تحریر کا فارمیٹ درست نہیں۔ پلیز دوبارہ پوسٹ کر دیں
جہانزیب — نومبر 15، 2008 7:33 شام
ؔآصف فارمیٹ درست کر دیا گیا ہے ۔
فرحت کیانی — نومبر 16، 2008 5:04 شام
بہت خوب
بہت شکریہ جہانزیب گلوکار کون ہیں؟
جہانزیب — نومبر 16، 2008 5:59 شام
فرحت، گلوکار ہیں منصور ملنگی ۔
جہانزیب — نومبر 16، 2008 6:09 شام
میںیہ گانا صرف شروع میں پہلل حصہ تک ہی سنتا ہوں، توںنہ آئیوں تیری یاد آ کے
تیرا وعدہ یار وفا کر گئی
کمی تیری مسلسل رئی باقی
بے چینی امن تباہ کر گئی
بوہا نیناں دا کھڑکیا کئی واری
میں سمجھیا اثر دعا کر گئی
جدوں کھولیا ناصر ہا کوئی نہ
میرے نال مذاق ہوا کر گئی وکنڑ انار آیا
پتہ جو ہل جاندا
میں سمجھاںیار آیا ۔
ظہور احمد سولنگی — نومبر 16، 2008 6:24 شام
نیناں
وکنڑ
ان دو الفاظ کی معنی بتادیں۔ کہیں نیناں آنکھوں کے قریب تو نہیں آتا۔
وکنڑ بیچنا
جہانزیب — نومبر 16، 2008 6:33 شام
نیناں تو اردو میںبھی ہے، گانا نہیں تھا، میرے نیناں تیرے نیناںکو، وہی والا مطلب آنکھیں ۔ اوپر اس کا مطلب یہ ہے کہ میری آنکھوں کا دروازہ جب کھٹکتا ہے، میں سمجھتا ہوں میری دعا قبول ہو گئی، لیکن جب آنکھیں کھولیں، تو پتہ چلا ہوا نے میرے ساتھ مذاق کیا تھا، ہاہا مترجم جہانزیب ۔ وکنڑ، یا وکن مطلب بکنے کے لئے ،
ظہور احمد سولنگی — نومبر 16، 2008 6:38 شام
مجھے گانا سننے کے بعد وکنڑ کی سمجھ آئی۔ اگر آپ اس طرح مہربانی کرتے رہیں تو کافی الفاظ سے شناسائی ہوجائے گی۔ مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ پنجابی سندھی کے بالکل قریب ہے۔ وکنڑ بھی سندھی میں استعمال ہوتا ہے مگر لکھنے میں ذرا مختلف وہ اس طرح لکھا جاتا ہے۔ وکن "وڪڻ"
جہانزیب — نومبر 16، 2008 6:41 شام
ظہور تاریخٰی اعتبار سے پنجابی اور سندھی ایک دوسرے کا پرتو ہیں، جسے انگریزی میں سسٹر لیگوئجز کہتے ہیں ۔ جیسے اطالوی اور ہسپانوی زبانیں ہیں ۔
جہانزیب — نومبر 16، 2008 6:43 شام
اسی وجہ سے پنجابی بولنے والے کے لئے سندھی اور سندی بولنے والے کے لئے پنجابی سیکھنا بالکل بھی مشکل نہیں ہے ۔ آپ نے سندھی فورم میں دیکھا ہو گا، کہ وہاں صرف پڑھ کر میں بات کا تھوڑا بہت اندازہ لگا لیتا ہوں ۔
بھائی طہور میں نقطہ لگالیں کہیں میں بھی خود کو کہیں طہور نہ سمجھنے لگوں میں تو عاصی ہوں بھیا۔ میری زبان خراب کرنے میں ریڈیو پاکستان ملتان اور بہاولپور کا کافی ہاتھ رہا ہے پنجابی اور سرائیکی میں پروگرام سن کر دماغ میں دونوں زبانوں کا محلول بن گیا ہے۔ پروگرام اتم کھیتی اور جہوردی آواز پتہ نہیں سرائیکی میں ہیں یا پنجابی میں مگر اب بھی جب گاؤں جاتا ہوں تو شوق سے سنتا ہوں۔
