جبکہ میرے استاد گرامی کہتے ہیں کہ دوہے میں بھی دوسر اصناف سخن کی طرح آخری رکن میں "ی" یا "ئیں" جیسے الفاظ کو گرانے کی منانعت نہیں ہے۔
اگر میں غزل میں نظم میں یا نعت میں سوالی کو فعول میں باندھ سکتا ہوں تو میرے صاحب ! دوہے میں کیوں نہیں ؟۔
جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دوہا میں بھی غزل اور نظم کی طرح آخری " ی، ے، ئ " گرانے کی اجازت ہے۔ گو رباعی اور دوہا کی اپنی مخصوص بحریں ہیں ۔ لیکن عروض کے بنیادی تمام اصنافِ سخن کیلیے ایک جیسے ہیں۔ بس اس کے ساتھ ہی اپنا مقدمہ ختم۔
سلمان دانش بھائی دوہے کے اوزان پر اس گفتگو میں آپ کے محولہ بالا جملوں نے مجھے یہ اس دخل درمعقولات پر مجبور کردیا ۔

بھائی یہ بات تو درست ہے کہ جو مصرع
ئے ، ئی یا ؤ پر ختم ہوتا ہے اس میں ہمزہ کی حرکت کو حسبِ ضرورت گرانا اساتذہ نے روا رکھا ہے لیکن یہ بات درست نہیں کہ مصرع کے آخر سےایسی
ی یا
ے بھی گرائی جاسکتی ہے جو کسی لفظ کا آخری حرف ہو ۔ توضیح اس کی یہ ہے کہ ہمزہ (ء) دراصل کوئی حرف نہیں ہے ۔ نہ تو یہ اردو حروفِ تہجی کا باقاعدہ حصہ ہے اور نہ ہی اس سے کوئی لفظ شروع ہوتا ہے ۔ یہ دراصل ایک علامت ہے جو واؤ ،ے اور ی سے قبل آکران حروف کی آواز کو لمبا کردیتی ہے ۔ مثلا آؤ ، لاؤ ، آئی ، لائی، آئے، لائے وغیرہ ۔ ( ان الفاظ کی مغنونہ صورتوں یعنی آؤں ، لاؤں ، آئیں ، لائیں وغیرہ کو بھی اسی پر قیاس کیا جاتا ہے۔)۔ یعنی ہمزہ ان حروف پر دراصل زیر زبر پیش کی حرکت کا قائمقام ہوتا ہے ۔ اس لئے آئے جائےکھائے (یا آئیں ، جائیں ، کھائیں ) وغیرہ کی تقطیع کرتے وقت ہمزہ کو گرا کر
ی یا
ے کو ساکن کے طور پر برقرار رکھا جاتا ہے ۔ چنانچہ "جائے" کی تقطیع
جاے اور آئی کی تقطیع
آی بروزن فاع حسبِ ضرورت جائز ہے ۔ (ایک حرفِ ساکن مصرع کے آخر میں زیادہ کرنا تقریبا ہر بحر میں جائز اور عام مستعمل ہے ۔) ہمزہ گرانے کی کچھ مثالیں یہ ہیں۔
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے ۔ مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے - کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے (غالب)
یاقوت کوئی اِن کو کہے ہے ، کوئی گلبرگ ۔ ٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے
مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میں ۔ نالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کرجائے (میر)
لذتِ عشق الٰہی مٹ جائے - درد ارمان ہوا جاتا ہے (داغ)
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےئے ۔ ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائےئے (اقبال)
لیکن انہی اساتذہ نے مصرع کے آخر میں حسبِ مرضی ہمزہ کو برقرار بھی رکھا ہے ۔ مثالیں دیکھئے۔
لطفِ نظّارہء قاتل دمِ بسمل آئے - جان جائے تو بلاسے، پہ کہیں دل آئے (غالب)
زخموں پہ زخم جھیلے ، داغوں پہ داغ کھائے ۔ یک قطرہ خونِ دل نے کیا کیا ستم اٹھائے (میر تقی میر)
داغ سے کہہ دو اب نہ گھبرائے - کام اپنا بنا ہوا جانے
بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اک آنسو ندامت کا - جسے دامن میں لینے رحمتِ پروردگار آئے (داغ)
چنانچہ ہمزہ کو حسبِ مرضِی رکھا یا گرایا جاسکتا ہے ۔ لیکن ایسا ممکن نہیں کہ مصرع کے آخر میں بغیر ہمزہ کے آنے والی
ی یا
ے کو حسبِ ضرورت گرادیا جائے ۔ مثلا سوالی، عالی، سواری ، یاری ، ہمارے ، کنارے ، حوالے کے الفاظ اگر مصرع کے آخر میں آئیں تو ان کی یائے معروف یا یائے مجہول ہمیشہ تقطیع میں آئے گی ۔ گرائی نہیں جاسکتی ۔ مجھے دوہے کے اوزان کا کچھ زیادہ علم نہیں لیکن آپ کا یہ سوال کہ " ی اور ے کو دیگر اصنافِ سخن میں گرایا جاسکتا ہے تو دوہے میں کیوں نہیں " غلط فہمی پر مبنی معلوم ہوتا ہے ۔ میرے ناقص علم کے مطابق دیگر اصنافِ سخن میں ایسا نہیں ہوتا ۔ آپ کا دعوی ہے کہ ایسی ہزاروں مثالیں آپ کی نظر سے گزری ہیں ۔ لیکن اتفاق سے میرا مطالعہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ آج تک ایسی کوئی نظیر میری نظر سے نہیں گزری ۔ سلمان بھائی ، براہِ کرم اس سلسلے میں چند معتبر مثالیں اگر دکھا سکیں تو میں اپنی کم علمی دور کرنے پر آپ کا ممنون رہوں گا ۔


