محمد وارث ، الف عین ، چھوٹاغالبؔ ، محمد خلیل الرحمٰن ، نایاب و دیگر احباب و اساتذہ سے منظر کشی میں کمک مطلوب ہے۔
ایک منظر
کیا حسین جھٹ پٹا ہے، نیلے اور گہرے آسمان پر بادلوں کے سفید دھبے ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے حسیناؤں کے گالوں پر سرخی اور انہیں بادلوں کا سینہ چیرتی ہوئی روشنی سیدھا زمین کی سطح پر زور سے ٹکرا کر دوبارہ اپنے سر چشمہ کی طرف پلٹتی محسوس ہوتی ہے جو کہ اب نظروں سے اوجھل ہوا چاہتا ہے۔ آسمان اور زمین کے نقطہ اتصال کے عین بیچ میں سورج مکھی کے پھولوں کا خط، افق کی طرف بڑھتا معلوم ہوتی ہے۔یہ پھول اس امید سے ڈوبتے سورج کی طرف منہ کئے ہیں کہ شاید آج وہ غروب نہ و۔ ہر پھول اداس معلوم ہوتا ہے۔ پھولوں کی سطح پر چھلکتی شبنم اس طرح معلوم ہوتی ہے جیسے کسی ریشمی گال پر بہت رونے کے بعد آنسو ٹھہرے ٹھہرے رہتے ہیں۔ ہری پتیاں پھولوں سے اس طرح چمٹ گئیں ہیں جیسے شفیق ماں اپنے سہمے بچے کو بھینچ کر گلے لگاتی ہے اور آئندہ کے لئے امیدوار کرتی ہے۔ خاک کا ہر ذرہ گرتے ہوئے پھول کو تازہ صبح کی امید دلاتا نظر آتا ہے۔ اس کی خوشبو اس مٹی کی سی ہے جو ہلکی بارش کے بعد جنگلوں میں مہکتی ہے اور اس کے دم سے سبھی مینا و بلبل چہکنے لگتے ہیں۔