یہ میں نے یہاں تو نہیں لکھا تھا ؟

یہ میں نے یہاں تو نہیں لکھا تھا ؟

نہیں جنااب۔۔۔۔ 1958۔۔۔ جون ایلیا نے پاکستان آنے کے بعد ایک رسالہ "انشا" کے نام سے شروع کیا تھا جس کے وہ مدیر بھی تھے۔ یہ مضموں پہلی بار 1958 میں اس میں شائع ہوا تھا۔
نیرنگ بھائی، جون ایلیا کی بدنامی کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آئی
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
کہیں پڑھا تھا کہ وہ کمیونسٹ تھے اور کسی قدر انارکسٹ بھی۔
ان کی تحاریر پڑھیں اور اپنی رائے قائم کریں۔۔۔ لوگوں کو چھوڑیں لوگوں کا کام ہے کہنا۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے،،، ہم آپ کا لکھا پڑھتے ہیں،،، آواز نہیں سنتے ہیں،،،، اور جب سے چھپا رستم دیکھا ہے ،،، ہر جملہ کو توڑ توڑ کر دیکھنے لگے ہیں۔
یہ چھپا رستم کیا چیز ہے سر۔۔۔۔ واقعی غلطی مجھ سے ہوئی کہ میں نے بات اسی انداز میں تحریر کی ہے جیسے لکھنے کی بجائے بول رہا ہوں۔
موت کے بعد تو نام ہی نام ہے جون ایلیا کا۔۔۔
ہاہاہا ۔۔ غالب کا مذہب بنا ہے آج تک ؟
غالب کو بھی اکثر لوگ دہریہ مانتے ہیں اور اسے بھی مرنے کے بعد ہی زیادہ شہرت نصیب ہوئی ۔۔۔ (ہمارے ہاں مرا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے
آپ جن بچوں کی بات کر رہے ہیں انہوں نے جون کی نثر نہیں پڑھی۔۔۔ جون کو سمجھنے کے لیئے جو فہم چاہیئے وہ کم علم اور غیر سنجیدہ لوگوں کے پاس نہیں ہو سکتا ۔۔۔
سارہ بہن جی۔ کیسی فہم اور کون سی فہم؟ جون ایلیا صاحب کا قلم الحاد اور کائناتِ و زندگی سے بیزار منکرِ نظام قدرت ہی کا شاہکار رہا۔ ان کی نسبت ان کے برادر جناب رئیس امروہوی مرحوم، ان سے ہر لحاظ سے بہتر اور معتبر سخنور تھے
امرہوی کی شاعری سے قطع نظر ان کی نثر بھی آپ کی نظروں سے گزری ہوگی۔ جنسیات اور نفسیات و مابعد نفسیات یقینی طور پر امروہوی کا کارنامہ ہے۔ علاوہ ازیں "من عرف نفسہ" کا ادارہ بھی وہ کامیابی سے چلاتے رہے۔ عجائب نفس بھی چار جلدوں پر محیط ایک اچھی کتاب ہے۔۔۔ لیکن موضوعات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کسی کو کسی سے بہتر قرار دینے کے لیے موضوع کا مشترک ہونا بےحد ضروری ہے۔ ایک اگر گھوڑے پر اچھا مضمون لکھتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ کار ڈرفٹنگ پر بھی اس کی نظر اتنی ہی کامل ہو۔ اور ان کے تیسرے بھائی سید محمد تقی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