جہانزیب — نومبر 16، 2008 6:56 شام
ہاہاہاہا ۔۔۔ لگا دیا نقطہ ۔ ویسے یہ ملغوبہ ہم بھی بناتے تھے، جب میں کراچی میں تھا، تو ہمارے ساتھ سندھی دوست جو تھے ان کے ساتھ ہم پنجابی کو لہجہ بدل کر سندھی بولتے تھے ، اور انہوں نے بھی اسی طرح کی پنجابی ایجاد کی ہوئی تھی
وہاں تو صرف ایک خبر ہے مگر لغت موجود نہیں۔
ویسے جب دین اکبری بن سکتا ہے تو سندھی سرائیکی اور پنجابی کو محلول بن سکتا ہے۔ ہمیں دیگر مقامی زبانوں سے آگاہی ہونی چاہیے۔ یہاں پر کہیں میں لفظ سائیں استعمال کیا تھا مگر آگے سے اس بندے نے کچھ کہا نہیں مگر سندھی زبان کا ایسا حشر کردیا کہ بس۔
پنجابی تو سمجھ لیتا ہوں سرائیکی، ہندکو اور پوٹھوہاری اور پاکستان کشمیری بھی مگر پشتو کی تو بالکل سمجھ نہیں آرہی ہے آج کل تو پشتو کی بڑی مارکیٹ ہے۔
جہانزیب — نومبر 16، 2008 7:11 شام
ہاہاہا، یہاں ابھی ایک اشتہار آ رہا ہے نیویارک میں کہ اگر آپ امریکی شہری ہیں اور پشتو بول اور سمجھ لیتے ہیں تو ہمارے پاس جاب کے لئے آئیں ۔ ایف بی آئی میں ۔
ویسے اب مجھے یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے، یہاں سکولوں میں ہر کوئی دوسری زبان سیکھ رہا ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے ہمیں بھی اپنی زبانیں سیکھنا چاہیے ہیں ۔
ظہور احمد سولنگی — نومبر 16، 2008 7:22 شام
آپ کی بات بالکل بجا ہے۔ ہم نے مقامی زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ غیر ملکی زبانوں سے۔ میں چونکہ فارسی میں خود کفیل ہوں اور میرے ایک پروفائل میں کہیں پر فارسی بھی لکھی ہوئی تھی ایک کہیں سے ایک جرمن نے مجھے پکڑلیا اسکائپ پر اور شروع ہوگیا فارسی میں اسی دوران ایک اور دوست کو لے آیا اور ہماری کانفرنس ہوئی وہ میرے اوپر تبلیغ کررہے تھے کہ بائبل کا مطالعہ کرو تو میں نے آگے سے کئی بائبل کی آیات پیش کردیں خیر ان کو لگا کہ کہیں میں بھی ان کی برادری کا بندہ نہ ہوں۔ خیر میں موضوع کو گھماتے ہوئے پوچھا کہ آپ فارسی کیسے جانتے ہیں تو کہنے لگے ہم نے فارسی یہاں جرمنی میں سیکھی ہے اور آج تک کسی ایرانی یا افغانی سے نہیں ملے اور نہ وہاں گئے ہیں ہم نے تو اپنے طور پر سیکھی ہے۔ مجھے اب بھی حیرانی ہوتی ہے جب اینی میری شمل یہاں آکر مقامی زبانوں پر تحقیق کرتی ہے تو کیوں ہم بھی اپنی زبانوں پر توجہ دیں۔ مگر ہماری مثال تو کوا چلا ہنس کی چال تو اپنی چال بھی بھول گیا والی بات ہے۔