محب علوی — اپریل 26، 2006 6:13 شام
اگر تم تنہا ہو اور وقت کے دل شکن لمحات تمہارے سینے کے محسوسات کو پامال کر رہے ہیں تو کیا ہوا۔ تم اس دنیا میں اکیلے ہی آئے تھے۔ اکیلے ہی جاؤگے ۔ جب قدرت نے تمہیں اکیلا ہی خلق کیا ہے تو پھر تنہائی سے کیوں گھبراتے ہو۔
(خلیل جبران)
محب علوی — اپریل 27، 2006 3:56 شام
بہت عمدہ محب ، کیا خوبصورت پوسٹ کی ہے پڑھ کر دل خوش ہو گیا، اگلی پوسٹ کب کریں گے آپ

ماوراء — اپریل 27، 2006 3:57 شام
زبرست، بہت اچھی بات ہے۔ اور محب آپ کا بھی شکریہ آپ نے اتنی اچھی بات ہم سے شیئر کی۔۔

محب علوی — اپریل 27، 2006 4:00 شام
شکر ہے کسی نے میری کاوش کو بھی سراہا

ایچ اے خان — جون 20، 2008 4:34 صبح
اگر تم تنہا ہو اور وقت کے دل شکن لمحات تمہارے سینے کے محسوسات کو پامال کر رہے ہیں تو کیا ہوا۔ تم اس دنیا میں اکیلے ہی آئے تھے۔ اکیلے ہی جاؤگے ۔ جب قدرت نے تمہیں اکیلا ہی خلق کیا ہے تو پھر تنہائی سے کیوں گھبراتے ہو۔
(خلیل جبران)
بہت خوب محب۔
تنہائی دراصل ایک نعمت ہے۔ یہی تو ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے اندر کی کائنات کی تخلیق و نظارہ کرتا ہے۔ یہ کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔
سیدہ شگفتہ — جون 20، 2008 4:40 صبح
شکر ہے کسی نے میری کاوش کو بھی سراہا

عنوان
تنہا ہے ناں تو سب نے یہی سوچا ہو گا کہ یہاں آ کے ہجوم نہ کریں۔

mfdarvesh — جون 20، 2008 4:43 صبح
خلیل جبران کا مذہب کیا تھا؟
ف۔قدوسی — مارچ 29، 2009 3:56 شام
بہت اچھے محب علوی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاسمن — جنوری 10، 2019 5:24 شام
حقیقت۔