ابن انشابيان پالتو جانورں کا

سید شہزاد ناصر — مارچ 5، 2013 10:40 صبح
بھیڑ
بھیڑ کی کھال مشہور ہے، بھیڑ کی چال مشہور ہے اور بھیڑ کا مآل بھی مشہور ہے۔ بہت کم بھیڑیں عمرِ طبعی کو پہنچتی ہیں۔
جو رشتہ شیر بکری سے ہم نے بیان کیا ہے، وہی رشتہ بھیڑ کا بھیڑیے سے ہے۔ بھیڑیں کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ سفید بھیڑیں، کالی بھیڑیں وغیرہ، لیکن بھیڑیا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور یکساں چاہت سے لقمہ بناتا ہے۔
اِس جانور میں قربانی کا مادہ بہت ہوتا ہے اور انسان اس مادے سے بہت فائدہ اُٹھاتا ہے۔ گوشت کھا جاتا ہے، کھال بیچ دیتا ہے۔
بکری
گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی، لیکن دودھ یہ بھی دیتی ہے۔ عام طور پرصرف دودھ دیتی ہے لیکن مجبور کریں تو کچھ منگنیاں بھی ڈال دیتی ہے۔
جن بکریوں کو شہرتِ عام اور بقائے دوام میں جگہ ملی ہے، ان میں ایک گاندھی جی کی بکری تھی اور ایک اخفش نامی
بزرگ کی، روایت ہے کہ وہ بکری نہیں بکرا تھا، معقول صورت۔ یہ جو شاعری میں اوزان اور بحروں کی بدعت ے۔ یہ اخفش صاحب سے ہی منسوب کی جاتی ہے۔ بیٹھے فاعلاتن فاعلات کیا کرتے تھے، جہاں شک ہو تصدیق کے لئے بکرے سے پوچھتے تھے کہ کیوں حضرت ٹھیک ہے نہ؟ وہ بکرا اللہ اُسے جنت میں یعنی جنت والوں کے پیٹ میں جگہ دے، سر ہلا کر ان کی بات پر صاد کر دیتا تھا۔ اس بکرے کی جسل بہت پھیلی، پاکستان میں بھی پائی جاتے ہے۔ سوتے جاگتے اس کے منہ سے یس سر، یس سر، جی حضور، بجافرمایا وغیرہ نکلتا رہتا ہے۔ اسے بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جن ملکوں میں بہت انصاف ہو ان میں شیر اور بکریاں ایک گھاٹ پر پانی پینے لگتی ہیں، جس طرح علامہ اقبال کے ایک شعر میں محمود اور ایاز ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ شیر پانی پینے کے بعد وہیں بکری کو دبوچ لیتا ہے، اُسے ناشتے کے لئے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔
شوکت پرویز — مارچ 5، 2013 10:50 صبح
آپ نے ہمیں اسکول کے دن یاد دلا دیے، کچھ سنہ 95 کی بات ہے،،
شیئر کرنے کے لئے شکریہ!!
محمد بلال اعظم — مارچ 5، 2013 11:05 صبح
انشاء جی کی کیا بات ہے۔
سدا بہار
شمشاد — مارچ 5، 2013 12:41 شام
بہت شکریہ شریک محفل کرنے کا۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 5، 2013 9:19 شام
بہت اچھا لکھتے تھے انشا صاحب۔
سید شہزاد ناصر — مارچ 7، 2013 3:54 صبح
آپ نے ہمیں اسکول کے دن یاد دلا دیے، کچھ سنہ 95 کی بات ہے،،
شیئر کرنے کے لئے شکریہ!!
پسند کرنے کا شکریہ
شاد و آباد رہیں
سید شہزاد ناصر — مارچ 7، 2013 3:57 صبح
انشاء جی کی کیا بات ہے۔
سدا بہار
بجا فرمایا ان جیسے قلم کار کم ہی پیدا ہوتے ہیں
سید شہزاد ناصر — مارچ 7، 2013 3:57 صبح
بہت شکریہ شریک محفل کرنے کا۔
پسند کرنے کا شکریہ جناب :)
سید شہزاد ناصر — مارچ 7، 2013 3:57 صبح
بہت اچھا لکھتے تھے انشا صاحب۔
اس میں کوئی شک نہیں
مزمل شیخ بسمل — مارچ 7، 2013 4:08 صبح
بہت خوب
سید شہزاد ناصر — مارچ 14، 2013 4:49 شام
پسند کرنے کا شکریہ
شاد و آباد رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D9%8A%D8%A7%D9%86-%D9%BE%D8%A7%D9%84%D8%AA%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1%DA%BA-%DA%A9%D8%A7.60682/