راگی کی وار

سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:24 صبح
120264_raagiji.jpg

راگی کی وار
وار کے لفظی معنی رزمیہ نظم کے ہیں۔ وار یا جنگنامہ دنیا کے تمام قبائلی اور زرعی معاشروں کا حصہ رہا ہے۔ پنجاب میں وار صدیوں تک بہت مقبول رہی ہے لیکن شاید اب اس میں کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھیں۔
وار تھیٹر کی ایک انتہائی قدیم صنف ہے۔ تھیٹر کے ایک کمرشل حقیقت کے طور پر ابھرنے اور آہستہ آہستہ تھیٹر ہالز میں مختلف طبقات کے لیے مختلف نشستیں مخصوص ہونے سے قبل تھیٹر صدیوں تک تہذیبوں کی رسومات کا حصہ رہا ہے۔ مذہبی رسومات سے لے کر جنگوں تک تھیٹر انسانی زندگی میں شامل رہا اور مختلف جذباتی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔
پرانے زمانے میں پنجاب میں جہاں قصے اور رومانوی داستانیں چوپال میں بیٹھ کر سنی جاتی تھیں، وار میدانِ جنگ میں سنائی جاتی۔
سعید خاور بھٹہ وہ واحد سکالر ہیں جو واروں اور قصوں پر ایک عرصے سے تحقیق کا کام کررہے ہیں اور انہوں نے کئی قصوں اور واروں کو کتابی شکل میں محفوظ کیا ہے۔ پروفیسر بھٹہ کے بقول یہ روایت دنیا کی کئی زبانوں میں موجود ہے اور جب سورما میدانِ جنگ میں لڑرہے ہوتے تھے تو واریئے، میراثی، راگی یا ڈھاڈی پیچھے سے بلند آواز میں ان کے اجداد کے کارنامے انہیں سناتے تھے جنہیں وار کہتے تھے۔
1202715_dhad.gif

ڈھڈ یا ڈمرو
ڈھاڈی بنیادی طور پر ڈھڈ یا ڈمرو بجانے والے کو کہتے ہیں۔ پنجاب میں بابا گرو نانک اور بابا فرید شکر گنج کی نسبت سے ڈھاڈیوں، میراثیوں، ربابیوں اور راگیوں کے بہت سے سلسلے پشت در پشت آگی بڑھے۔ گرو گرنتھ پڑھ کے سنانے والے آج راگی کہلاتے ہیں اور گرو گرنتھ کی بہت سی شاعری واروں کی شکل میں محفوظ ہے۔
پروفیسر بھٹہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں وار کی تاریخ بہت قدیم ہے اور یہ سلاطین کے عہد سے بھی پہلے سے چلی آرہی ہے۔ سکھوں کے گرو ارجن دیو جی نے گرو گرنتھ کی شاعری کے لیے طرزیں مرتب کرنے کے لیے پنجاب بھر سے ڈھاڈیوں کو جمع کیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقی پنجاب کے راگی اپنا شجرہِ نسب سکھوں کے پہلے گرو بابا نانک کے دو ساتھیوں میں سے ایک بابا مردانہ کے ساتھ جوڑتے ہیں جو بابا کے ہمراہ رہتے تھے اور ان کی شاعری یاد کر لیا کرتے تھے۔ بابا مردانہ مسلمان تھے، رباب بجاتے تھے اور اسی نسبت سے ربابی کہلاتے تھے۔
ایک اور روایت کے مطابق سکھوں کے چھٹے گرو ہرگوبند کے حکم پر ڈھاڈیوں، ربابیوں اور راگیوں نے واروں میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کیا کہ یہ زمانہ پنجاب میں سکھ گروؤں اور مغلوں کے درمیان مسلسل جنگوں کا زمانہ رہا ہے۔ اس زمانے کے دو ڈھاڈی بھائی ناتھا اور بھائی عبداللہ کو آج تک سکھ تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے۔ بھائی عبداللہ ایک زبردست شاعر تھے اور گرو کے دربار میں اپنا کلام گایا کرتے تھے۔
بقول پروفیسر بھٹہ کے ان واروں میں قدیم پنجاب کی عام زندگی کی تمام تاریخ موجود ہے۔ مثلاً سماج کی کیا اخلاقی اقدار تھیں، بہادری کیا تھی اور دھوکہ دہی کیا تھی؟ سچ کیا تھا اور سچ کے لیے مرنا کیا؟ جانور کیسے ہوتے تھے اور انہیں پالنے کے طریقے کیا تھے؟ وغیرہ
1203428_saeedbhutta203.jpg

