اجتماعی انٹرویوسوال نمبر 10

زیک — جنوری 7، 2009 7:45 شام
یہ ایوارڈ یافتہ سلسلہ پھر سے شروع کیا جا رہا ہے۔ چونکہ کئ ارکان کی نظر سے یہ سلسلہ پہلے نہیں گزرا ہو گا اور کچھ بھول چکے ہوں گے اس لئے پہلی تھریڈ‌ سے تعارف نقل کر رہا ہوں:
سوچا یہ ہے کہ یہاں تمام ارکان کو جاننے کا کوئی طریقہ اپنایا جائے۔ سو اس فورم میں باقاعدگی سے نیا تھریڈ شروع کیا جائے گا جس میں ایک سوال پوچھا ہو گا۔ اور تمام ممبران کو اس کا جواب دینا ہے۔ آپ کی شرکت ہی اس سلسلے کو کامیاب بنا سکتی ہے۔ لہذا پلیز سوال کا جواب ضرور دیں۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے جو آپ اس سیریز میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو مجھے ذاتی پیغام بھیجیں تاکہ اگلا سوال آپ پوسٹ کر سکیں۔

تو آج کا سوال یہ ہے:
آپ کے پاس ٹائم مشین ہے (جی ہاں میرے بہت سے سوالوں میں ٹائم ٹریول شامل ہے :) ) اور آپ 13.7 ارب سال پہلے کائنات کے بننے سے لیکر آج تک کے کسی بھی زمانے میں جا سکتے ہیں۔ وہاں جا کر آپ کو کسی ایک تاریخی واقعے کو روکنا یا بدلنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے اس زمانے سے لیکر آج تک کی تاریخ بدل جائے گی۔ سو یہ بتائیں کہ آپ کس واقعے کو تبدیل کریں گے اور کیوں؟ اور اس سے موجودہ زمانے پر کیا اثر پڑے گا؟
عزیزامین — جنوری 7، 2009 8:01 شام
میں اس وقت میں جانا چاہوں گا جب میرا بلاگ ٹھیک تھا
تعبیر — جنوری 7، 2009 8:53 شام
میں اس وقت میں جانا چاہوں گا جب میرا بلاگ ٹھیک تھا

:laugh: :laugh: :laugh:
اور اس سے موجودہ زمانے پر کیا اثر پڑے گا؟

زیک نے یہ بھی پوچھا ہے ساتھ میں
زیک اپ بھی جواب لکھیں تاکہ مجھے کچھ آئیڈیا ہو :confused:
عزیزامین — جنوری 8، 2009 2:31 صبح
موجودہ حلات میں میں خوش ہو جاوں گا کہ میری محنت کا کچھ حاصل ہوا
محمدصابر — جنوری 8، 2009 4:40 صبح
کیا شیطان کو مارنے کا اختیارملے گا؟
محمد وارث — جنوری 8، 2009 11:39 صبح
میں اس آوارہ گرد ستارے کا رخ موڑنا چاہوں گا جو "ہمارے" سورج کے قریب آ کر ہلچل مچا گیا تھا تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری!
زیک — جنوری 8، 2009 5:00 شام
زیک اپ بھی جواب لکھیں تاکہ مجھے کچھ آئیڈیا ہو :confused:

میں آج سے کوئ ستر ہزار سال پہلے جانا چاہوں گا جب انسانوں کا پہلا گروہ افریقہ سے ایشیا منتقل ہوا تھا اور انہیں سمجھاؤں گا کہ افریقہ چھوڑنے کی کوئ ضرورت نہیں :grin:
اس کا کیا اثر ہو گا؟ ممکن ہے کہ آج تک انسان صرف افریقہ ہی میں رہتا ہوتا اور ہماری ساری تاریخ ہی مختلف ہوتی۔ مگر اغلب یہ ہے کہ وہ گروہ اگر افریقہ نہ چھوڑتا تو کوئ اور گروہ یہ ہجرت کرتا اور انسانی تاریخ پر کوئ خاص فرق نہ پڑتا۔
طارق راحیل — فروری 8، 2009 8:17 صبح
1 اپریل 2007 میری دوست سے ملاقات کا آکری دن
عزیزامین — فروری 8، 2009 4:47 شام
8 امارچ 2007 میری دوست داود سے آخری فون کال
تیشہ — فروری 8، 2009 5:14 شام
8 امارچ 2007 میری دوست داود سے آخری فون کال

2008
میں مجھے آئی تھی داود ص کی کال :party:
کہہ رہے تھے امین ص کو سلام بولئیے گا ، اور بتا دیجئے گا انکو کہ میں دوستی توڑ رہا ہوں کہ امین ص بہت تنگ ، اور بہت بور کرتے ہیں
:chatterbox: :notworthy:
عزیزامین — فروری 8، 2009 5:17 شام
شاید یہ بات سچ بھی ہو
تیشہ — فروری 8، 2009 5:21 شام
شاید یہ بات سچ بھی ہو

