فاطمہ شیخ — اپریل 27، 2017 3:51 شام
حشر دی گرمی
چار چُفیرے
پانی لبھدا
شِکّر دوپہڑے
مٹکا ویکھ کے
آیا نیڑے
اندر تھوڑا تھوڑا پانی
ایہدے نال ای پیاس بُجھانی
کَنکراں نُوں میں تِیلی لانی
ڈُبکی مار کے پیاس بُجھائی
لوکاں ایویں گپ بنائی
عبدالقیوم چوہدری — اپریل 27، 2017 4:46 شام
اے تے تسی عظیم داستان 'پیاسا کوا' دی شان اچ گستاخی کر رہے او۔
La Alma — اپریل 27، 2017 4:50 شام
آپ کا کالا کوا ، سفید جھوٹ بول رہا ہے .
فاطمہ شیخ — اپریل 27، 2017 5:36 شام
اے تے تسی عظیم داستان 'پیاسا کوا' دی شان اچ گستاخی کر رہے او۔
گستاخی معاف، عام مشاہدہ ہے کہ پرندے پانی میں کنکر نہیں پھینکتے بلکہ پانی میں لوٹنا پسند کرتے ہیں
پیاس کی شدت سے بے چین پرندہ کہاں کنکر اکٹھے کرنے کی زحمت کرے گا.
پیاسا کوا مقبول عام ضرور ہے آسمانی صحیفہ نہیں
فاطمہ شیخ — اپریل 27، 2017 5:40 شام
آپ کا کالا کوا ، سفید جھوٹ بول رہا ہے .
معصوم کوے انسانی شعور کی دھول تک بھی نہیں پہنچے، ورنہ جھوٹے بولنے کا عظیم انسانی فن ضرور سیکھ جاتے
فطرت کے بہت قریب ہیں اور فطرت جھوٹ نہیں بولتی
La Alma — اپریل 27، 2017 6:14 شام
معصوم کوے انسانی شعور کی دھول تک بھی نہیں پہنچے، ورنہ جھوٹے بولنے کا عظیم انسانی فن ضرور سیکھ جاتے
فطرت کے بہت قریب ہیں اور فطرت جھوٹ نہیں بولتی
ارے آپ تو جذباتی ہو گئیں . ہمارا ارادہ آپ کے کوے کی شان میں گستاخی کرنے کا ہر گز نہیں تھا . پھر بھی اگر آپ کے کوے کی دل آزاری ہوئی ہے تو ہم اپنے الفاظ واپس لیتے ہیں .


عبدالقیوم چوہدری — اپریل 27، 2017 6:15 شام
عام مشاہدہ ہے کہ پرندے پانی میں کنکر نہیں پھینکتے بلکہ پانی میں لوٹنا پسند کرتے ہیں
ایس مشاہدے نوں تسی پکھیرؤاں دا اشنان کہہ سکدے او۔
پیاس کی شدت سے بے چین پرندہ کہاں کنکر اکٹھے کرنے کی زحمت کرے گا.
ایس توں ملدی جلدی اک گل اک سیانے نے وی
ایس لڑی وچ کیتی ہئی۔
لیکن طبیعات کے پروفیسر "رابرٹ ڈی چارلی" اپنی کتاب ( Hawks about Kawwa ) میں رقم طراز ہیں کہ ایک اوسط گھڑے کا پانی پچاس فیصد سے پچھتر فی صد تک بڑھانے کے لیے کم وبیش 250 گرام نارمل سائز کی کنکریاں درکار ہوتی ہیں...جبکہ ایک صحت مند کوا 100 گرام سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتا.....اور ایک مریل پیاسے کوے سے تو یہ امید بھی نہیں کی جاسکتی - اس لیے قصہ مذکورہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے- اور اگرایسا ہوا بھی.... تو کوا یقینا کارِ کنکریاں کے دوران ہی فوت ہو گیا ہوگا........
پیاسا کوا مقبول عام ضرور ہے آسمانی صحیفہ نہیں
اسی وی کوئی نہیں آکھیا جی۔
کلموہی — اپریل 27، 2017 7:38 شام
خوب بہن جی

فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 4:46 صبح
فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 4:46 صبح
خوب بہن جی
بہت شکریہ
فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 4:55 صبح

