صاحبہ دوہے کے دونوں مصرعوں میں اختتام میں ہم قافیہ الفاظ ضروری ہیں
صاحبہ دوہے کے دونوں مصرعوں میں اختتام میں ہم قافیہ الفاظ ضروری ہیں
جی وہ لائٹ چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔اسی کو بدل رہی تھی میں ۔
قبلہ آسی صاحب! جناب عبید صاحب کے اعتراض کے مطابق دوہے کے اختتامی حرف کا ساکن ہونا شرط ہے۔ جبکہ میں نے اس حوالے سے جمیل الدین عالی، بھگت کبیر اور دوسرے شعرا کے دوہوں کی مثالیں پیش کی ہیں کہ آخری حرف ساکن ہونا ضروری نہیں ان کو اختتامی "ی" ، "یے" اور "ئیں" گرا کر جلائیں، کہلائے، دکھائیں، آئی، دکھائی ، کھلائے، آئے جیسے الفاظ پر بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ ریفرنس کیلئے اس لنک پر جمیل الدین عالی مرحوم کے دوہے موجود ہیں۔ اس "آخری حرف" کے بارے آپ کی رائے درکار ہے
یاد آوری کے لئے ممنون ہوں۔ دعاؤں میں بھی یاد رکھئے گا۔
"آخری حرف ساکن" سے کیا مراد ہے؟ آپ شاید "آخری حرف ہجائے کوتاہ" کہنا چاہ رہے ہیں؟
قبلہ آسی صاحب آپ علوم عروض اور زبان و بیان کا وہ سمندر ہیں جس سے مجھ جیسے ہزاروں پیاسے دشت سیراب ہوتے ہیں۔ مجھ جیسا نوآموز بچونگڑا کیا جانے ان اوکھی شوکھی اصطلاحات کو۔ مجھے آپ سے صرف اس بارے رائے مطلوب ہے کہ میرے ان مصرعوں میں سوالی ( فعول -121) اور عالی ( فاع-12) کو درست باندھا گیا یا غلط۔ قبلہ عبید صاحب کا غالبا کہنا ہے کہ دوہا میں سوال اور عال درست ہے سوالی اور عالی نہیں باندھ سکتے، یعنی آخری لفظ کی "ی" گرانا درست نہیں۔ جبکہ جمیل الدین عالی، بھگت کبیر، رتن سنگھ اور دوسرے نامور شعرا نے آخری "ی"۔ "یے" گرا کر ، کیاری، دلاری، مالی، جائے، آئے، پائے، آئی، منائی، مناؤں، پاؤں، جیسے تمام الفاظ استعمال کئے۔
"متفق" کی ریٹنگ کے لئے بہت شکریہ جناب سلمان دانش جی
مطالعہ بہت ضروری ہے بھائی! اور یہ ہم سب کی علمی مجبوری ہے۔ مطالعے کا کوئی بدل نہیں ہے نہ علم میں شارٹ کٹ ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ صرف محلِ نظر ہے۔
جناب آسی صاحب مجھے قبلہ شاکر صاحب کی طرف سے دئے گئے اوزان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جناب عبید صاحب نے میرے الفاظ " سوالی اور عالی" پر اعتراض کیا تھا۔ جس کے جواب میں میں نے تمام معتبر دوہا نگاروں کے حوالہ جات پیش کیے ہیں۔ اسی حوالے سے جناب سے میرا بھی سوال صرف یہ کہ دوہا میں آخری فاع اور فعول کی "ی" "یے" گرانا کیسے غلط ہو سکتا ہے جبکہ تمام بڑے دوہا نگاروں نے ایسا ہی کیا ہے۔ آپ نے جو دوہے پیش کئے ہیں یہ کیسز تمام اختتامی حرف والے ہیں۔ میں پچاس ہزار ایسی مثالیں پیش کر سکتا ہوں جن میں آخری لفظ کی ی ، یے، ئ گرائی گئی ہیں۔میرا سوال اور موقف دونوں بڑے سیدھے سے ہیں۔ کہ جب تمام بڑے دوہا نگاروں نے آخری حرف کے حوالے سے وہی عمومی اصول اپنائے جو غزل اور نظم کیلیے ہیں تو پھر یہ کہاں سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دوہا کے ہر آخری حرف کا ساکت ہونا شرط ہے۔ آسی صاحب اگر میں غزل میں نظم میں یا نعت میں سوالی کو فعول میں باندھ سکتا ہوں تو میرے صاحب ! دوہے میں کیوں نہیں ؟۔ اور صاحب یہ میری ذاتی زبردستی نہیں یہ تو سب بڑے بڑے دوہا نگاروں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ کیا بیسیوں نامور شعرا کی کتابوں سے ان تمام دوہوں کو دوہوں کی کیٹیگری سے نکال کر باہر پھینک دیں گے جن کے اختتام میں آئے ، جائے، کیاری، گالی، گائیں ، وغیرہ وغیرہ جیسے ایست جفت ہیں جن میں ی، ے گرا کر فاع یا فعول میں باندھا گیا۔
فی امانِ اللہ۔