محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 21، 2017 10:57 صبح
لیکھاں وچ وچھوڑے رہ گئے
اتھرو رو رو تھوڑے رہ گئے
اک نہ منی اوہنے میری
ہتھ وی میرے جوڑے رہ گئے
جاندی واری چھڈ گیا مینوں
پجے وال نچوڑے رہ گئے
عید دی فجرے مڑ نئیں آیا
موتیے دے پھل توڑے رہ گئے
ہن تے آ کے مل جا سجناں
زندگی دے دن تھوڑے رہ گئے
محمد وارث — ستمبر 22، 2017 11:13 صبح
کلام اچھا ہے لیکن وارث شاہ کا لگتا نہیں۔ یہ اُس زمانے کی پنجابی لگ نہیں رہی۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 22، 2017 12:13 شام
کلام اچھا ہے لیکن وارث شاہ کا لگتا نہیں۔ یہ اُس زمانے کی پنجابی لگ نہیں رہی۔
سر اس کلام کا
لنک حاضر خدمت ہے۔

محمد وارث — ستمبر 22، 2017 12:16 شام
سر اس کلام کا
لنک حاضر خدمت ہے۔
پھر لنک والوں کی غلطی ہوگی۔ وارث شاہ کا "ہیر" کے علاوہ کوئی کلام معروف نہیں ہے، اور ظاہر ہے یہ کلام "ہیر" میں سے نہیں ہے۔

محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 22، 2017 12:18 شام
پھر لنک والوں کی غلطی ہوگی۔ وارث شاہ کا "ہیر" کے علاوہ کوئی کلام معروف نہیں ہے، اور ظاہر ہے یہ کلام "ہیر" میں سے نہیں ہے۔
ہوسکتا ہے آپ کا خدشہ درست ہو ۔مجھے کلام پسند آیا محفل میں شیئر کردیا۔
