اجتماعی انٹرویو کے سلسلے کا چھوتھا سوال یہ ہے کہ سوال: ذہنی سکون کے لیے آپ کیا کرتے ہیں
جیسے کچھ لوگ میوزک سنتے ہیں، کچھ تمباکو نوشی کرتے ہیں کچھ چائے ، کافی سے شغل کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ویسے میں خود کسی کرسی یا پھر گاؤ تکیے سے اپنی پشت ٹکا کر اور آنکھیں بند کرکے زہن کو خیالات سے آزاد رکھنے کی کوشش کرتا ہوں
بلال — مارچ 29، 2008 11:56 صبح
دوستوں میں چلا جاتا ہوں اور گپ شپ کرتا ہوں۔ یا پھر کسی تفریحی مقام کی طرف نکل پڑتا ہوں۔۔۔ لیکن اللہ تعالٰی کا خاص کرم اور شکر ہے کہ ایسی نوبت بہت کم ہوتی ہے۔۔۔
زیک — مارچ 29، 2008 12:49 شام
لمبی ڈرائیو، کمپیوٹر گیم، فلم یا مطالعہ۔
باسم — مارچ 29، 2008 1:41 شام
سوجاتا ہوں
محمد سعد — مارچ 29، 2008 5:47 شام
نیند سے بہتر شاید ہی کوئی طریقہ ہو۔
ابن سعید — مارچ 29، 2008 5:55 شام
عموماً کمپیوٹنگ کے کسی پروجیکٹ پر کام شروع کر دیتا ہوں۔ تھوڑی دیر میں سب کچھ بھول جاتا ہوں۔ پر ایسے مواقع بہت کم آئے ہیں۔
شمشاد — مارچ 29، 2008 6:46 شام
اللہ کو یاد کر کے سونے کی کوشش کرتا ہوں۔
فاروق سرور خان — مارچ 29، 2008 7:21 شام
لبی ڈرائیو معہ موسیقی، نماز، مطالعہ
شعیب خالق — مارچ 29، 2008 7:34 شام
سو جا تا ہوں
راسخ کشمیری — مارچ 29، 2008 9:52 شام
کسی ایسے موضوع پر مطالعہ جو ذہن کو سکون بخشے۔
ویسے وضو کرکے اچھی سی آواز میں آذان یا تلاوت سننےسےبھی کافی افاقہ ہوجاتا ہے۔
تعبیر — مارچ 30، 2008 12:11 صبح
مسئلے کی نوعیت پر ہے بعض اوقات بات چیت سے ورنہ دو نفل پڑھ کر اللہ سے شکوہ شکایات اور مدد سے
ماوراء — مارچ 30، 2008 12:33 صبح
ویسے تو اللہ کا شکر ذہنی سکون ہی سکون ہے۔۔لیکن اگر کبھی کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ ہوبھی تو۔۔۔اللہ میاں سے ذرا گپ شپ لگا لیتی ہوں۔ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ جاؤں تو سب اچھا ہو جاتا ہے یا پھر ایسی جگہ جہاں پر خاموشی ہو، چلی جاتی ہوں۔
محمد سعد — مارچ 30، 2008 9:41 صبح
نہ دنیا سے، نہ دولت سے، نہ گھر آباد کرنے سے
تسلی دل کو ہوتی ہے خدا کو یاد کرنے سے۔۔۔
خرم — مارچ 30، 2008 1:01 شام
علیحدگی میں اللہ کی طرف رجوع اور درود شریف۔
یاز — مارچ 30، 2008 3:37 شام
کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتا ہوں۔ عموما'' تاریخ سے متعلق یا پھر کوئی جاسوسی ناول
جہانزیب — مارچ 30، 2008 5:17 شام
کمپیوٹر پر نیٹسرفنگ
damsel — مارچ 30، 2008 11:03 شام
صرف اپنے ساتھ وقت گزارتی ہوں اور سوچتی ہوں اگر کوئی پریشانی ہوتی ہے تو خود سے ڈسکس کرتی ہوں اور اگر حل نہ ملے تو ہائی کورٹ میں یعنی اللہ کے دربار میں پیش کر دیتی ہوں
فرخ منظور — مارچ 31، 2008 6:26 صبح
اچھی موسیقی سنتا ہوں اور غالب یا ن۔م۔ راشد کو پڑھتا ہوں - سارا ڈیپریشن غائب
محمد وارث — اپریل 13، 2008 5:20 شام
مطالعہ اور میوزک
ابو کاشان — جون 24، 2008 8:42 صبح
کمپیوٹر کا استعمال، اپنے بیٹے سے کھیلنا، مطالعہ،
کچھ زیادہ ذہنی سکون چاہیئے ہوتا ہے تو عمرہ پر چلا جاتا ہوں۔ ساری فکروں سے آذاد۔ (یہ ترغیب کے لیئے بتایا ہے نا کہ نمود کے لیئے )