردو معرفی کنید، میتوانید این چند جمله را به کار برید:
آپ کیسے ہیں؟ (aap kaise haiN)
شما چطورید؟
میں خیریت سے ہوں، شکریہ۔ (maiN Khairiyat se hooN, shukria)
خوبم، متشکرم.
آپ کا نام کیا ہے؟ (aap kaa naam kyaa hai)
نام شما چیست؟
میرا نام حُسین ہے۔ (meraa naam husain hai)
نام من حُسین است۔
میں تہران میں رہتا ہوں۔ (maiN tehraan meN rehtaa hooN)
در تھران زندگی میکنم.
میں دانشگاہِ تہران میں پڑھتا ہوں۔ (maiN daanishgaah e tehraan meN paRhtaa hooN)
در دانشگاه تهران درس میخوانم.
میں پچّیس سال کا ہوں۔ (maiN pachchees saal kaa hooN)
من بیست و پنج سال دارم.
میری مادری زبان فارسی ہے۔ (meri maadari zabaan faarsi hai)
زبان مادریام فارسیست.
میں اردو سیکھنا چاہتا ہوں۔ (maiN urdu seekhnaa chaahtaa hooN)
میخواهم اردو یاد بگیرم.
کیا آپ میری مدد کریں گے؟ (kyaa aap meri madad kareN ge)
آیا کمکم میکنید؟
آپ سے مل کر اچّھا لگا۔ (aap se mil kar achchhaa lagaa)
از ملاقات شما خوشبختم.
سید عاطف علی — اگست 12، 2016 11:27 صبح
ابھی تو نیا رکن آیا ہے اور آپ خدا حافظ کہہ رہے ہیں۔
کسی کو بینی وینوی سمجھ آیا جو او رواے آئے گا ۔

۔۔۔
زیک — اگست 12، 2016 11:49 صبح
حسین هاشم کامکار — اگست 12، 2016 1:15 شام
میرا نام حسین ہے-
میں تہراں میں رہتا ہوں-
برای شروع، درست نوشتم؟!
حسین هاشم کامکار — اگست 12، 2016 1:39 شام
تلفظ واج هایی که در فارسی معادل ندارند و همچنین زیر و زبر و پیش کلمات، چه مرجعی در اینترنت دارد؟ِ مثلا میخواهم نحوه ادای کلمه «گہڑی» را بشنوم۔ سایت اینترنتی در این باره هست؟
حسین هاشم کامکار — اگست 12، 2016 2:04 شام
این شعر تقدیم به تمام دوست داران زبان فارسی:
دلم جز مهر مهرویان طریقی بر نمیگیرد
ز هر در میدهم پندش ولیکن در نمیگیرد
بیا ای ساقی گلرخ بیاور باده رنگین
که فکری در درون ما از این بهتر نمیگیرد
گلزار خان — اگست 12، 2016 4:36 شام
محفل میں خوش آمدید
دوست — اگست 14، 2016 5:46 شام
زبان یار من فارسی
و من فارسی نمی دانم
خوش آمدید
ادب دوست — اپریل 8، 2017 9:33 صبح
خوش آمدید
خوش آمدید