مقالاتِ حکمت سے اقتباسات

الف نظامی — جنوری 12، 2013 5:56 شام
جب تک مسلمان مائیں بچے جنتی رہیں گی ، ٹیپو کے پیدا ہونے کی پھر سے امید ہے اور اسی امید پہ یہ زندگی قائم ہے۔
ہر کام کا ہونا نہ ہونا میرے اللہ ہی کے بس میں ہے۔ جس کام کے ہونا کا اللہ امر فرما دیتے ہیں ، ہو کر رہتا ہے۔ کبھی نہیں رکتا! اگرچہ ساری دنیا متحد ہو کر روکنے کی کوشش کرے! اللہ کا ہر امر! کن فیکون ہے ، حیلے وسیلے کا محتاج نہیں! مطمئن رہ۔ اللہ کے لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوتے اور انہیں کوئی ہرا نہیں سکتا! الحمد للحی القیوم
اے ہمنشیں! کیا تجھے یہ پتہ نہیں کہ اللہ نے ہمیں اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ہم اپنے اللہ کے سوا کسی سے بھی اور کسی بھی قسم کی کوئی امید نہ رکھیں۔ بے شک ہمارا اللہ کل کائنات کا قاضی الحاجات اور رب رحمان و رحیم ہے۔ ہمیں اپنے رب کا ذکر کرنا چاہیے ، ہر وقت کرنا چاہیے ۔ جو ذکر ایک بار اختیار کر لیا جائے اسے ہمیشہ جاری رکھنا چاہیے۔ کسی حال میں بھی ترک نہ کرنا چاہیے۔ اللہ کے بندے ، اللہ کے سوا کسی اور کے کبھی محتاج نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ اللہ کی شان کے شایاں ہے کہ اس کے بندے اگرچہ گنہگار و خطا کار ہوں اس کے سوا کسی بھی اور کے کبھی محتاج ہوں۔ وہ مر تو سکتے ہیں لیکن اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے دامن دراز نہیں کر سکتے! اور کبھی نہیں کر سکتے!
الحمد للحی القیوم
الف نظامی — جنوری 12، 2013 6:03 شام
ہم سب یہ کہتے ہیں کہ دین کی طرف آو ، اللہ کی راہ میں نکلو ، لیکن ہم خود بات بات پہ جھوٹ بولتے ہیں ،ایک دوسرے کی غیبت کرتے ہیں،چغلی کھاتے ہیں ، اپنے سینوں میں حسد و کدورت رکھتے ہیں اور کسی کو بھی اپنے جیسا نہیں سمجھتے۔ اللہ کے بندوں کو جو اللہ کا پیغام سنانے کسی مسجد میں داخل ہوتے ہیں ، روک دیے جاتے ہیں۔ بیچاروں کو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ایک مسجد میں لکھا ہوا دیکھا: یہاں کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا۔
ایک اور مسجد میں یہ لکھاہوا دیکھا:
یہاں ذکر الہی کی محفل نہیں ہو سکتی۔
یا اللہ ! یا رحمن ! یا اللہ ! یا رحمن ! یہ سب معاملات تیری رحمت کےمحتاج اور قابلِ غور و اصلاح ہیں۔
یا حی یا قیوم برحمتک استغیث-
یہ کہہ!
حضور اقدس واکمل ، اکرم و اجمل ، اطیب و اطہر صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق میرا مذہب ، محبت میری ملت اور اتباع میری منزل ہے۔
الحمد للحی القیوم
نایاب — جنوری 12، 2013 6:05 شام
یہ کہہ!
