اقتباسات از جون ایلیا

سارہ خان — جنوری 18، 2016 7:06 شام
جون ایلیا کی باتیں دل کو لگتی ہیں ۔۔۔
یہ میں نے یہاں تو نہیں لکھا تھا ؟ :confused1:
نیرنگ خیال — جنوری 19، 2016 6:35 صبح
نہیں جنااب۔۔۔۔ 1958۔۔۔ جون ایلیا نے پاکستان آنے کے بعد ایک رسالہ "انشا" کے نام سے شروع کیا تھا جس کے وہ مدیر بھی تھے۔ یہ مضموں پہلی بار 1958 میں اس میں شائع ہوا تھا۔ :)
اگر کہتے ہیں تو کتاب سے صفحے کی تصویر لے کر اٹیچ کر دوں حوالے کے لیے۔۔۔۔
arifkarim — جنوری 19، 2016 6:38 صبح
نہیں جنااب۔۔۔۔ 1958۔۔۔ جون ایلیا نے پاکستان آنے کے بعد ایک رسالہ "انشا" کے نام سے شروع کیا تھا جس کے وہ مدیر بھی تھے۔ یہ مضموں پہلی بار 1958 میں اس میں شائع ہوا تھا۔ :)
اگر کہتے ہیں تو کتاب سے صفحے کی تصویر لے کر اٹیچ کر دوں حوالے کے لیے۔۔۔۔
نیرنگ بھائی، جون ایلیا کی بدنامی کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آئی
نیرنگ خیال — جنوری 19، 2016 6:39 صبح
نیرنگ بھائی، جون ایلیا کی بدنامی کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آئی
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
arifkarim — جنوری 19، 2016 6:43 صبح
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
کہیں پڑھا تھا کہ وہ کمیونسٹ تھے اور کسی قدر انارکسٹ بھی۔
نیرنگ خیال — جنوری 19، 2016 6:51 صبح
کہیں پڑھا تھا کہ وہ کمیونسٹ تھے اور کسی قدر انارکسٹ بھی۔
ان کی تحاریر پڑھیں اور اپنی رائے قائم کریں۔۔۔ لوگوں کو چھوڑیں لوگوں کا کام ہے کہنا۔۔۔۔
محمد اسلم — جنوری 19، 2016 7:30 صبح
وہ تو ٹھیک ہے،،، ہم آپ کا لکھا پڑھتے ہیں،،، آواز نہیں سنتے ہیں،،،، اور جب سے چھپا رستم دیکھا ہے ،،، ہر جملہ کو توڑ توڑ کر دیکھنے لگے ہیں۔
نیرنگ خیال — جنوری 19، 2016 9:43 صبح
وہ تو ٹھیک ہے،،، ہم آپ کا لکھا پڑھتے ہیں،،، آواز نہیں سنتے ہیں،،،، اور جب سے چھپا رستم دیکھا ہے ،،، ہر جملہ کو توڑ توڑ کر دیکھنے لگے ہیں۔
یہ چھپا رستم کیا چیز ہے سر۔۔۔۔ واقعی غلطی مجھ سے ہوئی کہ میں نے بات اسی انداز میں تحریر کی ہے جیسے لکھنے کی بجائے بول رہا ہوں۔ :)
سارہ خان — جنوری 19، 2016 1:34 شام
نیرنگ بھائی، جون ایلیا کی بدنامی کی وجہ آج تک سمجھ نہیں آئی
موت کے بعد تو نام ہی نام ہے جون ایلیا کا۔۔۔
بہت زیادہ سچ بولنے والے مخالفت کا سامنا تو کرتے ہیں ۔۔ بدنام تو احمد فراز اور فیض بھی تھے ۔۔
محمد امین — جنوری 19، 2016 1:36 شام
موت کے بعد تو نام ہی نام ہے جون ایلیا کا۔۔۔
بہت زیادہ سچ بولنے والے مخالفت کا سامنا تو کرتے ہیں ۔۔ بدنام تو احمد فراز اور فیض بھی تھے ۔۔

مجھے تو اب لگنے لگا ہے کہ جون ایلیاء کے نام کا مذہب بننے والا ہے۔ جس طرح لوگ چاہنے لگے ہیں اب ان کو۔۔۔
سارہ خان — جنوری 19، 2016 1:45 شام
مجھے تو اب لگنے لگا ہے کہ جون ایلیاء کے نام کا مذہب بننے والا ہے۔ جس طرح لوگ چاہنے لگے ہیں اب ان کو۔۔۔
ہاہاہا ۔۔ غالب کا مذہب بنا ہے آج تک ؟
محمد امین — جنوری 19، 2016 2:00 شام
ہاہاہا ۔۔ غالب کا مذہب بنا ہے آج تک ؟

