دیکھیے آپ کو اللہ نے کیسے بچایا۔ ہر کام میں اللہ کی کچھ نہ کچھ مصلحت ہوتی ہے بےشک ۔ سارا انٹرویو پڑھ لیا ۔ پیاری گل، تقریبا تمام کے جوابات مل گئے ۔ آپ ہمارے سوال کا چھوٹا سا حصہ شائد بے دھیانی میں مس کر گئیں کہ آپ کے ٹیچنگ سبجیکٹس کون کون سے ہیں؟ مزید یہ کہ ٹیچر کیوں بننا چاہتی ہیں جبکہ ماشااللہ کافی ہنرمند ہیں۔ بزنس کرنے کا کبھی دل میں خیال آیا؟
جی ریاضی اور اردو۔۔۔
لیکن ہم بالکل بھی کوئی سکول ٹیچر نہیں بننا چاہتے۔ کیونکہ ہمارا بنیادی مقصد ایجوکیشنل لیڈر شپ اور مینیجمنٹ سے متعلق سیکھنا تھا۔ اوور سیز کے لئے کچھ کورسز بند کر دئیے گئے ہیں۔
ہمارا اصل مقصد یہاں پر پاکستانی بچوں کو اردو سکھانے کا ہے بطور جاب ہر گز نہیں۔ اس میں ہمیں حکومت کی طرف سے اجازت مل گئی تھی 2020 میں۔ کلاس روم کی سہولت کے ساتھ۔ مگر عملی قدم کورونا کی پابندیوں کی نظر ہو گیا۔ پہلے کبھی پاکستانیوں کو مادری تعلیم حاصل کرنے کی سہولت مہیا کی جاتی تھی لیکن پھر ختم کر دی گئی۔ ہم اپنے طور پر کچھ کرنے کے خواہشمند ہیں ۔ دیکھئیے محنت کیا رنگ لاتی ہے۔
ہاں الحمد للہ ہنر تو اللہ پاک نے کافی دے رکھا ہے ۔۔ کچھ کو ہم ایکٹیویٹی سینٹر میں استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنی بنائی چیزیں یہاں بھی شئیر کرتے رہتے ہیں اکثر۔
اس سب کو پراپر طریقے سے مینیج کر کے بزنس بنایا جا سکتا ہے لیکن پھر ہم رضآکارانہ طور پر شاید ان مستحق لوگوں کو زیادہ ٹائم نہ دے پائیں۔ اس وجہ سے اس خیال کو ادھورا ہی چھوڑے ہوئے ہیں۔
ایک اور کام جو ہم بخوبی کرتے ہیں وہ ہے بیکنگ کا۔۔۔ مختلف مواقع کے لئے مختلف قسم کی بیکنگ۔۔۔ یہ ہے تو بس شوقیہ مگر اچھی خاصی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ ہمیں زیادہ وہ کام کرنا پسند ہے جس میں باہر نہ جانا پڑے اور گھر میں باقی کاموں کے ساتھ ساتھ ہو جائے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم نے ایک ہی وقت میں بہت کچھ پھیلا رکھا ہے اپنے گرد۔۔۔
آپ نے بزنس کی بات کی ہے ۔۔ تو آپ کے خیال میں کیا بزنس کرنا چاہئیے۔۔۔
بیکری کا کیسا رہے گا؟
دیکھئیے کچھ نمونے۔۔۔