اشرف صاحب، خوش آمدید۔
شمشاد صاحب کی طرح میں بھی 'بستوی' کی وجہ جاننے کا شوق رکھتا ہوں۔
جناب شمشادصاحب ، 'ناک'کو 'نام 'کر دیں۔ ناک تو ان کی ہماری طرح کی ہی لگتی ہے
اشرف صاحب، خوش آمدید۔
انڈیا کے صوبہ اتر پردیس میں ایک ضلع ہے: بستی۔ بستی کے باشندے ضلع کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ بستوی لکھتے ہیں۔
صاحب انڈیا کی مردم خیز ریاست اترپردیش کے ضلع بستی سے تعلق ہے اس لیے ًبستویً کہلاتا ہوں ،کیسی آزادی کون سی آزادی ایک عرصہ گذر گیا قید و بند کی زندگی بسر کرتے ہوءے ۔ اب تک چودہ بسنت بیت چکے ہیں ، لیکن اس قید میں جو سکون ہے وہ آزادی میں کبھی میسر نہیں ہوا، میرا نیک مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ بھی آزاد ہوں تو جلد کسی ۔۔۔۔ بقیہ آءندہ مراسلت میں
فارقلیط صاحب ملکر بڑی خوشی ہوئی ، لیکن جناب یہ تو بتائیں کہ صحافت راس نہ آنے کی آخر کیا وجہ رہی، منقطع کرنے کا اعلان تکلیف دہ ہے
تلمیذ صاحب ، ہم نے تو یہ سمجھا شاید شمشاد صاحب نام کے لیے "ناک" کی اصطلاح استعمال کرتے ہونگے اس لیے ہم نے ٹوکنا منا سب نہیں سمجھا ،ویسے بھی ہم آپ کی اس بزم نئے جوہیں ۔
محترم عاطف بٹ بھائ، پیغام کےآخر میں جو شعر آپ نے تحریر کیاہے اسے شرافت سے ہٹادیں ورنہ بعض حضرات کی جانب سے "گٹھیا زبان"
صاحب، یہ تو آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں جو وہاں پر رہتے ہیں۔ ویسے میں یہاں پر محفل کے ایک محترم رکن جناب راشد اشرف صاحب کو ٹیگ کر رہاہوں وہ اردو زبان و ادب کے سلسلے ہم سے کہیں بہتر تجربہ رکھتے ہیں اور بھارتی ادبا و مشاہیر اردو زبان سے کافی روابط و مراسم رکھتے ہیں ۔ مجھے امید ہے وہ یہاں آکر یقینا اس موضوع پر سیر حاصل تبصرہ کریں گے۔
کم از کم برا نہیں ہے ، کیوں کہ آپ جیسے کئی ہندوستانی وابستہ ہیں زبان اردو سے۔ البتہ کمپیوٹر اور انٹرنٹ کی دنیا سے ابھی پوری طرح واسطے میں نہیں ہیں سب لوگ۔
اشرف صاحب آپ کی شمولیت ہمارے لئے خوشی کا با عث ہےخوش آمدید۔۔۔آپ کی تحریریں میں پڑھتا رہا ہوں ۔۔۔لیکن یہاں پر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ نے یہ سوال کیونکر کیا ہے ؟اس کا بہتر جواب تو آپ خود ہی دے سکتے ہیں کہ آپ اردو کے سرکاری و غیر سرکاری دونوں اداروں سے واقف ہیں اور صرف واقف ہی نہیں تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔ایسے اگر آپ میری رائے جاننا چاہتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں مستقبل تو کافی روشن ہے۔اس لئے کہ پہلے سے زیادہ اخبارات ،رسائل اور جرائد اب نکل رہے ہیں ،اردو ٹی وی چینلوں کی بھی ہوڑ لگی ہوئی ہے ۔کارپوریٹ گھرانے بھی اردو کی جانب ملطفت ہو رہے ہیں جس کا مقصد صرف روپئے کمانا ہے ظاہر ہے اگر اردو کا مستقبل تاریک ہوتا تو وہ کیونکر اس میں اپنی موٹی موٹی رقمیں خرچ کرتے ۔جاگرن گروپ کا اخبار انقلاب،ای ٹی وی اردو،ذی سلام ،چوتھی دنیا،انڈیا ٹوڈے وغیرہ اسکی چند مثالیں ہیں ۔
@یوسف-2صاحب میرا سلام قبول کیجئے۔