غالب کا دور اتنا پرفتن نہیں تھا۔ جون ایلیاء نے تمام عمر جن نظریات کی تبلیغ کی، ان کے جانے کے بعد لوگوں کو ان میں مزید راہیں نکالنے کا موقع حسبِ ذائقہ اور توفیق مل رہا ہے۔ جون خود کو برملا دہریہ کہتے تھے، کھلم کھلا بیباکانہ مذہبی سوالات بھی اٹھا دیا کرتے تھے اور حسین کے مرثیے بھی لکھتے تھے۔ مجھے لگتا ہے "فلائنگ اسپے گیٹی مونسٹر" Flying Spaghetti Monster جیسا کوئی مذہب بننے والا ہے جون ایلیاء کے نام پر :p
سارہ خان — جنوری 19، 2016 2:13 شام
غالب کا دور اتنا پرفتن نہیں تھا۔ جون ایلیاء نے تمام عمر جن نظریات کی تبلیغ کی، ان کے جانے کے بعد لوگوں کو ان میں مزید راہیں نکالنے کا موقع حسبِ ذائقہ اور توفیق مل رہا ہے۔ جون خود کو برملا دہریہ کہتے تھے، کھلم کھلا بیباکانہ مذہبی سوالات بھی اٹھا دیا کرتے تھے اور حسین کے مرثیے بھی لکھتے تھے۔ مجھے لگتا ہے "فلائنگ اسپے گیٹی مونسٹر" Flying Spaghetti Monster جیسا کوئی مذہب بننے والا ہے جون ایلیاء کے نام پر :p
غالب کو بھی اکثر لوگ دہریہ مانتے ہیں اور اسے بھی مرنے کے بعد ہی زیادہ شہرت نصیب ہوئی ۔۔۔ (ہمارے ہاں مرا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے :p) ۔۔ اور غالب اور جون کا ویسے کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔۔ غالب کی برابری کوئی نہیں کر سکا آج تک ۔۔۔
جون کو اتنی پذیرائی اسکی زندگی میں ملتی تو کچھ عرصہ اور جی جاتا ۔۔۔
باباجی — جنوری 19، 2016 2:19 شام
جو جس کے من کو بھائے گا ۔۔ جس کے دل کو چھوئے گا ۔۔ لوگ اسی کو زیادہ پسند کریں گے
لیکن میراخیال ہے جون کو اس کے مرنے کے بعد کچھ زیادہ ہی غیر معمولی پذیرائی مل گئی
کیونکہ ان کو نئے زمانے کے نو آموز شاعر زیادہ پسند کررہے ہیں کیونکہ ان کا انداز بیاں آسان فہم ہے
جبکہ غالب کو پڑھنے والوں میں آج بھی اکثریت زیادہ عمر کے لوگوں کی ہے کیونکہ جوں جوں عقل و فہم بڑھتی ہے غالب سمجھ آنے لگتا ہے
محمد امین — جنوری 19، 2016 2:21 شام
غالب کو بھی اکثر لوگ دہریہ مانتے ہیں اور اسے بھی مرنے کے بعد ہی زیادہ شہرت نصیب ہوئی ۔۔۔ (ہمارے ہاں مرا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے :p) ۔۔ اور غالب اور جون کا ویسے کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔۔ غالب کی برابری کوئی نہیں کر سکا آج تک ۔۔۔
جون کو اتنی پذیرائی اسکی زندگی میں ملتی تو کچھ عرصہ اور جی جاتا ۔۔۔

