خالد مسعود خان

تنویرسعید — مارچ 2، 2009 6:08 شام
پنڈ کے بوہڑ تھلے ہم عشق لڑایا کرتے تھے
پنڈ کے بوہڑ تھلے ہم عشق لڑایا کرتے تھے
وہ پانڈے مانجا کر تی تھی ہم مج نہوایا کرتے تھے
وہ ہر کام میں اگے تھی ہم ہر کام میں پھاڈی تھے
وہ سبق مکا کے بہہ جاتی تھی ہم پنسل گھڑیا کرتے تھے
جدوں میری بے بے اس کے گھر رشتہ لین گئی
وہ کالج جایا کرتی تھی ہم درس میں پڑھیا کرتے تھے
گرمیوں میں شِکر دوپہری ہم بیری پہ چڑہیا کرتے تھے
منہ سج پڑولا ہوتا تھا جب ڈیموں لڑیا کرتے تھے
پنڈکے چھپڑکنڈے جب وہ مینوں ملنے آتی تھی
شیدا، گاما، فضلو، طیفا مفت میں*سڑیا کرتے تھے۔ ہم عشق لڑایا کرتے تھے
نبیل — مارچ 2، 2009 6:38 شام
ایہہ ناں تے اردو لگدی اے تے ناں ہی پنجابی۔۔
تنویرسعید — مارچ 2، 2009 7:33 شام
اہیو تے فن اے:dancing:
جہانزیب — مارچ 2، 2009 8:05 شام
ایہہ ناں تے اردو لگدی اے تے ناں ہی پنجابی۔۔

ایہہ گلابی اے
فہیم — مارچ 2، 2009 8:11 شام

ایہہ چکربازی اے:biggrin:
جہانزیب — مارچ 2، 2009 8:26 شام
ایہو تے استادی اے
فہیم — مارچ 2، 2009 8:38 شام

استاد تو تسی آہو، ٹنڈ وچ ماچس جلانا ہی وڈی استادی اے:biggrin:
جہانزیب — مارچ 2، 2009 8:40 شام
:rollingonthefloor:
ْْْْ^^
ایہہ کہیڑی پنجابی اے؟
فہیم — مارچ 2، 2009 8:43 شام
:rollingonthefloor:
ْْْْ^^
ایہہ کہیڑی پنجابی اے؟

ایہہ اسی دی پنجابی ہے۔
جنا وچ اردو کا تڑکہ شامل اے:grin:
زینب — مارچ 3، 2009 2:48 صبح
اینوں گلابی اردو کہندے نے۔نا ایہ پوری پنجابی اے تاں نا پوری اردو
فرخ منظور — مارچ 3، 2009 7:56 صبح
پارٹیشن کے بعد ہمارے محلے میں بھارت کے علاقے سے ہجرت کر کے کچھ لوگ آباد ہوگئے جو کہ خالصتاً اردو بولتے تھے۔ ہمارے بڑے بزرگ جو پکے پنجابی تھے جب بھی ان سے اردو بولنے کی کوشش کرتےتو عجیب صورتِ حال پیدا ہوجاتی۔ مثلاً ان اہلِ اردو اصحاب کی نانی اکثر برامدے میں چارپائی بچھا کر بیٹھ جاتی اور ہمارے ایک بزرگ کو اس برامدے سے گزر کر اوپر کی منزل پر جانا پڑتا تو وہ اسے کہتے۔
"جب تم راستے میں منجی ڈھاتی ہو تو ہمارا گوڈا پاجتا ہے" (جب تم راستے میں چارپائی بچھاتی ہو تو ہمارا گھٹنا چارپائی سے ٹکرا کر زخمی ہو جاتا ہے).
زینب — مارچ 3، 2009 8:38 صبح
ہاہاہاہاہاہا افففففففففففففف پا جی ہنس ہنس کے پیٹ میں درد ہو گیا
فرخ منظور — مارچ 3، 2009 8:46 صبح
ہاہاہاہاہاہا افففففففففففففف پا جی ہنس ہنس کے پیٹ میں درد ہو گیا