حضور اقدس واکمل ، اکرم و اجمل ، اطیب و اطہر صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق میرا مذہب ، محبت میری ملت اور اتباع میری منزل ہے۔
الحمد للحی القیوم
بلاشک سچ کہا
الف نظامی — جنوری 12، 2013 6:07 شام
جب اس نے کہا:
اس کی کوئی ذات نہیں ، کوئی صفات نہیں ، کوئی حال نہیں ، کوئی مقام نہیں ، وہ تیرے در کا فقیر اور تیری رحمت کا امیدوار ہے ، تیرے سوا تیری قسم ، کسی کا بھی کچھ نہیں لگتا اور نہ ہی کسی سے کوئی امید رکھتا ہے۔ اس کی ہر شے تیری ، تیرےہی لیے اور تیرے ہی حوالے ہے ، تو ہی اس کا ملجا ، تو ہی اس کا ماویٰ ، تو ہی اس کا والی اور تو ہی اس کا وارث ہے ، راضی ہوگیا ، سارے ہی گناہوں کو بخش دیا ، نامہ اعمال پہ لکیر پھیر دی جیسے کہ کسی نے کبھی کچھ کیا ہی نہیں ہوتا۔
الحمد للحی القیوم
زبیر مرزا — جنوری 12، 2013 6:09 شام
جزاک اللہ - روشن تحریر اور قابل تلقید
الف نظامی — جنوری 12، 2013 6:15 شام
یا حی یاقیوم ! اسمع و استجب اللہ اکبر الاکبر یا ذالجلال و الاکرام! عالم کو عمل ، مومن کو کردار ،مجاہد کو شجاعت ، فقر کو زہد و تقوی عنایت فرما! یاحی یاقیوم! آمین نوازش تیری قدیم عادت ہے ، اسے پھر سے دہرا ، تیری تاریخ ایک مدت سے اس منظر کی منتظر ہے۔ یا حی یا قیوم
ہمارے اللہ! اے ہمنشیں! تو کیا جانے اور ہم کیا جانیں کہ ہمارے اللہ کیا ہیں؟
ہمارے اللہ کون و مکان کی ہر شے کے خالق و مالک ، رازق و حافط و والی و وارث ہیں۔
ہمارے اللہ شہنشاہون کے شہنشاہ ، ذوالجلال و الاکرام اور اپنی ہر مخلوق کے وکیل وکفیل و نصیر اور قادر المقتدر ہیں۔
ہمارے اللہ قریب مجیب ، مجیب الدعوات ، رحیم و ودود اور غفور رحیم ہیں۔
ہمارے اللہ ارحم الراحمین ، اکرم الاکرمین اور احکم الحاکمین ہیں۔
ہمارے اللہ اپنی مخلوق کی فریاد کو سننے والے سمیع بصیر اور ہر فریادی کی فریاد کو سننے والے غیاث المستغیثین ہیں۔
ہمارے اللہ ہم سب کے لیے کافی ہیں اور جس کے لیے اللہ کافی نہیں اس کے لیے کوئی بھی کافی نہیں ، ہر کفایت اللہ ہی کی کفالت کی بدولت ہے۔
الحمد للحی القیوم
الف نظامی — جنوری 12، 2013 6:23 شام
ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اقدس و اکمل ، اکرم و اجمل، اطیب و اطہر ، سرور کائنات ، فخر موجودات ، سید المرسلین ، رحمۃ اللعالمین ، شفیع المذنبین ، خاتم النبین ، حبیب کردگار ، مولائے غمگسار ، طہ ، یس ، مزمل ، مدثر ، حم ، طسم ، روحی فدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت کل عالمین پر محیط ہے اور کل عالمین حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دامنِ رحمت میں سما سکتے ہیں اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دامن رحمت کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں اور اللہ کے سوا کسی کے بھی فہم و ادراک میں نہیں آسکتی ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وکالت و کفالت سے بندہ جب اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے اللہ کے حضور میں سجدہ ریز ہوتا ہے ، بخش دیا جاتا ہے اگرچہ اس کے گناہ ریت کےذروں سے بھی زیادہ ہوں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت نجات کا واحد موجب ہے۔
اللھم اغفرلنا بحرمت حبیبک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آمین
الحمد للحی القیوم
الحمد للحی القیوم
فاللہ خیر الرازقین
جزی اللہ عنا محمدا (صلی اللہ علیہ وسلم) ما ھو اھلہ
محمد علم اللہ — جنوری 12، 2013 6:24 شام
