مغل صاحب اور ڈاکٹر صاحب۔
سانس لینے دیجئے کہ آپ نے سوال کچھ یوں کئے گویا ہم انٹرویو نہیں دے رہے مقابلے کے امتحان میں بیٹھے ہیں۔ اب بھلا کسی جستے کی نو مشقی کی بابت ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ پھر ہم سے لطون خفیفہ کی بابت پوچھا گيا بڑی مشکل سے جواب بن پڑا۔
بوچھی آپی:
جی آپ درست فرمایا یہاں تو لوگ کان دھرنے والی بات پر کان نہیں دھرتے۔
جیا راؤ صاحبہ:
گر آپ کے لیے لکھنے والے صاحب مکر گئے ہیں یا قبلہ بدل گئے ہیں تو کوئی بات نہیں ہم آپ کو جگرشاد قورمپوری کا پتہ ارسال کیے دیتے ہیں بھئی واہ کیا معقول نرخوں پر شعر و غزل مہیا کرتے ہیں سبحان اللہ! کیا کہنے! دیگر یہ کہ جو بات آپ نے پوچھی تو یہ کہ ہم کردار میں سنجیدہ گفتار میں غیر سنجیدہ ہیں۔ ویسے ظرافت کے لیے سنجیدگی لازم ہے کیوں کہ کھیل ہے سب مشاہدے کا اور پھر دلچسپ تطبیق و انطباق کا۔ ویسے آپ کا مشاہدہ عمیق ہے داد وصول کیجئے۔
گفتار کی غیر سنجیدگی سے صف دشمناں ہرگز یہ نتیجہ نہ نکالے کہ ہم خدا نخواستہ بعد از سلام دعا گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں۔

یہ ڈیمسیل کہاں ہیں؟؟؟