انٹرویوآئینے سے باتیں

زبیر مرزا — ستمبر 20، 2014 5:30 صبح
آپ سے انٹرویو سمجھیں یا خودکلامی یا میری ہمت کہ سوال سارے خود سے کرنے ہیں جواب کسی اور کی زبان سے سننے کی خاطر
آپ بھی اس مکالمے میں شرکت کرسکتے ہیں ہمارا یہ دوست بنجاروں کے گیتوں سی باتوں میں بہت سی ان کہی کہہ جائے گا
ظفری وہ کون سے غم ہیں جن کا سایہ دل پہ پڑتا ہے؟
نایاب — ستمبر 20، 2014 2:07 شام
آئینے کے سو ٹکڑے کر کے ہم نے دیکھے
اک میں بھی تنہا ہزار میں بھی اکیلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئینے سے باتیں کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلا تفریق صنف کون ہے ایسا جسے اس عمل سے خوشی نہ ملتی ہو ۔
مکالمے میں شرکت کے لیئے تو ہر دم تیار بیٹھے ہیں ہم ۔
صرف سوال کرنے ہیں خود سے ۔۔۔۔۔؟
یا کسی کو جواب بھی دینا ہے ۔۔۔۔۔؟
مجھے تو آئینہ اکثر ہی یہ سوال کرتا ہے ۔
تو کہ اپنی ذات میں اک انجمن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر اس قدر تنہا کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
زبیر مرزا — ستمبر 20، 2014 2:10 شام
نایاب بھائی وہ سوال جو آپ خود سے کرتے کسی اور سے پوچھیں :)
نایاب — ستمبر 20، 2014 2:13 شام
نایاب بھائی وہ سوال جو آپ خود سے کرتے کسی اور سے پوچھیں :)
سوال کا جواب کسی خاص ہستی سے ہی مطلوب ہونا لازم کہ جو بھی پڑھے وہ جواب دے دے ۔۔۔۔۔۔۔؟
زبیر مرزا — ستمبر 20، 2014 2:16 شام
سوال کا جواب کسی خاص ہستی سے ہی مطلوب ہونا لازم کہ جو بھی پڑھے وہ جواب دے دے ۔۔۔۔۔۔۔؟
آپ کی مرضی پر منحصر ہے آپ اپنا سوال کسی خاص شخص سے چاہتے ہیں تو اس کا نام ٹیگ کردیں ورنہ دعوتِ عام سمجھاجائے گا یعنی کوئی بھی جواب دے سکتا ہے
محمد یعقوب آسی صاحب
محمود احمد غزنوی فلک شیر نیرنگ خیال سید شہزاد ناصر
ظفری — ستمبر 23، 2014 7:06 صبح
ظفری وہ کون سے غم ہیں جن کا سایہ دل پہ پڑتا ہے؟
پتا ہے کبھی کبھی کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ سوالات بہت مشکل ہوتے ہیں ۔ مگر ان کے جوابات بہت آسان ۔
آپ کے سوال کا جواب اتنا آسان ہے کہ اس کا جواب ہر وہ کوئی دے سکتا ہے ۔ جو اس دنیا میں سانس لیتا ہے ۔;)
زبیر مرزا — ستمبر 23، 2014 11:58 صبح
پتا ہے کبھی کبھی کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ سوالات بہت مشکل ہوتے ہیں ۔ مگر ان کے جوابات بہت آسان ۔
آپ کے سوال کا جواب اتنا آسان ہے کہ اس کا جواب ہر وہ کوئی دے سکتا ہے ۔ جو اس دنیا میں سانس لیتا ہے ۔;)
لیکن جواب چاہیے آپ سے :)
محمود احمد غزنوی — ستمبر 25، 2014 8:52 شام
وہ کون سے غم ہیں جن کا سایہ دل پہ پڑتا ہے؟
تو اور آرائشِ خمِ کاکل۔۔۔۔
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
صائمہ شاہ — ستمبر 25، 2014 9:14 شام
پتا ہے کبھی کبھی کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ سوالات بہت مشکل ہوتے ہیں ۔ مگر ان کے جوابات بہت آسان ۔
آپ کے سوال کا جواب اتنا آسان ہے کہ اس کا جواب ہر وہ کوئی دے سکتا ہے ۔ جو اس دنیا میں سانس لیتا ہے ۔;)
انتہائی سیاسی جواب :)
اوشو — ستمبر 25، 2014 10:41 شام
مجھے آئینہ دیکھ کر اکثر ایک شعر یاد آتا ہے۔
آئینہ دیکھ کر جو برا مانتا ہوں میں
اک شخص اور بھی ہے جسے جانتا ہوں میں
محمد یعقوب آسی — ستمبر 26، 2014 10:29 صبح
سَو سوالوں کا ایک سوال

سوال پیدا کیوں کر ہوتا ہے!؟
نایاب — ستمبر 26، 2014 11:01 صبح
سَو سوالوں کا ایک سوال

سوال پیدا کیوں کر ہوتا ہے!؟
شاید کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہجر و تشنگی جب " جہل " کے صحرا میں بھٹکتے کسی سراب میں الجھتے ہیں تو " کب کیسے کیوں " کے سہارے بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اور سوال جنم لے لیتا ہے ۔۔۔۔ سوال ہی زندگی کا سب سے بڑا سچ اور سچی ترین حقیقت ہے ۔ سوال نہ ہوتا تو جواب کی تلاش میں ہلکان کیوں کوئی ہوتا ۔۔۔۔ زندگی میں رنگ کیسے بکھرتے ۔۔۔۔۔۔۔سوال ہی حق ہے ۔۔۔
صائمہ شاہ — ستمبر 26، 2014 11:03 صبح
سَو سوالوں کا ایک سوال

