اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے

ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:18 صبح
بہت عرصے کے بعد کچھ تازہ اشعار احبابِ محفل کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ خاکدان کا مجموعہ ترتیب دینے کے بعد بھی کئی ساری پرانی غزلیں اور نکل آئی ہیں ۔ چند ایک کی نوک پلک درست کرکے مکمل بھی کرلیا ہے اور وقتاً فوقتاً آپ کے ذوق کی نذر کرنے کا ارادہ ہے ۔ فی الحال یہ تازہ اشعار دیکھئے گا ۔ امید ہے کہ آپ کو پسند آئیں گے ۔

٭٭٭
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
مل گئے میرے مسیحا سے یہ قاتل میرے
دن نکلتے ہی چلے آئے مقابل میرے
یہ مری جاں کے طلبگار ، مسائل میرے
بے اماں کر گئی مجھ کو تو جزیروں کی تلاش
اب سمندر ہی رہا میرا نہ ساحل میرے
یہ سبب کم تو نہ تھا ترکِ تمنا کے لئے
تیری امید سے کم کم تھے وسائل میرے
مشکلیں جب سے بنیں سہل پسندی کا جواز
کام ہوتے گئے کچھ اور بھی مشکل میرے​

کیا کہوں دوستو میں اپنی وکالت میں اب اور
یہ مرے زخمِ مروّت ہیں دلائل میرے
-
اک طرف میں ہوں ، مری راہ گزر ، میری تھکن
اک طرف خواب نا آسودۂ منزل میرے
ہاتھ محوِ رقمِ نغمۂ آزادیِ رقص
پیر وابستۂ زنجیر و سلاسل میرے
-
مرے عادل نے مجھے جو بھی دیا ٹھیک دیا
اور کچھ تھا بھی نہیں دہر میں قابل میرے
حرفِ توصیف نہ بدلے گا حقیقت کو مری
مجھے معلوم ہے کیا کیا ہیں فضائل میرے​

کیسے آئے مری تمثیل میں سچائی ظہیؔر
سبھی کردار ہیں پروردۂ باطل میرے
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۲۰۲۱
محمد تابش صدیقی — جون 16، 2021 4:23 صبح
لاجواب ظہیر بھائی۔
ایک ایک شعر بیت الغزل
شاندار واپسی :)
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
مل گئے میرے مسیحا سے یہ قاتل میرے
دن نکلتے ہی چلے آئے مقابل میرے
یہ مری جاں کے طلبگار ، مسائل میرے
بے اماں کر گئی مجھ کو تو جزیروں کی تلاش
اب سمندر ہی رہا میرا نہ ساحل میرے
یہ سبب کم تو نہ تھا ترکِ تمنا کے لئے
تیری امید سے کم کم تھے وسائل میرے
مشکلیں جب سے بنیں سہل پسندی کا جواز
کام ہوتے گئے کچھ اور بھی مشکل میرے
کیا کہوں دوستو میں اپنی وکالت میں اب اور
یہ مرے زخمِ مروّت ہیں دلائل میرے
-
اک طرف میں ہوں ، مری راہ گزر ، میری تھکن
اک طرف خواب نا آسودۂ منزل میرے
ہاتھ مصروفِ رقم نغمۂ آزادیِ رقص
پیر وابستۂ زنجیر و سلاسل میرے
-
مرے عادل نے مجھے جو بھی دیا ٹھیک دیا
اور کچھ تھا بھی نہیں دہر میں قابل میرے
حرفِ توصیف نہ بدلے گا حقیقت کو مری
مجھے معلوم ہے کیا کیا ہیں فضائل میرے
کیسے آئے مری تمثیل میں سچائی ظہیؔر
سبھی کردار ہیں پروردۂ باطل میرے​
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:29 صبح
لاجواب ظہیر بھائی۔
ایک ایک شعر بیت الغزل
شاندار واپسی :)
بہت شکریہ! نوازش! ممنون ہوں تابش بھائی! مجھے خوشی ہے کہ آپ کو اشعار پسند آئے ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔
یہ سال شاعری کے لئے زرخیز رہا ہے اب تک۔ دو تازہ غزلیں اور ہیں ۔ وارننگ دے دی ہے ، تیار رہئے گا ۔:)
محمد تابش صدیقی — جون 16، 2021 5:00 صبح
یہ سال شاعری کے لئے زرخیز رہا ہے اب تک۔ دو تازہ غزلیں اور ہیں ۔ خوشخبری دے دی ہے ، تیار رہئے گا ۔:)
ضرور :)
سید عاطف علی — جون 16، 2021 6:15 صبح
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
مل گئے میرے مسیحا سے یہ قاتل میرے
واہ خوب غزل ہے ظہیر بھائی ۔ شاد آباد
محمداحمد — جون 16، 2021 6:34 صبح
واہ واہ واہ
بہت خوبصورت غزل ہے ظہیر بھائی!
ماشاء اللہ !
سب اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
مل گئے میرے مسیحا سے یہ قاتل میرے
کیا کہنے!
عمدہ مطلع ہے۔
بے اماں کر گئی مجھ کو تو جزیروں کی تلاش
اب سمندر ہی رہا میرا نہ ساحل میرے
واہ !
واقعی
مشکلیں جب سے بنیں سہل پسندی کا جواز
کام ہوتے گئے کچھ اور بھی مشکل میرے
یہ تو ہمارا حال کہا آپ نے۔
کیا کہوں دوستو میں اپنی وکالت میں اب اور
یہ مرے زخمِ مروّت ہیں دلائل میرے​
اللہ اللہ!
-
اک طرف میں ہوں ، مری راہ گزر ، میری تھکن
اک طرف خواب نا آسودۂ منزل میرے
بہت خوب
مرے عادل نے مجھے جو بھی دیا ٹھیک دیا
اور کچھ تھا بھی نہیں دہر میں قابل میرے
کیا کہنے ! واہ واہ!
ظہیر بھائی آپ کی غزل لائقِ صد ستائش ہے۔
ڈھیرو ں داد قبول کیجے۔ :) :)
محمد شکیل خورشید — جون 16، 2021 7:31 صبح
بہت ہی اعلیٰ، ماشا اللہ
محمد خلیل الرحمٰن — جون 16، 2021 7:39 صبح
بہت عرصے کے بعد کچھ تازہ اشعار احبابِ محفل کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ خاکدان کا مجموعہ ترتیب دینے کے بعد بھی کئی ساری پرانی غزلیں اور نکل آئی ہیں ۔ چند ایک کی نوک پلک درست کرکے مکمل بھی کرلیا ہے اور وقتاً فوقتاً آپ کے ذوق کی نذر کرنے کا ارادہ ہے ۔ فی الحال یہ تازہ اشعار دیکھئے گا ۔ امید ہے کہ آپ کو پسند آئیں گے ۔

