بیوگی

فاطمہ شیخ — اپریل 22، 2017 11:31 صبح
میری چُنی چِھیکو چھیک
میرے سِر تے چوکھا سِیک
میری اکھیاں وچ ہنیر
مینوں کِکر دِسدے بِیر
میرے سینے ہجر دا تیر
مینوں کیتا لِیرولِیر
میرے ہتھیں کاسہ خالی
میری صورت بنی سوالی
میرا کوئی نا مرض پچَھانے
مینوں سارے دِیون طعنے
میری ہوئی نا شنوائی
مینوں سارے کیہن شُدائی
نا رؤواں نا کُرلاواں
نا اپنا حال سناواں
میری چُپ مینوں کیتا جھلی
ہن رہ گئی آں میں کلّی
میری جندڑی کلّا رُکھ
میرے چار چفیرے دُکھ
میں کلّم کلّی نار
میرا کوئی گھر نا بار
نا بیلی نا دلدار
نا پیار تے نا بیوپار
میرا کوئی نا کُل جہان
نا سائیں نا سلطان
میرا کوئی نا دین ایمان
میرا کوئی نا رب رحمان
رومانہ چوہدری — اپریل 22، 2017 11:42 صبح
افسردگی کا تاثر لیے ہوئے ایک عمدہ کاوش۔
اعلیٰ:)
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 22، 2017 11:44 صبح
ماشاءاللہ۔اچھی نظم
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 22، 2017 11:47 صبح
ہمیشہ کی طرح حسب ِ روایت زبردست کاوش ۔
لاریب مرزا — اپریل 22، 2017 11:55 صبح
اچھی کاوش ہے۔ بس آخری فقرے پر اعتراض ہے۔ اللہ تعالیٰ تو سب کے ہوتے ہیں۔ :) :)
اب اپنا تعارف دے ہی ڈالیے۔ :)
فاطمہ شیخ — اپریل 22، 2017 12:06 شام
اچھی کاوش ہے۔ بس آخری فقرے پر اعتراض ہے۔ اللہ تعالیٰ تو سب کے ہوتے ہیں۔ :) :)
اب اپنا تعارف دے ہی ڈالیے۔ :)
جی یہاں شوہر کو بطور مجازی خدا سمجھ کر اس کی جدائی کا کرب بیان کیا ہے، بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمے ہوتا ہے اور لفظ رب پالنے والے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. یہ استعارے ہیں.
امید ہے کہ آپ کو اب یہ مصرع ناگوار محسوس نہیں ہوگا
ویسے اگر آپ کے پاس کوئی تجویز ہو تو پلیز متبادل شعر ارسال کیجے گا. میں ایڈٹ کر دوں گی
فاطمہ شیخ — اپریل 22، 2017 12:06 شام
ہمیشہ کی طرح حسب ِ روایت زبردست کاوش ۔
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب
فاطمہ شیخ — اپریل 22، 2017 12:06 شام
ماشاءاللہ۔اچھی نظم
شکریہ
فاطمہ شیخ — اپریل 22، 2017 12:07 شام
افسردگی کا تاثر لیے ہوئے ایک عمدہ کاوش۔
اعلیٰ:)
بہت شکریہ
لاریب مرزا — اپریل 22، 2017 12:10 شام
جی یہاں شوہر کو بطور مجازی خدا سمجھ کر اس کی جدائی کا کرب بیان کیا ہے، بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمے ہوتا ہے اور لفظ رب پالنے والے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. یہ استعارے ہیں.