پروفیسر سعید بھٹہ
بعد میں ان واروں میں جنگوں کے علاوہ عشق کی داستانیں بھی سنائی جانے لگیں کہ ان صوفی مزاج گانے والوں کے مطابق یہ بھی سماج کے جامد رویوں کے خلاف بغاوت کی ایک شکل تھیں۔
پاکستان بننے کے بعد پنجاب کے سب سے زیادہ مقبول واریں گانے والے شریف اور صدیق راگی رہے ہیں۔ صدیق راگی کی وفات کے بعد جو استاد تھے، شریف راگی اب اکیلے یہ واریں سناتے ہیں۔
اگر پنجاب کے زرعی معاشرے میں نصرت فتح علی خان کی طرح کوئی مقبول فنکار رہا ہے تو وہ شریف راگی ہی ہیں۔ نصرت کے زیادہ تر ریکارڈز اور کیسٹس ریلیز کرنے والی فیصل آباد کی کمپنی رحمت گراموفون ہی نے شریف راگی کے اب تک باسٹھ والیوم ریلیز کئے ہیں جبکہ اٹھارہ مزید والیوم ابھی موجود ہیں۔
شریف راگی شاید ان چند واریوں میں سے بچ گئے ہیں جو آج بھی پرانے انداز میں واریں سناتے ہیں۔
اگلے صفحات میں آپ شریف راگی کی آواز اور تصویر میں ان کی زندگی کی چند جھلکیاں دیکھ سکتے ہیں۔
وار گانے والے کھڑے ہو کر گاتے ہیں اور اسے دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثری بیانیہ حصے جن میں کہانی کو واقعات کی اہم تبدیلیوں کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے اور شعر بند یا بحر میں بندھے ہوئے حصے جنہیں گا کر سنایا جاتا ہے۔ واریں گانے والے روایتی چمک دمک والے لباس پہن کر میدان میں اترتے ہیں اور موضوع کی مناسبت سے اداکارانہ انداز میں روایتیں بیان کرتے ہیں۔ داستان کے المیہ، طربیہ، پرجوش اور جنگی حصوں کے ساتھ ساتھ بیان کرنے والے کی شخصیت اور انداز بدلتا رہتا ہے جو انہیں کرداروں اور ان کی اس لمحے کی حقیقت کے قریب تر لے جاتا ہے۔
1202921_nar152.jpg

الغوزہ واروں کے تین سازوں میں سے ایک ہے_
ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستانی درسی کتب میں پڑھائی جانے والی تاریخ ان واروں کے بالکل برعکس ہے۔ ان واروں کے ہیرو اس مذہبی شناحت سے بالکل بالاتر ہیں جو پاکستانی ریاست کا خاصہ رہی ہے۔ جہاں یہ سکندرِ اعظم سے لڑنے والے ہندو راجہ پورس کے گن گاتی ہیں، وہاں یہ مغلوں کو ’چغتے‘ کے طور پر یاد کرتی ہیں اور ان کے خلاف لڑنے والے دلا بھٹی اور جیمل پھتہ کی بہادری کے قصے سنا کر نوجوانوں کو ان جیسے سورما بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔
جیمل پھتہ ایک آزاد طبع ہندو سورما تھا جس نے اکبر کے بہت سے مطالبے پورے کیے مگر جب اکبر نے اس کی بیٹی کی خوبصورتی کی تعریف سن کا رشتہ مانگا تو وہ اکبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ سوال یہ ہے کہ گاؤں میں یہ وار سنتے ہوئے بڑا ہونے والا ایک پنجابی بچہ جب سکول میں تاریخ پڑھتا ہوگا تو اس کے لیے سچ کیا ہوگا؟ مغلوں کے بارے میں سرکاری تاریخی مؤقف یا بچپن سے سنی جانے والی ان واروں کا دیومالائی تصور؟
آج کے پنجاب میں وار بھی اپنے اختتام پر ہے۔ زمانے بدلنے کے ساتھ ساتھ جہاں باقی اصناف میں لکھنے، گانے، اداکاری اور ہدایت کاری کی سپیشلائزیشن بڑھتی گئی ہے، دوسری رویتوں کے ساتھ یہ قدیم روایت بھی غائب ہو رہی ہے۔ پنجاب میں اب صرف نجم حسین سید ہی ایک شاعر ہیں جو جدید شاعری میں واریں لکھتے ہیں۔ ان کی واریں عام لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں ہیں جو ہمارے آج کی حقیقت سے قریب تر ہیں لیکن ان واروں کو قدیم انداز میں گاکر بیان کرنے کی روایت کسی جدید شکل میں دکھائی نہیں دیتی۔
کیا آج کے پنجاب میں وار کی گنجائش موجود ہے؟ کیا آج کے پنجاب میں جبر کے خلاف بغاوت کی خواہش موجود ہے جو ان کہانیوں کا اصل مقصد تھی؟ پروفیسر سعید بھٹہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جب تک بقاء کی خواہش موجود ہے، واریں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہیں گی۔
ربط
http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/specials/1350_theatrms/page11.shtml
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:24 صبح
121124_raagi_home555.jpg

