ظہور احمد سولنگی — مئی 13، 2009 9:35 صبح
شاہ جو رسالو
اپنا روگ پر موجود ہے
محسن حجازی — مئی 13، 2009 11:50 صبح
میرے ماموں جان شکیل احمد طاہری نے شاہ جو رسالو کا منظوم پنجابی ترجمہ کیا ہے جو ان کے مجموعے "سفر دے دشمن" میں شائع ہوا ہے۔ یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن شاید یہ وہی ہو۔