پتہ نہیں کیسے یہ خیال دل میں جڑ پکڑ گیا تھا کہ میں زیادہ دنوں نہیں جی پاؤں گا... اس کے بعد سے جذبات کا شعوری طوراظہار پر کرنے لگا.
دوستوں سے یہ کئی بار کہا ہے کہ میں ان سب سے پہلے غم دنیا سے رخصت لینے والا ہوں ... دوست بھی ٹائپ کے ملے ہیں، خوب مذاق اڑاتے ہیں!
بعض مرتبہ اچانک دماغ کو یہ خیال جکڑ لیتا ہے...
بلکہ بعض لوگ تو وقت کا تعین بھی کرلیتے ہیں...
اسی مہینے کی بات ہے ہمارے دفتر کے ایک ساتھی کو دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے اچانک یہ خیال آیا کہ یہ تمہاری زندگی کا دوپہر کا آخری کھانا ہے...
اب تمہیں کل دوپہر کا کھانا نصیب نہیں ہوگا...
اب جناب وسوسے کا شکار ہوگئے...
منہ فق، چہرہ پیلا...
خیر کسی سے کچھ کہا نہیں...
اگلے دن جیسے جیسے ظہر کا وقت قریب آتا گیا ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑتے گئے اور دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہوتی گئی...
یہاں تک کہ ظہر کی نماز کے بعد سنتیں بھی نہیں پڑھیں اور نہایت گھبرائی ہوئی حالت میں مسجد سے باہر آگئے...
ایک صاحب ان کی حالت دیکھ کر پاس آئے کہ تمہیں کیا ہورہا ہے...
ڈرتے ڈرتے ان سے سارا ماجرا بیان کیا...
انہوں نے جلدی سے کسی سے روٹی منگوا کر دو لقمے انہیں کھلادیے...
اور کہا تمہارا وسوسہ جھوٹا ہوگیا...
دیکھو تمہیں دوپہر کا کھانا نصیب ہوگیا...
بس یہ سنتے ہی ان کی جان میں جان آگئی...
آج ہنستے ہیں کہ کیا واہیات خیال ذہن سے چمٹ گیا تھا...
لہذا اس وسوسے کو ذہن سے نکال دیں...
خود اپنی طرف سے یہ اندیشے مت پالیے کہ جلدی جاؤں گا یا فلاں سے پہلے...
یہ سوچنے کا آپ سے نہ خدا نے کہا نہ رسول نے...
آپ نے خود ہی بلا کسی کے کہے یہ وسوسہ پالا ہے...
اب آپ ہی اپنے ہاتھوں اس کا کریا کرم فرمائیں...
ورنہ ساری عمر کا روگ بنا رہے گا!!!