سچا شرک
دُور پرے اَسماناں تے
رب سچے دا ناں
ہیٹھاں اسی جہان وِچ
بس اِک ماں ای ماں
دُور پرے اَسماناں تے
رب سچے دا ناں
ہیٹھاں اسی جہان وِچ
بس اِک ماں ای ماں
کیا کیا جائے جناب ۔یہ توشعرا حضرات کی پرانی بیماری ہے
اور پھر اسی چکر میں بات کہاں سے کہاں جا نکلتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالکل بجا فرمایا آپ نے
چھوڑیں جی، خواہ مخواہ طبیعت مکدر ہوگی۔بہر حال واقفان حال تو جانتے ہوں گے، لیکن آپ کے لئے درج ہے کہ اس میں رسولوں کی کتابوں کا اور صحیفوں کا ذکر ہے۔
تنقید آپ کا حق ہے اور ویسے بھی کوئی چیز بھی کمیوں اور کوتاہیوں سے مبرا نہیں ہوتی ۔۔ آخر انسانی کلام ہے ۔۔۔
اللہ معاف کرے کون ثابت کر سکتا ہو کہ واقعی کوئی اس ذات کا شریک بھی ہے۔۔ صرف بات کہنے کا ایک انداز ہے۔۔ شاعر نے پہلے دو مصرعوں میں واضح کر دیا ہے کہ ’’ دور پرے اسماناں تے ۔۔ رب سچے دا ناں‘‘ اور پھر ماں بھی تو خدا کا ہی ایک روپ ہے۔۔۔ خدا نے اپنی انسان سے محبت بھی اسی نسبت سے بتائی ہے۔۔۔ اگر خدا کو سمجھنا ہو تو پہلے ماں کو سمجھنا ہو گا۔۔
1۔ ’’ دور پرے اسماناں تے ۔۔ رب سچے دا ناں‘‘ (خدا کو آسمان تک محدود کرنا کچھ سمجھ نہیں آیا۔ )
حجور میں بھی معذرت ہی چاہوں گا کہ یہ بات کہنے کا انداز ہی تھا جوکہ سراسر باطل تھا شاعر کو ماں کی عظمت بیان کرتے ہوئے اس قدر غلو کی قطعی حاجت نہ تھی اگرماں کی عظمت کو صحیح معنوں میں بیان کرنا ہی مقصود تھا تو عنوان یہ بھی ہوسکتا تھا "ماں ! خدا کی صفت رحیمی کا ایک مظہر " وغیرہ
جی درست فرمایا آپ نے ۔۔ اسلامی ماخذ میں یہ بات کہیں نہیں ملے گی۔۔ یہ صرف ایک رائے ہے۔
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DA%86%D8%A7-%D8%B4%D8%B1%DA%A9.67914/