سید شہزاد ناصر — ستمبر 14، 2013 4:13 شام
عِلموں بس کریں او یار!
اِکّو الف ترے درکار
عِلم نہ آوے وچ شُمار!
جاندی عُمر، نہیں اِعتبار
اِکّو الف ترے درکار
عِلموں بس کریں او یار!
عِلموں بس کریں او یار!
پڑھ پڑھ لکھ لکھ لاویں ڈھیر
ڈھیر کتاباں چار چوپھیر
گِردے چانن وچّ انھیر
پُچھّو: “راہ؟“ تے خبر نہ سار
عِلموں بس کریں او یار!
پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں
اُچیاں بانگاں، چانگاں ماریں
مِنبر تے چڑھ، وُعظ پُکاریں
کیتا تینوں علم خوار
عِلموں بس کریں او یار!
عِلموں پئے قِضیّے ہور
اکھّاں والے انّھے کور
پھڑدے سادھ، تے چھڈن چور
دو ہِیں جہانِیں، ہون خوار
عِلموں بس کریں او یار!
ڑھ پڑھ شیخ مشائخ کہاویں
اُلٹے مَسلے گھروں بناویں
بے عِلماں نوں لُٹ لُٹ کھاویں
جھوٹے سچے کریں اقرار
عِلموں بس کریں او یار!
پڑھ پڑھ مُلاں ہوئے قاضی
اللہ عِلماں باجھوں راضی
ہووے حرص دنوں دِن تازی
تینوں کیتا حرص خوار
عِلموں بس کریں او یار!
پڑھ پڑھ مسئلے پیا سناویں
کھانا شکّ شُبھے دا کھاویں
دسیں ہور تے ہور کماویں
اندر کھوٹ باہر سُچیار
عِلموں بس کریں او یار!
جد میں سبق عشق دا پڑھیا
دریا دیکھ وحدت دا وڑیا
گھمّن گھیریاں دے وچ اڑیا
شاہ عنایت لا یا پار!
عِلموں بس کریں او یار!
عائشہ عزیز — ستمبر 14، 2013 4:20 شام
بہت خوبصورت کلام!
جزاک اللہ انکل
فارقلیط رحمانی — ستمبر 14، 2013 4:23 شام
سیدعالی مقام !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یوں تو ہم پنجابی سے نا بلد کہلاتے ہیں، لیکن آپ کی صحبت سے اتنا درک تو حاصل کر ہی لیا ہے،کہ مذکورہ فن پارے کی جمالیات سے لطف اندوز ہو سکیں۔
بزبان گجراتی عرض کریں تو اس کا رساسواد (رس+ آسواد=رس کا ذائقہ چکھنا)کر سکیں یا رس پان (رس+پان=رس پینا) کر سکیں۔ایک بار پھر آپ نے اپنی
دیرینہ روایت کی پاسداری کرتے ہوئے دلوں کو چھو لینے والا، دلوں کو دھو دینے والاایک پھڑکتا ہوا فن پارہ پیش کیا ہے۔
شیئرنگ کے لیے بے حد شکریہ،
مدیحہ گیلانی — ستمبر 14، 2013 4:32 شام
سدا بہار کلام ہے یہ تو جب بھی نظر سے گذرا کچھ نیا پن ہی ملا ۔
ارسال فرمانے کا شکریہ محترم ۔
سلامت رہیں ۔
سید شہزاد ناصر — ستمبر 14، 2013 6:11 شام
بہت خوبصورت کلام!
جزاک اللہ انکل
سدا خوش رہو بیٹا

سید شہزاد ناصر — ستمبر 14، 2013 6:13 شام
سیدعالی مقام !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یوں تو ہم پنجابی سے نا بلد کہلاتے ہیں، لیکن آپ کی صحبت سے اتنا درک تو حاصل کر ہی لیا ہے،کہ مذکورہ فن پارے کی جمالیات سے لطف اندوز ہو سکیں۔
بزبان گجراتی عرض کریں تو اس کا رساسواد (رس+ آسواد=رس کا ذائقہ چکھنا)کر سکیں یا رس پان (رس+پان=رس پینا) کر سکیں۔ایک بار پھر آپ نے اپنی
دیرینہ روایت کی پاسداری کرتے ہوئے دلوں کو چھو لینے والا، دلوں کو دھو دینے والاایک پھڑکتا ہوا فن پارہ پیش کیا ہے۔
شیئرنگ کے لیے بے حد شکریہ،
آداب عرض ہے جناب
اللہ آپ کو ڈھیروں سعادتیں عنایت فرمائے آمین
سید شہزاد ناصر — ستمبر 14، 2013 6:14 شام
سدا بہار کلام ہے یہ تو جب بھی نظر سے گذرا کچھ نیا پن ہی ملا ۔
ارسال فرمانے کا شکریہ محترم ۔
سلامت رہیں ۔
بہت ممنون ہوں
آپ نے پسند کیا
اللہ آپ کو بہت سی خوشیاں دے آمین