دلچسپ اور قابل مطالعہ کتاب نظر آتی ہے۔
ڈاؤن لوڈ کر کے ابھی مطالعہ شروع کیا ہے۔ شروعات کے صفحات ہی سے طرز تحریر کا سحر طاری ہونے لگتا ہے۔ جبکہ اس کتاب کے سال اشاعت (1969ء) سے اندازہ ہوا تھا کہ قدیم اردو ہوگی مگر بہرحال اتنی قدیم تو نہیں ہے۔
آباد شاہ پوری نے اپنے "دیباچہ" میں جو یہ باتیں لکھی ہیں ۔۔۔ زائد از 40 سال بعد والی موجودہ صورتحال بھی کم و بیش اتنی ہی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ ۔
ماشاء اللہ ۔ مجھے سچ مچ خوشی ہوئی کہ آپ اس کتاب کو پڑھ رہے ہیں۔ محترم آباد شاہ پوری مرحوم نے اس سرگزشت کو ترتیب دیا تھا یعنی اس کو ادبی سانچے میں انھوں نے ہی ڈھالا۔اللہ ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور انھیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین
میرے محترم !
یہ تو محض ایک شخص کی داستان ہے جو منظرعام پر آگئی ورنہ لاکھوں ایسی صورتحال سے دوچار ہوئے ہوں گے۔یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس سرگزشت کی اشاعت کے بعد سوشلسٹ حلقے اس سچائی کو برداشت نہ کرسکے اور دادا جان رحمہ اللہ پر قاتلانہ حملہ تک کروایا گیا جس میں وہ سخت زخمی ہوئے تھے۔
اللہ ہمیں آزمائش سے بھی محفوظ فرمائے ورنہ جس طرح کے ہم مسلمانوں کے حالات و اعمال ہیں، بعید نہیں کہ جو کچھ سوویٹ یونین نے ترکستان میں ظلم وستم کیا ، وہی کچھ اسلام آباد ،لاہور و کراچی کی گلی محلوں میں ہو۔
پاکستان کو بنانے کے بعد اسے کسی اور ہی ڈگر پر چلا دیا گیا ۔کبھی تو یہاں سوشلزم کے نعرے لگائے گئے تو کبھی سیکولرازم کی بات کی گئی ۔حتی کہ قائد اعظم کو بھی سیکولر ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش ہوئی ۔یہ بات سب جانتے ہیں کہ کوئی چیز اپنے مقصد تخلیق سے ہٹ کر کام کرے تو اس کے وجود کا فائدہ نہیں رہتا !!!!