انٹرویومحسن حجازی

شمشاد — اپریل 16، 2008 9:49 شام
محسن بھائی دفتر سے ایک دن کی چھٹی لے لیں پلییییییییییییییییز
محسن حجازی — اپریل 17، 2008 7:28 صبح
جمعے کو باقی جواب آپی جی۔ابھی تو بہت ٹریپ ہوا پڑا ہوں۔:(
تعبیر — اپریل 17، 2008 8:46 شام
جمعے کو باقی جواب آپی جی۔ابھی تو بہت ٹریپ ہوا پڑا ہوں۔:(

یہ آپی والی اموشنل بلیک میلنگ نہیں چلے گی :)
ایک خط منا بھائی کے نام
ڈئیر منا بھائی
اپن کے ایریا میں بولے تو ایک چھوکرا ہے۔ اپنے کو بہت شاڑاں سمجھتا ہے بہت شانپٹی کرتا ہے۔
ایک مہینے سے اپن کے دماغ کا دہی کر ڈالا ہے۔ اسکی تھوڑی واٹ لگانے کا ۔کیا۔
اپن کو اپ کی مدد منگتا۔ کچھ دن کے لیے اسکو اغوا کرنے کا۔ بولے تو خلاص نہیں کرنے کا بس کنپٹی پر گھوڑا رکھنے کا۔ نہین دبانے کا نہیں بس دھمکانے کا
جب تک اکھا انٹرویو خلاص نہیں کرتا اسکو بالکل نہیں چھوڑنے کا۔
پھوٹو ساتھ مین بیج رہی لی اور پتہ عشق کی گلی وچ با بار اینٹری
شمشاد — اپریل 17، 2008 9:45 شام
بہت خوب تعبیر، لیکن کبوتر تو ہے نا آپ کے پاس جو یہ خط منا بھائی کو پہنچا آئے۔
damsel — اپریل 17، 2008 11:51 شام
بہت خوب تعبیر، لیکن کبوتر تو ہے نا آپ کے پاس جو یہ خط منا بھائی کو پہنچا آئے۔

شمشاد بھائی انٹر نیٹ کا زمانہ ہے اور جس کے نام نامہ بر ہے وہ اس کے استعمال سے بخوبی واقف امید ہے کہ اپنے صحیح مقام تک پہنچ گیا ہوگا:grin:
ظفری — اپریل 18، 2008 1:19 صبح
جمعے کو باقی جواب آپی جی۔ابھی تو بہت ٹریپ ہوا پڑا ہوں۔:(
میرا خیال ہے کہ محسن بھائی کے ساتھ رعایت برتی جائے کیونکہ جب اتنے سارے عرصے میں ، ان کی اتنی محدود پوسٹ ہیں تو انٹرویو کے معاملے میں بھی ان کو پورا وقت دیا جائے کہ وہ جوابات اپنی آسانی کے مطابق دیں سکیں ۔ کیونکہ وہ بہت ہی خاص وقت نکال کر محفل پر آتے ہیں ۔ :)
الف عین — اپریل 18، 2008 6:22 شام
اس بار محض سب کا شکریہ ادا کر کے چل دئے محسن۔ یعنی دیک تو سب لیا ہے۔۔۔ بس منتظر رہو تعبیر۔ ایک نہ ایک دن دل چسپ جوابات کے ساتھ حاضر ہوں گے۔
زینب — اپریل 21، 2008 5:30 صبح
محسن آپ تورا بورا تو نہیں بھاگ گئے۔۔۔سوالوں سے تنگ آکے تو وہ بہتر جگہ ہو گی نا ارام کرنے کی:p:p
شمشاد — اپریل 21، 2008 6:52 صبح
محسن بھائی اب تو اگلا جمعہ بھی گزر گیا۔
زینب — اپریل 22، 2008 4:50 صبح
آپ خود آتے ہو واپس یا ہم انکل بش سے رابطہ کر کے اپ کے سر کی بھی قیمت لگوا دیں اسماہ بن لادن کی طرح
شمشاد — اپریل 22، 2008 6:29 صبح
محسن بھائی یہ دھمکی کچھ زیادہ نہیں ہو گئی؟ آپ کا کیا خیال ہے؟
محسن حجازی — اپریل 22، 2008 9:26 صبح
نہیں وہ کسی اسما کا کہہ رہی ہیں اسامہ کا تھوڑا ہی کہا ہے۔
زینب — اپریل 22، 2008 10:22 صبح
وہ تو غلطی سے مسٹیک ہو گئی تھی اپ کھلی چھٹی نا سجھیں۔۔۔۔۔
شمشاد — اپریل 22، 2008 11:30 صبح
تو اگر وہ اسماء بنت اسامہ بن لادن ہوئی تو کیا ہو گا؟
محسن حجازی — اپریل 22، 2008 1:18 شام
پھر ہم انٹرویو چھوڑ کر عقد کے لیے حاضر ہو جائیں گے ان کی خدمت میں۔ اتنا امیر سسر کوئی چھوڑتا ہے بھلا؟:grin:
damsel — اپریل 22، 2008 2:02 شام
اس بار محض سب کا شکریہ ادا کر کے چل دئے محسن۔ یعنی دیک تو سب لیا ہے۔۔۔ بس منتظر رہو تعبیر۔ ایک نہ ایک دن دل چسپ جوابات کے ساتھ حاضر ہوں گے۔

کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک:(
محسن حجازی — اپریل 22، 2008 3:33 شام
*آپ کی شاعری کے پیچھے کیا پس منظر/خیال یا کیا سوچ تھی؟
شاعری بنیادی طور پر رومانوی تھی احساس محرومی کے رنگ کے ساتھ لیکن پھر اس میں کچھ فلسفیانہ رنگ شامل ہوا لیکن وہ تب جب ارد گرد رومانوی فضا ختم ہوئی۔ ویسے کوئی خاص مقصد نہیں تھا شاعری کے پیچھے بس منظوم آپ بیتی سمجھ لیجئے۔
*کس طرح کی کمپنی آپ بہت انجوائے کرتے ہیں؟
ذہین اور لطیف لوگوں کی کمپنی مزہ دیتی ہے ویسے کسی بھی کمپنی میں بیٹھ جاتا ہوں اور بہت جلد اپنی طرف توجہ کھینچ لیتا ہوں۔ لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرنا جانتا ہوں۔
*دوسروں کی کونسی بات آپ کا موڈ خراب کر دیتی ہے ؟
*کوئی ایسا سوال جو آپ سے بار بار کیا جاتاہے ؟
آپ کی عمر کیا ہے؟
آپ اپنی عمر سے زیادہ کیوں نظر آتے ہیں؟
یہ دو سوال ایسے ہیں جنہوں نے میرا بہت پیچھا کیا۔ جب میں انیس برس کا تھا تو انتیس کا نظر آتا تھا اور جب اکیس تک پہنچا تو تینتیس تک نظر آتا تھا۔ اس سلسلے میں چند دلچسپ واقعات پیش کرتا ہوں۔
میں لاہور میں ایک امپورٹر کے ہاں کام کرتا تھا کچھ فائلیں اور خریداری وغیرہ سنبھالنے کا کام تھا۔ ان صاحب کا کاروبار دبئی تک پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے میرا انٹرویو کیا اور وہ انٹرویو شام پانچ بجے شروع ہوا اور رات ایک بجے تک چلا گیا۔ وجہ اس کی یہ بنی کہ وہ ایک الیکٹرانک ترازہ کو کمپیوٹر سے منسلک کر کے اس کی ریڈنگ لینے کی کوشش کر رہے تھے اور مسلسل ناکامی ہو رہی تھی اور وہ ترازہ تھا جرمنی کا۔ وہ صاحب 1980 سے بیسک اور اسمبلی میں پروگرام کر رہے تھے اور اس وقت بھی یہی کام کر رہے تھے ساتھ ساتھ میرا انٹرویو بھی کر رہے تھے۔ گھنٹہ وہ سر کھپاتے رہے کہ ریڈنگ آجائے لیکن ایسا ہو نہیں رہا تھا۔ انہوں نے فاسٹ کے کچھ لوگوں کو بھی فون ملایا لیکن بات نہیں بنی۔ میں نے ہمت کر کے ان سے کہا کہ یوں کی بجائے یوں کر لیجئے یہ پورٹ سے read ہو جائے گا۔ ان دنوں میں assembly language میں خاصا پروگرام کیا کرتا تھا۔ انہوں نے آزمایا اور وہ کام ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا وہ صاحب میرے گرویدہ ہو گئے اور یوں یہ محفل رات ایک بجے تک چلی گئی اور وہ صاحب مجھے اپنی کار میں مجھے وہاں تک چھوڑنے بھی آئے جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ساتھ میں ان کا بڑا بیٹا بھی موجود تھا۔ یونہی راستے میں میری عمر پوچھی تو میں نے کہا بیس سال۔ انہوں نے اچانک گاڑی آہستہ کر لی کہنے لگے نہیں یار؟ آپ تو پینتیس کے لگ بھگ لگتے ہیں؟ آپ کا سن پیدائش کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ 1985 تو کہنے لگے کہ میرا یہ بیٹا (مجھے اس کا نام اب یاد نہیں رہا) 1986 میں پیدا ہوا۔ اگلے روز انہوں نے مجھے کہا کہ کراچی میں کوئی چالیس لاکھ تک کا گھپلا ہے میں آپ کو وہاں منیجر بنا کر بھیج دیتا ہوں کیوں کہ آپ چہرے مہرے سے کم عمر نظر نہیں آتے اور وہاں بتائیے گا کہ آپ ایم بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں اور حالات کی اطلاع مجھے فون پر دیتے رہئے گا آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟ میں نے کہا کہ جناب میں تو گھر سے نکلا ہوا ہوں لاہور کیا تو کراچی کیا؟ خیر اس کے بعد کی کہانی الگ ہے۔
دوسرا واقعہ کل۔
* اپکی کس عادت سے گھر والے یا اپکے دوست بیزار رہتے ہیں؟
*اگر آپ ناراض ہو جائیں تو آپ کو منانے کا سب سے آسان طریقہ؟
*اگر کوئی آپ سے ناراض ہو جائے تو آپ اسے کیسے مناتے ہیں؟
*کیا بات/چیز آپ کو پریشان کر دیتی ہے
شمشاد — اپریل 22، 2008 4:56 شام
خدا خدا کر کے آج ایک صفحہ تو لکھ ہی لیا۔ اب اگلے صفحے کا کب تک انتظار کرنا پڑے گا؟
damsel — اپریل 22، 2008 7:09 شام
خدا خدا کر کے آج ایک صفحہ تو لکھ ہی لیا۔ اب اگلے صفحے کا کب تک انتظار کرنا پڑے گا؟

بڑھتا ہے شوق غالب ان کے قطرہ قطرہ لکھنے سے
زینب — اپریل 23، 2008 4:50 صبح
پھر ہم انٹرویو چھوڑ کر عقد کے لیے حاضر ہو جائیں گے ان کی خدمت میں۔ اتنا امیر سسر کوئی چھوڑتا ہے بھلا؟:grin:

لے دس۔۔۔۔۔۔۔۔آپ تو لڑکیوں کے پیچھے جھلے ہوئے پھرتے ہو محسن اپ کا کیا بنے گا۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2%DB%8C.11487/page-4