سوال پیدا کیوں کر ہوتا ہے!؟
کسی بھی باشعور ذہن میں علم کی کھاد ڈالیں گے تو سوالوں کی فصل تو پیدا ہوگی :)
صائمہ شاہ — ستمبر 26، 2014 11:09 صبح
آپ کی مرضی پر منحصر ہے آپ اپنا سوال کسی خاص شخص سے چاہتے ہیں تو اس کا نام ٹیگ کردیں ورنہ دعوتِ عام سمجھاجائے گا یعنی کوئی بھی جواب دے سکتا ہے
محمد یعقوب آسی صاحب
محمود احمد غزنوی فلک شیر نیرنگ خیال سید شہزاد ناصر
ویسے زبیر مرزا صاحب یہ آئینے کے ساتھ کھلی زیادتی ہے کہ صرف مرد حضرات کو ہی دعوت دی جائے آئینوں کی بھی جمالیاتی حس ہوتی ہے
محمد یعقوب آسی — ستمبر 26، 2014 11:11 صبح
کسی بھی باشعور ذہن میں علم کی کھاد ڈالیں گے تو سوالوں کی فصل تو پیدا ہوگی :)
تو کیا ہم سمجھ لیں کہ "سوال علم کا حاصل ہے"؟
کہا تو یہ جاتا ہے کہ "علم سوال کا حاصل ہے"۔
مسئلہ یہ ہے کہ سوال اٹھانے کو بھی کچھ نہ کچھ علم درکار ہوتا ہے۔
یہ کسی انداز کی "تکمیلیت پسندی" ہے کیا؟
۔۔۔
صائمہ شاہ — ستمبر 26، 2014 11:11 صبح
لیکن جواب چاہیے آپ سے :)
ظفری سوچتے ہوں گے
" یہ شہرِ ذات بہت ہے اگر بنایا جائے "
صائمہ شاہ — ستمبر 26، 2014 11:12 صبح
تو کیا ہم سمجھ لیں کہ "سوال علم کا حاصل ہے"؟
کہا تو یہ جاتا ہے کہ "علم سوال کا حاصل ہے"۔
مسئلہ یہ ہے کہ سوال اٹھانے کو بھی کچھ نہ کچھ علم درکار ہوتا ہے۔
یہ کسی انداز کی "تکمیلیت پسندی" ہے کیا؟
۔۔۔
جیسا کہ آپ نے کہا " سوال علم کا حاصل ہے " سوال نہیں اٹھیں گے تو علم کیسے حاصل ہو گا :)
محمد یعقوب آسی — ستمبر 26، 2014 11:13 صبح
ویسے زبیر مرزا صاحب یہ آئینے کے ساتھ کھلی زیادتی ہے کہ صرف مرد حضرات کو ہی دعوت دی جائے آئینوں کی بھی جمالیاتی حس ہوتی ہے
اس میں مرزا صاحب کا ایک اور تحفط بھی کار فرما ہے، در اصل
تابِ نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے
۔۔۔۔۔۔۔ (مومن)​
۔۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 26، 2014 11:16 صبح
جیسا کہ آپ نے کہا " سوال علم کا حاصل ہے " سوال نہیں اٹھیں گے تو علم کیسے حاصل ہو گا :)

میری اس گزارش کے چار حصے ہیں۔
تو کیا ہم سمجھ لیں کہ "سوال علم کا حاصل ہے"؟
کہا تو یہ جاتا ہے کہ "علم سوال کا حاصل ہے"۔
مسئلہ یہ ہے کہ سوال اٹھانے کو بھی کچھ نہ کچھ علم درکار ہوتا ہے۔
یہ کسی انداز کی "تکمیلیت پسندی" ہے کیا؟
۔۔۔

میں ان کو الگ الگ نہیں کر پا رہا۔ کچھ اعانت چاہتا ہوں۔
صائمہ شاہ — ستمبر 26، 2014 11:23 صبح
میری اس گزارش کے چار حصے ہیں۔
میں ان کو الگ الگ نہیں کر پا رہا۔ کچھ اعانت چاہتا ہوں۔
آپ ایک کتاب پڑھتے ہیں قرآن کی ہی مثال لے لیجیے آپ نے علم کی طرف پہلا قدم بڑھایا پھر اس پہلے قدم نے آپ کو سوال اٹھانے پر مجبور کیا اس علم کو سمجھنے کے لئے آپ نے مزید سوال کئے تفسیر کا علم حاصل کیا تجوید کا سہارا لیا مختلف تراجم کی کتب پڑھیں تو گویا علم نے سوال کیا اور علم سے ہی جواب ملا
بغیر علم اور شعور کے سوال تو نہیں اٹھایا جاسکتا تو سوال علم کا حاصل ہو نہ ہو علم کے حصول کا بہترین ذریعہ ضرور ہے
ادھورا علم اتنا ہی خطرناک ہوتا ہے جتنا ادھورا طبیب اور میری نظر میں سوال کے بغیر علم ادھورا ہی رہتا ہے یا پھر بہت تشنہ اور محدود
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA.77680/