شکریہ پین جی! :)
محمدصابر — مارچ 3، 2009 9:32 صبح
باقی نظم کدھر اے
محمد وارث — مارچ 3، 2009 4:39 شام
پارٹیشن کے بعد ہمارے محلے میں بھارت کے علاقے سے ہجرت کر کے کچھ لوگ آباد ہوگئے جو کہ خالصتاً اردو بولتے تھے۔ ہمارے بڑے بزرگ جو پکے پنجابی تھے جب بھی ان سے اردو بولنے کی کوشش کرتےتو عجیب صورتِ حال پیدا ہوجاتی۔ مثلاً ان اہلِ اردو اصحاب کی نانی اکثر برامدے میں چارپائی بچھا کر بیٹھ جاتی اور ہمارے ایک بزرگ کو اس برامدے سے گزر کر اوپر کی منزل پر جانا پڑتا تو وہ اسے کہتے۔
"جب تم راستے میں منجی ڈھاتی ہو تو ہمارا گوڈا پاجتا ہے" (جب تم راستے میں چارپائی بچھاتی ہو تو ہمارا گھٹنا چارپائی سے ٹکرا کر زخمی ہو جاتا ہے).

یہ اردو سن کر وہ نانی جی بھی بے اختیار ہنستی ہونگی، کیا معلوم وہ برزگ یہی چاہتے ہوں ;)
ظہور احمد سولنگی — مارچ 3، 2009 4:45 شام
پنڈ کے بوہڑ تھلےپنڈ کے بوہڑ تھلے ہم عشق لڑایا کرتے تھے
پنڈ کے بوہڑ تھلےپنڈ کے بوہڑ تھلے ہم عشق لڑایا کرتے تھے
وہ پانڈے مانجا کر تی تھی ہم مج نہوایا کرتے تھے
وہ ہر کام میں اگے تھی ہم ہر کام میں پھاڈی تھے
وہ سبق مکا کے بہہ جاتی تھی ہم پنسل گھڑیا کرتے تھے
جدوں میری بے بے اس کے گھر رشتہ لین گئی
وہ کالج جایا کرتی تھی ہم درس میں پڑھیا کرتے تھے
گرمیوں میں سِکھر دوپہری ہم بیری پہ چڑہیا کرتے تھے
منہ سج پڑولا ہوتا تھا جب ڈیموں لڑیا کرتے تھے
پنڈکے چھپڑکنڈے جب وہ مینوں ملنے آتی تھی
شیدا، گاما، فضلو، طیفا مفت میں*سڑیا کرتے تھے۔ ہم عشق لڑایا کرتے تھے
معنی درکار ہیں۔
خرم — مارچ 3، 2009 4:57 شام
پنڈ کے بوہڑ تھلے دو واری غلطی نال لکھیا گیا ایہہ۔ مطلب ایہہ "گاؤں کے برگد تلے"
شکر دوپہر کہندے نہیں "تپتی دوپہر" نوں یا "جب سورج نصف النہار پر ہو"
ڈیموں "بھڑ" wasp۔
اونویں گلابی اصلی دے چکر وچ کیوں پیندے او؟ شے مزیدار ہونی چاہی دی ایہہ بس۔
ظہور احمد سولنگی — مارچ 3، 2009 4:59 شام
یعنی ڈینبھو
خرم — مارچ 3، 2009 5:03 شام
جی بالکل درست آکھیا جناب نے
ظہور احمد سولنگی — مارچ 3، 2009 5:05 شام
جی بالکل درست آکھیا جناب نے
میرا دل کہ رہا کہ میں بھی پنجابی کی ٹانگیں توڑوں۔ کسی کو اعتراض تو نہیں ہوگا نہ اور نہ کسی کو ہنسی آئے گی۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D8%A7%D9%84%D8%AF-%D9%85%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF-%D8%AE%D8%A7%D9%86.19794/