٭٭٭
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
مل گئے میرے مسیحا سے یہ قاتل میرے
دن نکلتے ہی چلے آئے مقابل میرے
یہ مری جاں کے طلبگار ، مسائل میرے
بے اماں کر گئی مجھ کو تو جزیروں کی تلاش
اب سمندر ہی رہا میرا نہ ساحل میرے
یہ سبب کم تو نہ تھا ترکِ تمنا کے لئے
تیری امید سے کم کم تھے وسائل میرے
مشکلیں جب سے بنیں سہل پسندی کا جواز
کام ہوتے گئے کچھ اور بھی مشکل میرے​

کیا کہوں دوستو میں اپنی وکالت میں اب اور
یہ مرے زخمِ مروّت ہیں دلائل میرے
-
اک طرف میں ہوں ، مری راہ گزر ، میری تھکن
اک طرف خواب نا آسودۂ منزل میرے
ہاتھ مصروفِ رقم نغمۂ آزادیِ رقص
پیر وابستۂ زنجیر و سلاسل میرے
-
مرے عادل نے مجھے جو بھی دیا ٹھیک دیا
اور کچھ تھا بھی نہیں دہر میں قابل میرے
حرفِ توصیف نہ بدلے گا حقیقت کو مری
مجھے معلوم ہے کیا کیا ہیں فضائل میرے​

