کاشف اختر — اکتوبر 20، 2015 3:39 شام
میرا نام محمد کاشف اختر، میں صوبہ جھارکھنڈ کے ایک چھوٹے سے گمنام قریہ 'چکولیہ' کا باشندہ ہوں، میری پیدائش 1993 جنوری ۔ 8 کو بمقام' گیا ' صوبہ بہار میں ہوئی ۔۔۔
3۔۔۔۔۔میری تعلیم بہت مختصر ہے ۔۔انگلش میڈیم اسکول سے 6 کلاس پاس کی پھر حفظ قرآن مجید کے لیے مدرسے میں داخل کیا گیا ۔۔۔۔اور حفظ کی تکمیل کی ۔۔ ۔۔ اس کے بعد ایک سال فارسی پڑھ کر عربی درجات کی تکمیل کی ۔۔۔۔۔سال سوم میں مولانا ولی اللہ ولی قاسمی بستوی کی رفاقت میسر ہوئی ۔حضرت کے شاعرانہ ذوق نے مجھے بے حد متاثر کیا ۔۔ اور اردو کا دلدادہ بنا دیا ۔۔ ادب کی ترویج و ترقی کے لئے میں اپنی کم علمی اور بے بضاعتی سے کچھ کر نہیں سکتا تاہم میرے دل میں راہ ادب کیلئے چراغ لہو جلانے کا حوصلہ موجود ہے اور مرور ایام کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے ۔۔ اس لئے کہ فکر و نظر کا اجالا اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔
بقول نذیر فتح پوری
اجالا فکر و نظر کا اسی نے پایا ہے
ادب کی راہ میں جس نے لہو جلایا ہے
طالب كشميري — اکتوبر 20، 2015 4:17 شام
خوش آمديد
عبیداللہ عبید — اکتوبر 20، 2015 4:35 شام
میرا نام محمد کاشف اختر، میں صوبہ جھارکھنڈ کے ایک چھوٹے سے گمنام قریہ 'چکولیہ' کا باشندہ ہوں، میری پیدائش 1993 جنوری ۔ 8 کو بمقام' گیا ' صوبہ بہار میں ہوئی ۔۔۔
3۔۔۔۔۔میری تعلیم بہت مختصر ہے ۔۔انگلش میڈیم اسکول سے 6 کلاس پاس کی پھر حفظ قرآن مجید کے لیے مدرسے میں داخل کیا گیا ۔۔۔۔اور حفظ کی تکمیل کی ۔۔ ۔۔ اس کے بعد ایک سال فارسی پڑھ کر عربی درجات کی تکمیل کی ۔۔۔۔۔سال سوم میں مولانا ولی اللہ ولی قاسمی بستوی کی رفاقت میسر ہوئی ۔حضرت کے شاعرانہ ذوق نے مجھے بے حد متاثر کیا ۔۔ اور اردو کا دلدادہ بنا دیا ۔۔ ادب کی ترویج و ترقی کے لئے میں اپنی کم علمی اور بے بضاعتی سے کچھ کر نہیں سکتا تاہم میرے دل میں راہ ادب کیلئے چراغ لہو جلانے کا حوصلہ موجود ہے اور مرور ایام کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے ۔۔ اس لئے کہ فکر و نظر کا اجالا اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔
خوش آمدید محمد کاشف اختر صاحب
عربی ذوق کتنا ہے ؟ کیا حضرت نے عربی ادب کا ذوق بیدار نہیں فرمایا یا آپ نے خود تھپتھپا کر سلایا ہے ؟
تجمل حسین — اکتوبر 20، 2015 4:38 شام
خوش آمدید۔
حمیرا عدنان — اکتوبر 20، 2015 4:44 شام
خوش آمدید محمد کاشف جی
ادب دوست — اکتوبر 20، 2015 4:45 شام
خوش آمدید
خوش آمدید
کاشف اختر — اکتوبر 20، 2015 6:12 شام
خوش آمدید محمد کاشف اختر صاحب
عربی ذوق کتنا ہے ؟ کیا حضرت نے عربی ادب کا ذوق بیدار نہیں فرمایا یا آپ نے خود تھپتھپا کر سلایا ہے ؟
ابتدا میں عربی کا ذوق بہت کافی نمایاں تھا ۔۔۔۔اس وقت اردو کوئی اہمیت میرے ذہن و دماغ پر چھائی ہوئی نہیں تھی ۔۔۔رفتہ رفتہ اردو سے مناسبت ہوتی گئی اور میرے دل میں اس کی محبت بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔ بالآخر اردو کے مقابلے میں عربیت کا ذوق کم ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔
کاشف اختر — اکتوبر 20، 2015 6:36 شام
شکریہ ۔۔۔۔۔ آپ حضرات کی حوصلہ افزائی کا
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 20، 2015 7:00 شام
خوش آمدید کاشف بھائی
یوسف سلطان — اکتوبر 20، 2015 7:27 شام
اردو محفل میں خوش آمدید
محمدظہیر — اکتوبر 20، 2015 7:31 شام
خوش آمدید کاشف صاحب
عندلیب — اکتوبر 20، 2015 7:33 شام
خوش آمدید!

