نور وجدان — مئی 21، 2015 12:13 شام
“جو لوگ دوسروں کے دلوں کو کانٹوں سے زخمی کرتے ہیں ان کے اپنے اندر کیکر اگے ہوئے ہوتے ہیں
وہ چاہے یا نہ چاہے ان کے وجود کو کانٹا ہی بننا ہوتا ہے-وہ پھول نہیں بن سکتے”-
لاحاصل:عمیرہ احمد
لئیق احمد — مئی 21، 2015 12:17 شام
یہ تو ناول کے کسی مؤنث کردار کا ڈائیلاگ لگتا ہے۔

نور وجدان — مئی 21، 2015 12:19 شام
اقتباس ہے ۔۔مرکزی کردار کا ۔۔۔
لئیق احمد — مئی 21، 2015 12:24 شام
اقتباس ہے ۔۔مرکزی کردار کا ۔۔۔
جو کہ ایک خاتون ہے؟

نور وجدان — مئی 21، 2015 12:29 شام
جو کہ ایک خاتون ہے؟
آپ بتا دیں کون
لئیق احمد — مئی 21، 2015 12:30 شام
میں نے یہ ناول نہیں پڑھا صرف اندازہ لگا رہا ہوں

عبدالقیوم چوہدری — مئی 24، 2015 7:37 صبح
یہ خواتین

جب کوئی ناول پڑھ رہی ہوتیں ہیں تو خود کو اس ناول کا مرکزی کردار سمجھ رہی ہوتیں ہیں

فاروق احمد بھٹی — مئی 24، 2015 8:31 صبح
نور وجدان — مئی 24، 2015 8:51 صبح
یہ خواتین

جب کوئی ناول پڑھ رہی ہوتیں ہیں تو خود کو اس ناول کا مرکزی کردار سمجھ رہی ہوتیں ہیں
بڑی جہاںدید ہ ہیں آپ
عبدالقیوم چوہدری — مئی 24، 2015 9:00 صبح
پہلے نہیں تھا۔۔۔۔

بس جب سے یہ
خاتون اردو محفل پر وارد ہوئیں ہیں، جہاں دیدہ ہونا مجبوری بن گیا ہے

نور وجدان — مئی 24، 2015 9:11 صبح
پہلے نہیں تھا۔۔۔۔

بس جب سے یہ
خاتون اردو محفل پر وارد ہوئیں ہیں، جہاں دیدہ ہونا مجبوری بن گیا ہے
یعنی کہ میں نے آپ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے ۔۔ہی ہی
عبدالقیوم چوہدری — مئی 24، 2015 9:16 صبح
یعنی کہ میں نے آپ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے ۔۔ہی ہی
آہاں۔۔۔ خوابیدہ صلاحیتوں کو خواب خرگوش کے مزید مزے لینے سےروک دیا ہے۔ ویسے آپ کی بات سے بھی اتفاق ہے
نظام الدین — مئی 29، 2015 11:29 صبح
نور وجدان — مئی 29، 2015 12:44 شام
زبردست
نوشاب — مئی 29، 2015 1:34 شام
گلاب اور کانٹا
یہ ٹھیک ہے کہ تم گلاب نہیں بن سکتے ،مگر اس کا
یہ مطلب تو نہیں کہ تم کانٹا بن جاؤ۔
یہاں ایک راز کی بات ہے،اور وہ میں تمہیں بتا ہی دیتا
ہوں کہ جو شخص کانٹا نہیں بنتا،وہ بالآخر گلاب بن جاتا ہے۔
زاویہ:3،’’علم فہم اور ہوش‘‘، صفحہ 295سے اقتباس