کیسے آئے مری تمثیل میں سچائی ظہیؔر
سبھی کردار ہیں پروردۂ باطل میرے
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۲۰۲۱
خوبصورت خوبصورت! کیا بات ہے صاحب! داد وصول فرمائیے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 16، 2021 8:29 صبح
اک طرف میں ہوں ، مری راہ گزر ، میری تھکن
اک طرف خواب نا آسودۂ منزل میرے
واہ! زبردست ... پوری غزل ہی لاجواب ہے ماشاء اللہ
محمد عدنان اکبری نقیبی — جون 16، 2021 10:40 صبح
ماشاء اللہ
لاجواب زبردست غزل ہے
ڈھیرو ں داد
میم الف — جون 16، 2021 10:46 صبح
ماشا٫اللہ - بہت عمدہ اشعار
ظہر کا وقت ظہور پذیر ہے اور ایسے میں ظہیر صاحب کے اشعار پہ اظہار خیال کر رہا ہوں۔
شاید یہ اس بات کا مظہر ہے کہ جو روشنی و حرارت ظہر کے وقت کو حاصل ہے، وہی ان اشعار کو بھی ہے۔
یاسر شاہ — جون 16، 2021 1:08 شام
السلام علیکم ظہیر بھائی۔
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
مل گئے میرے مسیحا سے یہ قاتل میرے
دن نکلتے ہی چلے آئے مقابل میرے
یہ مری جاں کے طلبگار ، مسائل میرے
بے اماں کر گئی مجھ کو تو جزیروں کی تلاش
اب سمندر ہی رہا میرا نہ ساحل میرے
کیا اچھے اشعار ہیں ۔ما شاء اللہ
یہ سبب کم تو نہ تھا ترکِ تمنا کے لئے
تیری امید سے کم کم تھے وسائل میرے
واہ۔حسب حال۔
اک طرف میں ہوں ، مری راہ گزر ، میری تھکن
اک طرف خواب نا آسودۂ منزل میرے
واہ ۔
یہاں "نا" کو زیادہ دبا دیا۔نہیں؟
بہرحال ایک عمدہ غزل پہ ہدیہء داد حاضر ہے۔:)
ریحان احمد ریحانؔ — جون 16، 2021 2:35 شام
سبحان الله بہت خوب
میم الف — جون 16، 2021 3:10 شام
ماشا٫اللہ - بہت عمدہ اشعار
ظہر کا وقت ظہور پذیر ہے اور ایسے میں ظہیر صاحب کے اشعار پہ اظہار خیال کر رہا ہوں۔
شاید یہ اس بات کا مظہر ہے کہ جو روشنی و حرارت ظہر کے وقت کو حاصل ہے، وہی ان اشعار کو بھی ہے۔
یہ تبصرہ کرنے کے بعد لیٹا ہی تھا کہ ایک لفظ اظہر بھی ذہن میں آ گیا۔
اگر پہلے ذہن میں آ جاتا تو اسے بھی اس تبصرے میں پرو دیتا۔
ایسے شعر کہنے والے تو کم ہیں ہی - ایسی داد دینے والے بھی اب کہاں ہیں - آہ!
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:11 شام
اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے
مل گئے میرے مسیحا سے یہ قاتل میرے
واہ خوب غزل ہے ظہیر بھائی ۔ شاد آباد
آداب ! نوازش ! بہت شکریہ عاطف بھائی !
اللہ آپ کو سلامت رکھے ، آپ نے دل بڑھادیا ۔ بہت شکریہ!
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:13 شام
واہ واہ واہ
بہت خوبصورت غزل ہے ظہیر بھائی!
ماشاء اللہ !
سب اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔
کیا کہنے!
عمدہ مطلع ہے۔
واہ !
واقعی
یہ تو ہمارا حال کہا آپ نے۔
اللہ اللہ!
بہت خوب
کیا کہنے ! واہ واہ!
ظہیر بھائی آپ کی غزل لائقِ صد ستائش ہے۔
ڈھیرو ں داد قبول کیجے۔ :) :)

بہت بہت شکریہ احمد بھائی !
اچھے شاعر کی طرف سے حرفِ تحسین ہمیشہ باعثِ افتخار ہوتا ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔
ڈھیروں شکریہ!:):):)
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:14 شام
بہت ہی اعلیٰ، ماشا اللہ
نوازش! بہت شکریہ شکیل بھائی !
ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:16 شام
خوبصورت خوبصورت! کیا بات ہے صاحب! داد وصول فرمائیے
شکریہ شکریہ!
خلیل بھائی ، ویسے تو ہماری آپ سے کُٹی ہے آج کل لیکن پھر بھی داد قبول کئے لیتے ہیں ۔ :):):)
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:17 شام
واہ! زبردست ... پوری غزل ہی لاجواب ہے ماشاء اللہ
آداب ! نوازش! بہت شکریہ راحل بھائی!
اہلِ سخن کی طرف سے داد الگ ہی درجہ رکھتی ہے ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے، گرانیِ روز و شب کو ہلکا کردے! آمین ۔
ظہیراحمدظہیر — جون 16، 2021 4:19 شام
ماشاء اللہ
لاجواب زبردست غزل ہے
ڈھیرو ں داد
نوازش! بہت ممنون ہوں معان بھائی!
ڈھیروں شکریہ!
اللہ آپ کو دین و دنیا کی فلاح نصیب فرمائے! ہر مشکل پریشانی کو دور رکھے! آمین ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%BA%D9%85-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%84-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92.116663/