ایس مشاہدے نوں تسی پکھیرؤاں دا اشنان کہہ سکدے او۔
ایس توں ملدی جلدی اک گل اک سیانے نے وی
ایس لڑی وچ کیتی ہئی۔
اسی وی کوئی نہیں آکھیا جی۔
واہ واہ واہ واہ، زبردست یہ معلومات فراہم کرنے کابہت بہت شکریہ
پروفیسر صاحب نے کیا شاندارتجزیہ پیش کیا ہے. بہت خوب
یہ صاحب بھی روایت پرست معلوم نہیں ہوتے.جان کر بے حد مسرت ہوئی. شکر ہے میرے موقف کی کسی نے تو تائید نے.
آپ کا ایک بار پھر سے بہت شکریہ
سلامت رہیں
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 28، 2017 5:50 صبح
حشر دی گرمی
چار چُفیرے
پانی لبھدا
شِکّر دوپہڑے
مٹکا ویکھ کے
آیا نیڑے
اندر تھوڑا تھوڑا پانی
ایہدے نال ای پیاس بُجھانی
کَنکراں نُوں میں تِیلی لانی
ڈُبکی مار کے پیاس بُجھائی
لوکاں ایویں گپ بنائی
زبردست نظم ہے ۔ ہلکے پُھلکے مزاح کا رنگ لیے بہت اچھی کاوش ہے آپ کی ۔
ہمارے دل محض خون کی ترسیل کا کام کرتے ہیں. اور جذبات سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتے
معلوماتی وغیرہ
فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 6:17 صبح
زبردست نظم ہے ۔ ہلکے پُھلکے مزاح کا رنگ لیے بہت اچھی کاوش ہے آپ کی ۔
معلوماتی وغیرہ
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب
"معلوماتی وغیرہ" کا مطلب سمجھ نہیں آیا. مزید روشنی ڈال دیجے گا
نوازش
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 28، 2017 6:19 صبح
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب
"معلوماتی وغیرہ" کا مطلب سمجھ نہیں آیا. مزید روشنی ڈال دیجے گا
نوازش
معلوماتی کا مطلب معلوماتی ہی ہوتا ہے ۔ آپ نے کہا کہ آپ کے دل صرف خون کی ترسیل کا کام کرتے ہیں ان کا جذبات سے کوئی تعلق نہیں ہے تو ظاہر ہے یہ انفارمیشن ہمارے لیے نئی ہے ۔ اس لیے معلوماتی لکھا ۔
فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 6:21 صبح
معلوماتی کا مطلب معلوماتی ہی ہوتا ہے ۔ آپ نے کہا کہ آپ کے دل صرف خون کی ترسیل کا کام کرتے ہیں ان کا جذبات سے کوئی تعلق نہیں ہے تو ظاہر ہے یہ انفارمیشن ہمارے لیے نئی ہے ۔ اس لیے معلوماتی لکھا ۔
ھا ھا ھا ھا ھا ھا
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 28، 2017 6:21 صبح
اچھی عمدہ نظم ۔مبارک باد قبول کریں۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 28، 2017 6:27 صبح
لیکن آپ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ شاعری جذبات کا ہی دوسرا نام ہے ۔ جبلتوں سے مکالمے تو لکھے جا سکتے ہیں شاعری نہیں ۔ اور میرا خیال ہے آپ کافی شاعری پوسٹ کر چُکی ہیں تو یہ بیان سمجھ سے بالا تر ہے کہ آپ کا دل صرف خون کی ترسیل کا کام کرتا ہے ۔
فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 6:28 صبح
اچھی عمدہ نظم ۔مبارک باد قبول کریں۔
بہت شکریہ
فرخ منظور — اپریل 28، 2017 6:39 صبح
ایدا عنوان ْپیاسے کاں دی اصل بپتا ہونا چاہی دا اے۔
فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 9:27 صبح
لیکن آپ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ شاعری جذبات کا ہی دوسرا نام ہے ۔ جبلتوں سے مکالمے تو لکھے جا سکتے ہیں شاعری نہیں ۔ اور میرا خیال ہے آپ کافی شاعری پوسٹ کر چُکی ہیں تو یہ بیان سمجھ سے بالا تر ہے کہ آپ کا دل صرف خون کی ترسیل کا کام کرتا ہے ۔
ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میری کاوش (مرتب کردہ الفاظ) کو شاعری کہا.
جہاں تک جذبات کا تعلق ہے تو میرے نزدیک جذبات جبلتوں کی ارتقاء یافتہ اشکال ہیں.
میں تمام افراد کے جذبات کا بے حد احترام کرتی ہوں
لیکن مجھے الفاظ کو ترتیب دینے کے لیے جذبات کا سہارا نہیں لینا پڑتا.