’گھر کے بھاگ‘
یہ جڑانوالہ میں شریف راگی کا گھر ہے۔ باوجود پنجاب کے انتہائی مقبول واریں گانے والے فنکار ہونے کے بقول شریف راگی کے ’گھر دے بھاگ بنیریاں توں دسدے نیں (گھر کے بھاگ بنیروں سے نظر آتے ہیں)۔‘
121157_raagi_talking.jpg

سورما راگی
شریف راگی انتہائی سادہ مزاج آدمی ہیں۔ ان کی عمر آسانی سے پتہ نہیں چلتی لیکن وہ ساٹھ کی دہائی بہت پہلے پار کر چکے ہیں۔ اگر گفتگو میں کبھی ان کی سانس پھول بھی جائے تو بھی جب وہ وار سناتے ہیں تو ان کی شخصیت بالکل بدل جاتی ہے اور وہ اچانک ایک سورما نظر آنے لگتے ہیں۔
1212031_pictures.jpg

چند تصاویر
راگی جی کے کمرے میں بہت مختصر سا سامان ہے جو زیادہ تر کئی تصاویر پر مشتمل ہے۔ اس میں برمنگھم کے قیام، جب سکھوں نے انہیں واریں سننے کے لیے بلایا تھا، عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے ساتھ اور بچپن اور جوانی کی تصاویر شامل ہیں۔ برمنگھم کے قیام کا ایک دلچسپ قصہ وہ یہ سناتے ہیں کہ جب انہیں گردوارے میں مسلمان ہونے کی وجہ سے داخل ہونے میں مشکل پیش آئی۔ لیکن وہاں پہنچ کر جو انہوں نے سکھ گروؤں کا کلام سنانا شروع کیا تو گردوارے میں ہر کوئی دنگ رہ گیا
1212650_youngboy555.jpg

لڑکپن کی تصویر
شریف راگی کہتے ہیں کہ انہیں وار گانے کا شوق بچپن میں تقریباً آٹھ برس کی عمر سے ہوا جب ان کے استاد صدیق راگی ان کے گاؤں میں گانے کے لیے آئے۔ یہ تقسیم سے قبل کی بات ہے جب ان کے والدین مشرقی پنجاب میں سکونت پذیر تھے۔ انہوں نے اپنے استاد کو سنا تو اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ تعلیم ان کی مرضی کی چیز نہیں ہے اور وہ یہی کام سیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر تقسیم کے بعد سب کچھ بکھر گیا اور ان کا خاندان ہجرت کرکے فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں میں آن بسا۔ انیس سو پچاس کے قریب صدیق راگی پھر ان کے اس گاؤں میں واریں پڑھنے آئے۔ شریف راگی جاکر ان کی جھولی میں بیٹھ گئے۔ ان کے استاد نے انہیں ان کے والدین سے مانگا کہ ان کی اولاد نہیں تھی اور ان کے والد نے یہ کہہ کر انہیں استاد کے حوالے کردیا کہ یہ اس کام سے باز تو آتا نہیں ہے ، سو آپ ہی اس کا کچھ کریں۔
1213316_raagi_portrait555.jpg

سوتے ہوئے بھی
شریف راگی کی یاداشت خاندانی لوک فنکاروں کی طرح حیرت انگیز ہے۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ یاداشت میراثیوں کے تو جینز میں ہوتی ہے لیکن وہ شیخ راجپوت ہیں اور ان کا استاد ارائیں تھا تو انہوں نے کیسے یہ ملکہ حاصل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دن رات اس پر کام کرتے رہتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات سوتے ہوئے جاگ جاتے تو بھی یہ چیزیں دہراتے ہوئے پائے جاتے۔
121387_raagi_performance.jpg