امید ہے کہ آپ کو اب یہ مصرع ناگوار محسوس نہیں ہوگا
ویسے اگر آپ کے پاس کوئی تجویز ہو تو پلیز متبادل شعر ارسال کیجے گا. میں ایڈٹ کر دوں گی
نہیں بہنا!! ہم شاعری بالکل نہیں جانتے۔ باقی استعارے کا استعمال سمجھ گئے ہیں۔ بہت شکریہ!! :)
فاطمہ شیخ — اپریل 22، 2017 12:12 شام
نہیں بہنا!! ہم شاعری بالکل نہیں جانتے۔ باقی استعارے کا استعمال سمجھ گئے ہیں۔ بہت شکریہ!! :)
نوازش
سلامت رہیں
عاطف ملک — اپریل 22، 2017 12:16 شام
میری چُنی چِھیکو چھیک
میرے سِر تے چوکھا سِیک
میری اکھیاں وچ ہنیر
مینوں کِکر دِسدے بِیر
میرے سینے ہجر دا تیر
مینوں کیتا لِیرولِیر
میرے ہتھیں کاسہ خالی
میری صورت بنی سوالی
میرا کوئی نا مرض پچَھانے
مینوں سارے دِیون طعنے
میری ہوئی نا شنوائی
مینوں سارے کیہن شُدائی
نا رؤواں نا کُرلاواں
نا اپنا حال سناواں
میری چُپ مینوں کیتا جھلی
ہن رہ گئی آں میں کلّی
میری جندڑی کلّا رُکھ
میرے چار چفیرے دُکھ
میں کلّم کلّی نار
میرا کوئی گھر نا بار
نا بیلی نا دلدار
نا پیار تے نا بیوپار
میرا کوئی نا کُل جہان
نا سائیں نا سلطان
میرا کوئی نا دین ایمان
میرا کوئی نا رب رحمان
ماشا اللہ۔۔۔۔۔۔مجھے تو آپ اچھی خاصی تجربہ کار شاعرہ لگتی ہیں :)
ایسے ہی لکھتی رہیں اور ہمیں اپنے عمدہ کلام سے نوازتی رہیں۔
فاطمہ شیخ — اپریل 22، 2017 12:24 شام
ماشا اللہ۔۔۔۔۔۔مجھے تو آپ اچھی خاصی تجربہ کار شاعرہ لگتی ہیں :)
ایسے ہی لکھتی رہیں اور ہمیں اپنے عمدہ کلام سے نوازتی رہیں۔
مجھے شاعری کی سمجھ بوجھ نہیں ہے. میں آپ کو بتا چکی ہوں
آپ نے عروض کا تذکرہ کیا تھا
کیا آپ مجھے کچھ کتب تجویز کر سکتے ہیں؟
فرخ منظور — اپریل 28، 2017 6:49 صبح
میری چُنی چِھیکو چھیک
میرے سِر تے چوکھا سِیک
میری اکھیاں وچ ہنیر
مینوں کِکر دِسدے بِیر
میرے سینے ہجر دا تیر
مینوں کیتا لِیرولِیر
میرے ہتھیں کاسہ خالی
میری صورت بنی سوالی
میرا کوئی نہ مرض پچَھانے
مینوں سارے دِیون طعنے
میری ہوئی نہ ہن شنوائی
مینوں سارے کہن شُدائی
نہ رؤواں نا کُرلاواں میں
نہ اپنا حال سناواں میں
میری چُپ کیتا مینوں جھلی
ہن رہ گئی آں میں کلّی
میری جندڑی کلّا رُکھ
میرے چار چفیرے دُکھ
میں کلّم کلّی نار
میرا گھر کوئی نہ بار
نہ بیلی نہ دلدار
نہ پیار تے نہ بیوپار
میرا کوئی نہ کُل جہان
نہ سائیں سلطان
میرا کوئی نہ دین ایمان
میرا کوئی نہ رب رحمان
بہت ودیا۔ فاطمہ شیخ صاحبہ تہاڈے کلام تے املا وچ تھوڑی جیہی اصلاح کیتی اے۔ ویکھ لینا۔
فاطمہ شیخ — اپریل 28، 2017 9:38 صبح
میری چُنی چِھیکو چھیک
میرے سِر تے چوکھا سِیک
میری اکھیاں وچ ہنیر
مینوں کِکر دِسدے بِیر
میرے سینے ہجر دا تیر
مینوں کیتا لِیرولِیر
میرے ہتھیں کاسہ خالی
میری صورت بنی سوالی
میرا کوئی نہ مرض پچَھانے
مینوں سارے دِیون طعنے
میری ہوئی نہ ہن شنوائی
مینوں سارے کہن شُدائی
نہ رؤواں نا کُرلاواں میں
نہ اپنا حال سناواں میں
میری چُپ کیتا مینوں جھلی
ہن رہ گئی آں میں کلّی
میری جندڑی کلّا رُکھ
میرے چار چفیرے دُکھ
میں کلّم کلّی نار
میرا گھر کوئی نہ بار
نہ بیلی نہ دلدار
نہ پیار تے نہ بیوپار
میرا کوئی نہ کُل جہان
نہ سائیں سلطان
میرا کوئی نہ دین ایمان
میرا کوئی نہ رب رحمان
بہت ودیا۔ فاطمہ شیخ صاحبہ تہاڈے کلام تے املا وچ تھوڑی جیہی اصلاح کیتی اے۔ ویکھ لینا۔
بہت بہت شکریہ
مجھے یہ بھی بتائیے گا پلیز کہ ایڈٹ کیسے اور کہاں سے کرنی ہے
میں آپ کی اصلاح کردہ ہی پوسٹ کرنا چاہتی ہوں
فرخ منظور — اپریل 28، 2017 10:27 صبح
بہت بہت شکریہ
مجھے یہ بھی بتائیے گا پلیز کہ ایڈٹ کیسے اور کہاں سے کرنی ہے
میں آپ کی اصلاح کردہ ہی پوسٹ کرنا چاہتی ہوں

آپ شاید اب ایڈٹ نہ کر سکیں۔ اس لیے رپورٹ میں جا کر رپورٹ کریں اور وہ ٹیکسٹ رپورٹ میں کاپی کر کے ایڈمن کو بتا دیں کہ یہ والا ٹیکسٹ اس پوسٹ میں ایڈٹ کر دیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DB%8C%D9%88%DA%AF%DB%8C.95968/