میں نے تو صرف عنوان تجویز کیا تھا بھائی، کوئی بحث نہیں کی ۔۔۔۔ خیر
معلوم ہوتا ہے آپ کو میری کوئی بات بھلی محسوس نہیں ہوئی، مگر یقین مانیئے اس میں کہیں بھی آپ مراد نہیں تھے بلکہ یہ چونکہ ایک ادیب نے لکھا ہے اس لئے میری گفتگو کی ضمیر ادیب کی طرف تھی
میں نے تو صرف عنوان تجویز کیا تھا بھائی، کوئی بحث نہیں کی ۔۔۔۔ خیر
آپ کی بات ٹھیک ہے۔ لیکن ڈھکے چھپے اور برملا میں فرق بہر حال ہوتا ہے۔
الاسٹک والی شلوار میں الٹی شلوار ہی ٹھیک رہے گا
سبحان اللہ
نایاب صاحب آپ لائبریرین ہیں یا اردو محفل پر حولدار کے فرائض انجام دے رہے ہیں ؟
آپ نے جن کتابوں کا ذکر کیا وہ بلا شبہ مسائل کی نشاندہی کرتی تھیں مگر اس افسانے کا طرح ان تمام لکھنے والوں کا کام، منٹو کی طرح، کالی سلیٹ پر سفید چاک سے لکھنا ہی رہا ہے. کوئی بھی مسائل کے حل کی بات نہیں کرتا.
میرے محترم ادب دوست بھائی
کہ تحریر کی ابتدا جس بھونڈے انداز سے کی گئی ہے اس پر مجھے تنقید کرنا مقصود تھا جو میرا بحثیت قاری حق ہے ، اس طرح کی تحاریر کسی زمانے میں "معاشرتی مسائل" کی طرف کم اور قارئین کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے ۔ جنہیں "اردو ادب میں تخریبی حربے" کا عنوان دیا جاسکتاہے۔ اثرات سے قطع نظر نہایت بے باک بات اس لئے کی جاتی ہے کہ قارئین کو متوجہ کیا جاسکے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو صحافت میں در آئے تو اپنی خبر ہر صورت پڑھوا دینے یا سنوا دینے کیلئے گھٹیا اور بازاری انداز اختیار کر لیتی ہے ۔ ( جس کی مثال میرے مراسلوں میں موجود ہے) ۔کچھ ادیب (کالم نگار) "ادب کے قندیل بلوچ" بننے کی پوری کوشش میں ہیں ۔ مجھے اس روش سے اختلاف ہے اس لئے اس تحریر پر ایک تنقیدی جملہ کہا تھا۔ بجلی آنے کے بعد کچھ مزید کہنے کی کوشش کروں گا
کیا ان کا شمار ادب میں کرنا بے ادبی نہیں ہے؟؟؟؟
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%8F%D9%84%D9%B9%DB%8C-%D8%B4%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%B1-%DB%94%DB%94%DB%94.91977/page-2