سٹیج پر
سٹیج پر شریف راگی کی غربت ایک دیومالائی سورما کے پرجوش جذبوں میں بدل جاتی ہے۔ وہ جب شاہ داؤد کا قصہ، دلا بھٹی، جیمل پھتہ یا مرزے کی وار یا واقعہ کربلا سناتے ہیں تو ان کرداروں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں، جو شاعری میں بولتے ہیں۔
1214436_sharifraagi555.jpg

ساڈا پاکستان‘
شریف راگی جب بھی پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمیشہ ’ساڈا پاکستان‘ کہتے ہیں لیکن باسٹھ کیسٹس کے باوجود پاکستان انہیں پہچان نہیں پایا۔ اگرچہ وہ ریڈیو اور ٹی وی پر کئی بار آچکے ہیں لیکن ان کی واروں کو جاننے، سمجھنے اور ان سے لطف اٹھانے کے لیے دھرتی کے ساتھ ایک ایسے سمبندھ کی ضرورت ہے جو ’نظریاتی اساس‘ کی حدود سے آزاد ہو۔
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:34 صبح
شمشاد
نایاب
نیرنگ خیال
پردیسی
عاطف بٹ
فلک شیر
تلمیذ
عسکری — اپریل 1، 2013 10:37 صبح
زبردست بلکہ اس سے بھی اچھا مجھے خؤد علم نہیں تھا اب ان کا کلام سرچ کرتا ہوں یوٹیوب پر (y)
شمشاد — اپریل 1، 2013 10:50 صبح
کیا بات ہے جی آپ کی۔
بہت شکریہ۔
عاطف بٹ — اپریل 1، 2013 10:51 صبح
واہ، بہت ہی دلچسپ اور معلوماتی شراکت ہے۔
بہت شکریہ شاہ جی!
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:52 صبح
زبردست بلکہ اس سے بھی اچھا مجھے خؤد علم نہیں تھا اب ان کا کلام سرچ کرتا ہوں یوٹیوب پر (y)
تسی پنجاب سمجھ جاندے او؟
بلے او بلے شاوا سورما شاوا :thumbsup:
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:53 صبح
کیا بات ہے جی آپ کی۔
بہت شکریہ۔
محبت ہے آپ کی بھائی جی :)
شاد و آباد رہیں
عسکری — اپریل 1، 2013 10:54 صبح
تسی پنجاب سمجھ جاندے او؟
بلے او بلے شاوا سورما شاوا :thumbsup:
تے ہور کی اسی جاپانی سمجھدے آں ؟:grin:
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:54 صبح
واہ، بہت ہی دلچسپ اور معلوماتی شراکت ہے۔
بہت شکریہ شاہ جی!
ہسدے وسدے رہو بٹ صاحب
محسن وقار علی — اپریل 1، 2013 10:55 صبح
:zabardast1:انکل(y)
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:55 صبح
تے ہور کی اسی جاپانی سمجھدے آں ؟:grin:
کی پتہ سمجھ جاندے او
تہاڈی تے اجے تیکر سمجھ نئیں آئی :mad3:
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 10:56 صبح
خوش رہو کاکا :)
عسکری — اپریل 1، 2013 11:02 صبح
کی پتہ سمجھ جاندے او
تہاڈی تے اجے تیکر سمجھ نئیں آئی :mad3:
لئو جی اجے تیکر سمجھ نہیں ؟ میں سدھا سادا بندا واں کوئی میٹرک دے امتحان دا پرچہ نئیں کے توانوں سمجھ نئیں آئی :grin:
شمشاد — اپریل 1، 2013 11:09 صبح
بالکل بالکل سیدھا سادا جلیبی ورگا۔
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 11:19 صبح
لئو جی اجے تیکر سمجھ نہیں ؟ میں سدھا سادا بندا واں کوئی میٹرک دے امتحان دا پرچہ نئیں کے توانوں سمجھ نئیں آئی :grin:
:laughing3:
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 11:20 صبح
بالکل بالکل سیدھا سادا جلیبی ورگا۔
آہو تے ہور کی :)
نیرنگ خیال — اپریل 1، 2013 12:34 شام
بہت عمدہ اور معلوماتی تحریر۔۔۔ بہت شکریہ سرکار :)
سید شہزاد ناصر — اپریل 1، 2013 1:28 شام
بہت عمدہ اور معلوماتی تحریر۔۔۔ بہت شکریہ سرکار :)
پسند کرنے کا شکریہ
شادو آباد رہیں
پردیسی — اپریل 1، 2013 1:54 شام
بہت عمدہ اور معلومات سے بھرپور شراکت
خو رہیں پا جی
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A7%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D8%A7%D8%B1.61975/