جی بالکل غالب اور جون دو مختلف شخصیات اور شعراء تھے۔ غالب کو مرنے کے بعد شہرت ملی وہ یوں کہ ذرائعِ ابلاغ موجود نہ تھے اور اردو میں طباعت و نشر و اشاعت دوسری زبانوں کے مقابلے میں پسماندہ ہی رہی ہے۔ لیکن پھر بہرحال جیسے دیے سے دیا جلتا ہے شہرت اسی طرح ملتی تھی پچھلے زمانے میں۔ آج کے دور میں تو شہرت کے لیے چند گھنٹے بھی کافی ہوتے ہیں۔۔ طاہر شاہ کے گانے کی مثال لے لیں :ڈ ۔۔ جون کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں شہرت کے طالب تو تھے ہی نہیں، نہ ہی غالب کی طرح درباری شاعر تھے۔ جون تو اپنا مجموعہ تک چھپوانے کے روادار نہ تھے، وہ تو ان کے کچھ دوستوں نے ان کو "بدنام" کردیا۔۔۔
اب جون کی شہرت سنجیدہ اور علمی طبقے کے بجائے فیس بک کے خود ساختہ دانش وروں اور عاشق قسم کے "بچوں" کی بدولت زیادہ بڑھ رہی ہے۔۔
سارہ خان — جنوری 19، 2016 5:12 شام
اب جون کی شہرت سنجیدہ اور علمی طبقے کے بجائے فیس بک کے خود ساختہ دانش وروں اور عاشق قسم کے "بچوں" کی بدولت زیادہ بڑھ رہی ہے۔۔
آپ جن بچوں کی بات کر رہے ہیں انہوں نے جون کی نثر نہیں پڑھی۔۔۔ جون کو سمجھنے کے لیئے جو فہم چاہیئے وہ کم علم اور غیر سنجیدہ لوگوں کے پاس نہیں ہو سکتا ۔۔۔
محمد اسلم — جنوری 19، 2016 5:46 شام
یہ چھپا رستم کیا چیز ہے سر۔۔۔۔ واقعی غلطی مجھ سے ہوئی کہ میں نے بات اسی انداز میں تحریر کی ہے جیسے لکھنے کی بجائے بول رہا ہوں۔ :)
چھپا رستم تو یہاں چھپا ہے۔
سعیدالرحمن سعید — جنوری 19، 2016 7:44 شام
آپ جن بچوں کی بات کر رہے ہیں انہوں نے جون کی نثر نہیں پڑھی۔۔۔ جون کو سمجھنے کے لیئے جو فہم چاہیئے وہ کم علم اور غیر سنجیدہ لوگوں کے پاس نہیں ہو سکتا ۔۔۔
سارہ بہن جی۔ کیسی فہم اور کون سی فہم؟ جون ایلیا صاحب کا قلم الحاد اور کائناتِ و زندگی سے بیزار منکرِ نظام قدرت ہی کا شاہکار رہا۔ ان کی نسبت ان کے برادر جناب رئیس امروہوی مرحوم، ان سے ہر لحاظ سے بہتر اور معتبر سخنور تھے
نیرنگ خیال — جنوری 20، 2016 12:14 شام
سارہ بہن جی۔ کیسی فہم اور کون سی فہم؟ جون ایلیا صاحب کا قلم الحاد اور کائناتِ و زندگی سے بیزار منکرِ نظام قدرت ہی کا شاہکار رہا۔ ان کی نسبت ان کے برادر جناب رئیس امروہوی مرحوم، ان سے ہر لحاظ سے بہتر اور معتبر سخنور تھے
امرہوی کی شاعری سے قطع نظر ان کی نثر بھی آپ کی نظروں سے گزری ہوگی۔ جنسیات اور نفسیات و مابعد نفسیات یقینی طور پر امروہوی کا کارنامہ ہے۔ علاوہ ازیں "من عرف نفسہ" کا ادارہ بھی وہ کامیابی سے چلاتے رہے۔ عجائب نفس بھی چار جلدوں پر محیط ایک اچھی کتاب ہے۔۔۔ لیکن موضوعات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کسی کو کسی سے بہتر قرار دینے کے لیے موضوع کا مشترک ہونا بےحد ضروری ہے۔ ایک اگر گھوڑے پر اچھا مضمون لکھتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ کار ڈرفٹنگ پر بھی اس کی نظر اتنی ہی کامل ہو۔ اور ان کے تیسرے بھائی سید محمد تقی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
سارہ خان — جنوری 20، 2016 1:50 شام
سارہ بہن جی۔ کیسی فہم اور کون سی فہم؟ جون ایلیا صاحب کا قلم الحاد اور کائناتِ و زندگی سے بیزار منکرِ نظام قدرت ہی کا شاہکار رہا۔ ان کی نسبت ان کے برادر جناب رئیس امروہوی مرحوم، ان سے ہر لحاظ سے بہتر اور معتبر سخنور تھے

جون نے معاشرے کے دہرے رویے ۔۔ منافقانہ طرز عمل کو واضح کیا ہے ۔۔۔ کھرا سچ سب کو برا لگتا ہے:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%B2-%D8%AC%D9%88%D9%86-%D8%A7%DB%8C%D9%84%DB%8C%D8%A7.87342/page-2