فاروق احمد بھٹی — اکتوبر 20، 2015 7:35 شام
اردو محفل میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں امید ہے آپ کو وقت محفل میں اچھا گزرے گا۔
محمد وارث — اکتوبر 21، 2015 6:40 صبح
خوش آمدید کاشف صاحب
x boy — اکتوبر 21، 2015 7:32 صبح
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خوش آمدید
آپ سے آج کچھ لفظ سیکھنے کو مل گیا" چراغ لہو، مرور ایام" ۔
بہت شکریہ
کاشف اختر — اکتوبر 21، 2015 11:29 صبح
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خوش آمدید
آپ سے آج کچھ لفظ سیکھنے کو مل گیا" چراغ لہو، مرور ایام" ۔
بہت شکریہ
ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے! وہ یہ کہ " میں اس فورم میں بحیثیت طالب علم شامل ہوا ہوں ۔۔مجھے اردو لکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔اور شاعری کا بھی ۔۔۔۔لیکن میں اردو کے تعلق سے احساس کمتری کا شکار ہوں ۔۔۔۔ہمیشہ تذبذب میں پڑا رہتا ہوں کہ پتہ نہیں میری تحریر میں کیا کیا کمیاں ہیں ۔۔۔کہیں لوگ اسے پڑھ کر میرا مذاق تو نہیں اڑائیں گے ۔۔۔ اس لئے اگر کسی غلطی پر مطلع ہوں تو مجھے ضرور بتائیں ۔۔۔۔
ویسے آپ حضرات کی حوصلہ افزائی کا بے حد ممنون ہوں۔۔۔۔
کاشف اختر — اکتوبر 21، 2015 12:56 شام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خوش آمدید
آپ سے آج کچھ لفظ سیکھنے کو مل گیا" چراغ لہو، مرور ایام" ۔
بہت شکریہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
عمر سیف — اکتوبر 21، 2015 4:54 شام
x boy — اکتوبر 22، 2015 7:28 صبح
ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے! وہ یہ کہ " میں اس فورم میں بحیثیت طالب علم شامل ہوا ہوں ۔۔مجھے اردو لکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔اور شاعری کا بھی ۔۔۔۔لیکن میں اردو کے تعلق سے احساس کمتری کا شکار ہوں ۔۔۔۔ہمیشہ تذبذب میں پڑا رہتا ہوں کہ پتہ نہیں میری تحریر میں کیا کیا کمیاں ہیں ۔۔۔کہیں لوگ اسے پڑھ کر میرا مذاق تو نہیں اڑائیں گے ۔۔۔ اس لئے اگر کسی غلطی پر مطلع ہوں تو مجھے ضرور بتائیں ۔۔۔۔
ویسے آپ حضرات کی حوصلہ افزائی کا بے حد ممنون ہوں۔۔۔۔
کچھ بھی آتا ہو لکھ ڈالیں، اسکول کے زمانے میں اساتذہ کرام کہا کرتے تھے کہ سوال کا جواب اپنے لفظوں میں لکھیں، مطلب آپ کو جو سمجھ آیا وہ لکھیں،، کتابی نہ ہو، رٹآ رٹایا نہ ہو،، اسکے لئے تو طوطا مینا ہے کافی ہے۔ بس جو جی چاہے اخلاقیات کو مدنظر نظر رکھتے ہوئے لکھتے جائے، ویسے منٹو کی کتابیں پڑھنے سے بچا بھی جوان ہو جاتا گو کہ بچوں کو اس کی سمجھ نہیں۔ اس لئے مخفی کلام بھی ایسی ہونی چاہیے جس سے تعثر یہ بنے کہ ہم سب معاشرے کے عزت دار باسی ہیں۔
نادر علی — نومبر 8، 2015 1:25 شام