:worried:
سچ بھی ہو ۔؟ کیا مطلب ؟ :confused:
سو فیصد سچ ہی ہے ۔ میں نے کبھی پہلے جھوٹ بولا ہے جو اب بولوں گی :battingeyelashes:
زیک — فروری 9، 2009 6:22 صبح
1 اپریل 2007 میری دوست سے ملاقات کا آکری دن

8 امارچ 2007 میری دوست داود سے آخری فون کال

ان کا سوال سے کیا تعلق ہے؟
طالوت — فروری 9، 2009 6:40 صبح
میں سیدنا عمر کی شہادت کے دن کو واپس جانا چاہوں گا اور اس افسوسناک سانحہ کو روکنا چاہوں گا ۔۔ کیونکہ عربی/عجمی علاقوں کی فتوحات کے بعد ان نو مسلموں کی تربیت کا ابھی ٹھیک سے انتظام نہیں ہو پایا تھا کہ سیدنا کی شہادت ہو گئی اور ان کے بعد کوئی ایسا طاقت ور اور دور اندیش امیر نہ آ سکا جو ان سازشوں کا قلع قمع کر سکتا جن کی بتدریج کامیابیوں کے بعد مسلمان اور اسلام کا نقشہ ہی بگڑ کر رہ گیا ۔۔ یقینا اگر سیدنا عمر 8/10 سال اور حکومت کر جاتے تو تاریخ کچھ اور ہی ہوتی اور ہمارا حال بھی ۔۔ کہ ایک ایسی مسلم ریاست وجود میں آتی جو محض طاقتور ہی نہ ہوتی بلکہ اس کا اخلاق و کردار بھی بلند ہوتا اور وہ صحیح معنوں میں انسانیت کی نمائندہ ریاست ہوتی ۔۔ اور اس کا محض چند عشروں میں حصے بضرے کرنا ممکن نہ رہتا ۔۔
وسلام
حمنہ — جنوری 31، 2010 6:18 شام
میں اس زمانے کو واپس لاؤں گی جب لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت تھی عزت تھی پیار تھا اور آج کی جنریشن کو دکھاؤں گی کہ دیکھو اور تم سب بھی کوئی سبق حاصل کرو
شعیب صفدر — جنوری 31، 2010 6:55 شام
میں‌ انسانی تاریخ کے پہلے قتل کو روکنا چاہوں‌گا یوں‌کم از کم محبت کے نام پر قتل کا رواج تو نہ پڑٹا!!
مگر پھر مُردوں‌کو دفنانے کا طریقہ کیسے دریافت ہوتا؟‌یہ سوچنا آُ کا کام ہے
فہد اشرف — دسمبر 25، 2016 7:13 صبح
1948 میں جا کے قیام اسرائیل کو روکنا اثر یہ ہوتا کہ مشرق وسطی میں امن رہتا
ظہیر عباس ورک — دسمبر 25، 2016 9:58 صبح
میں تو جی سیدا اس وقت میں جانا چاہوں گا جب ہمارے پیارے مولا کریم ہمارے بابا جی حضرت آدم علیہ سلام کو تخلیق فرما رہے تھے اور فرشتوں میں یہ بحث گرم تھی کہ یہ زمین پر جا کر فتنہ و فساد برپا کرے گا، اودھم مچائے گا، قتل و غارت گری کرے گا اور ذات باری تعالٰی سے انھیں یہ جواب مل رہا تھا کہ جو میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔
اس وقت میں اللہ تعالٰی سے صرف اتنی سی گزارش کرنے کی جسارت کرتا کہ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ جو آپ جانتے ہیں کوئی اور نہیں جانتا۔لیکن!
میری بس اتنی سی التجا قبول فرمائیے کہ یہ جو فرشتے جانتے ہیں کم از کم یہ حقیقت کا روپ نہ دھارنے پائے۔
اس سے یہ فرق پڑتا کہ موجودہ دور کے انسان نے یہ جو اودھم مچا رکھا ہے، یہ جو قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی قومیت کے نام پر ،تو کبھی جغرافیائی حدود کے نام پر، اس سے کم از کم انسانیت بچی رہتی اور حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو یہ شعر لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی!
روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو ، مجھ کو بھی شرمسار کر
اس ارتقاء کا نہ جانے ذوال کیا ہو گا
بشر کی کوئی صفت آج کے بشر میں نہیں
اس شعر کے خالق کو اگر کوئی جانتا ہو تو مطلع فرمائیں۔شکریہ!
طاہر راجپوت ملتان — جنوری 2، 2017 11:05 شام
خوب. اچھا سوال ھے شوق و سوچ کی صیحح عکاسی کرتا ہے
تو جناب من
میں اس وقت میں جانا چاھوں گا جب مشرقی اور مغربی پاکستان الگ ھووے تھے کچھ سیاسی بوسیدہ عناصر کی وجہ سے میں وہ عناصر ختم کر کے پاکستان کو اس وقت کے حقیقی دھچکے سے نکال کر موجودہ سطح سے کھہیں اونچے درجے پر لے کے آنا چاھوں گا. ☺

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1-10.18042/