حضورِ والا ! بڑا کرم ہوگا کہ آپ مجھے اس کلام کا عرفان عطا فرما دیں۔ جس زمانے اور جن مذاہب سے میں انجان ہوں اُن کا علم عطا فرما دیں ۔ میں آپ سے جھولی پھیلا کر سوال کرتا ہوں کہ اس کلام کی حکمت عیاں فرما دیں۔ یاد رکھیے حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اگر کسی علم والے سے اُس کے علم کے متعلق سوال کیا جائے اور وہ باوجود علم ہونے کے سائل کو جواب نہ دے تو روزِ قِیامت اُس کے منہ میں آگ کی لگام لگائی جائے گی۔
میرے محترم بھائی آپ کے مزید گفتگو بارے خبردار کرنے سے سلام کہہ چکا تھا لیکن آپ نے " حدیث پاک " کو حجت بنا لیا ۔۔۔ سو جواب لازم ہے ۔۔۔۔
میرے محترم بھائی ۔ صاحب کلام ان بزرگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے عمل و کردار سے انسانیت کی ایسی شمع روشن کی ۔ جس نے برصغیر میں چھائی شرک کی تاریکی کو اسلامی تعلیمات سے مٹایا ۔ انسانیت کو مقدم رکھتے چھوت و چھات کی تفریق کو مٹاتےاسلام کو محبت کے ذریعہ پھیلا یا اور لاکھوں کو ہدایت کی راہ دکھائی ۔
تصوف سے معمولی سے واقفیت رکھنے والے بھی ان بزرگوں کے نام و کلام سے واقف اور ان کے کلام کو بنا کسی تشکیک کے سمجھتے ہیں ۔
زبردستی ان کے کلام کو کسی کو بھی نہیں سمجھایا جا سکتا ۔
ان کے کلام کا عرفان کسی پر کھولنا صرف اس سچے سمیع العلیم کے ہاتھ ہے ۔۔۔
جو علم سے نواز کسی کو شیطان کسی کو ابوجہل قرار فرماتا ہے اور کسی کو نواز صدیق اکبر کا درجہ عطا فرماتا ہے ۔۔۔۔۔
برصغیر میں زمانہ قدیم سے لیکر زمانہ حال تک کتنے مذاہب مروج ہیں ۔ ان کے نام لکھتے تو ہاتھ تھک جائے ۔ ہندو سکھ بدھ پارسی مسلمان نمایاں ہیں ۔
اس کلام کی حکمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کلام میں صاحب کلام نے اپنے آس پاس موجود مختلف مذاہب کے پیروکاروں سے کلام کرتے ان کی جانب سے پکارے جانے والے ان کے خداؤں کے نام یاد دلاتے انہیں یہ آگہی دی ہے کہ
" کر توبہ ترت فرید سدا ہر شے نوں پر نقصان کہوں " اے فرید فورا توبہ کر کہ یہ جن کو تو پکارتا ہے یہ کوئی بھی نفع نہیں دے سکتے بلکہ نقصان کا سبب ہیں ۔ اور پھر یہ کہتے راہ حق دکھا نے کی کوشش کی کہ " اسے پاک الکھ بے عیب کہوں اس حق بے نام نشان کہوں " ۔۔ وہ جسے پکارنا حق ہے وہ ذات پاک بے نیاز اور ہر قسم کے ضعف سے پاک ہے ۔ وہ ذات ایسی سچی سچائی ہے جو کہ نگاہ سے مستور ٹھیرتے ہر جانب اپنا جلوہ دکھلاتی ہے ۔
بلاشک وہ ہی ذات ہر وقت پکارے جانے کے قابل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(التجا ہے کہ میرا علم ناقص میری عقل کمزور جانتے میرے محترم بھائی مجھے اپنے التفات سے نوازئے گا ۔ )