میری اتھری آس تے سوں گئی
رات ہٹکورے بھردی
اوسے رات اِک گُھگھی مر گئی
پالے دے وِچ ٹھردی
ٹِیساں والی لہر نے کیتے
پھُلاں دے رنگ بگے
نی سیو!مینوں اَکّ سوادی لگے
اردو ترجمہ
میری بےلگام امید سو گئی
رات کو ہچکیاں لیتے
اسی رات ایک فاختہ مر گئی
سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے
درد کی لہر نے کر دئیے
پھولوں کے رنگ سفید
سہیلیو! مجھے اَکّ ذائقہ دار لگنے لگی
گل مدار
پنجابی میں اَکّ اور اردو میں آکھ یا گل مدار بھی کہا جاتا ہے۔۔انگریزی میں اسے Crown Flower بھی کہتے ہیں اور Calotropis Gigantea بھی۔
آکھ (اَکّ)کا پودا عموماًایک یا آدھ میٹر تک بلند ہوتا ہے۔اس کی اونچائی ڈیڑھ میٹر تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ شاخ در شاخ ہو کر بھی پھیلتا ہے لیکن زیادہ تر جڑ ہی سےاس کی شاخیں نکل کرادھر پھیل جاتی ہے اس کے جس حصہ کوتوڑا جائے سفید گاڑھا سا دودھ ٹپکنا شروع ہو جاتا ہے۔
اس کے پتےبرگد کے پتو ں سے مشابہ ہوتے ہیں لیکن ان کی مانند سبز نہیں ہو تے بلکہ سفید مائل ہوتے ہیں ۔ تنوں اور شاخوں پر سفید رؤواں سا ہوتاہے ۔
اس میں پھول گچھوں کی صورت میں لگتے ہیں ۔ جو باہر سے سفید اور اندر سے سر خی مائل ہوتے ہیں ۔ پھول کے عین درمیان لونگ کے سر کی مانند ایک شے ہوتی ہے ۔ جس کو آنکھ کی لونگ کہا جاتا ہے۔اس پر پھل بھی لگتا ہے جس کی شکل عموماًلمبو تری اور درمیان سے خم کھائی ہوتی ہے ۔ خشک ہونے پر جب پھٹتا ہے تو اس کے اندرسے روئی سی نکلتی ہے ۔ جو نہاہت نرم وملائم اورچکنی ہوتی ہے یہ ایک زہریلا پودا ہے۔اور طب میں کام آتا ہے۔
اس پودے کا ہر حصہ بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