جب تک مسلمان مائیں بچے جنتی رہیں گی ، ٹیپو کے پیدا ہونے کی پھر سے امید ہے اور اسی امید پہ یہ زندگی قائم ہے۔
ہر کام کا ہونا نہ ہونا میرے اللہ ہی کے بس میں ہے۔ جس کام کے ہونا کا اللہ امر فرما دیتے ہیں ، ہو کر رہتا ہے۔ کبھی نہیں رکتا! اگرچہ ساری دنیا متحد ہو کر روکنے کی کوشش کرے! اللہ کا ہر امر! کن فیکون ہے ، حیلے وسیلے کا محتاج نہیں! مطمئن رہ۔ اللہ کے لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوتے اور انہیں کوئی ہرا نہیں سکتا! الحمد للحی القیوم
اے ہمنشیں! کیا تجھے یہ پتہ نہیں کہ اللہ نے ہمیں اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ہم اپنے اللہ کے سوا کسی سے بھی اور کسی بھی قسم کی کوئی امید نہ رکھیں۔ بے شک ہمارا اللہ کل کائنات کا قاضی الحاجات اور رب رحمان و رحیم ہے۔ ہمیں اپنے رب کا ذکر کرنا چاہیے ، ہر وقت کرنا چاہیے ۔ جو ذکر ایک بار اختیار کر لیا جائے اسے ہمیشہ جاری رکھنا چاہیے۔ کسی حال میں بھی ترک نہ کرنا چاہیے۔ اللہ کے بندے ، اللہ کے سوا کسی اور کے کبھی محتاج نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ اللہ کی شان کے شایاں ہے کہ اس کے بندے اگرچہ گنہگار و خطا کار ہوں اس کے سوا کسی بھی اور کے کبھی محتاج ہوں۔ وہ مر تو سکتے ہیں لیکن اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے دامن دراز نہیں کر سکتے! اور کبھی نہیں کر سکتے!
الحمد للحی القیوم
عمدہ شیر ہے مبارکباد قبول کریں۔۔۔
الف نظامی — جنوری 12، 2013 6:43 شام
اے او نوجوان مسلم!
تیرے گھوڑے کی گردن سے آگے کوئی گردن نہ ہو، کسی اکھاڑے میں کوئی تجھے پچھاڑ نہ سکے اور نہ ہی کوئی تجھ سے آگے نکل سکے! تیرا کردار بلند اور مقبول الاسلام ہو۔
الحمد للحی القیوم
فاللہ خیر الرازقین
عمل سے خودی اور خودی سے بے خودی پیدا ہوتی ہے۔ گویا عمل تخم ، خودی پودا اور بے خودی پھل ہے۔ یہی بے خودی ملت مصطفویہ کی جان ہے۔
میرے مولائے کریم روف رحیم روحی فدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک ہی تو یہ تمنا ہے کہ آپ کی امت کے نوجوان کردار کی مستی میں مدہوش ہوں اور یہ مدہوشی عارضی نہ ہو ، سرمدی ہو اور یہی مدہوشی ملتِ مصطفویہ کی آبرو ہے۔

الحمد للحی القیوم
فاللہ خیر الرازقین
الف نظامی — جنوری 12، 2013 6:49 شام
ذات کوئی چیز نہیں، صفات ذات پر فوقیت رکھتی ہے۔ جیسے ہمارے ملک کا قدیم مقولہ ہے:
"ذات کسے پچھنی نہیں، اوتھے عملاں نال نبیڑے"
الحمد للحی القیوم
فاللہ خیر الرازقین
یا اللہ ! ہماری عقل ناقص اور اعمال نامعقول ہیں لیکن اس بات میں ذرا بھی شک نہیں کہ ہم تیری ذات و صفات میں کسی کو بھی اور کبھی بھی شریک نہیں ٹھیراتے۔ یا اللہ تو میرا رب ہے۔ رب السمٰوٰت والارض ، ذوالجلال والاکرام ، کون و مکاں کی ہر شے کا خالق و مالک و رازق و حافظ و ناصر و والی و وارث ہے۔
یا اللہ! میری صرف ایک ہی دعا ہے:
ہم میں سے کوئی بھی اپنے اعمال سے شرمند ہ ہو کر قبر میں نہ جائے۔ آمین آمین آمین یا رب العلمین
الحمد للحی القیوم
فاللہ خیر الرازقین
الف نظامی — جنوری 12، 2013 6:54 شام
ذات ختم --- خطرات ختم
واضح ہو کہ دنیا ، دین اور آخرت میں جسے جو بھی خطرہ ہے ذاتی مفاد ہی کے باعث ہے۔ اگر ذاتی مفادات ختم ہو جائیں ، تمام خطرات ختم ہو جائیں۔

الحمد للحی القیوم
فاللہ خیر الرازقین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%90-%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA.58640/