السلام علیکم ظہیر بھائی۔
کیا اچھے اشعار ہیں ۔ما شاء اللہ
واہ۔حسب حال۔
واہ ۔
یہاں "نا" کو زیادہ دبا دیا۔نہیں؟
بہرحال ایک عمدہ غزل پہ ہدیہء داد حاضر ہے۔
آداب ! نوازش ! بہت شکریہ یاسر بھائی !
اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ پذیرائی کے لئےممنون ہوں ۔
بالکل ٹھیک نوٹ کیا ۔ نا آسودہ والے شعر میں نا کا الف معمول سے زیادہ دب رہا ہے اور روانی کچھ متاثر ہورہی ہے ۔ لیکن شعر ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا سو اس سقم کو رہنے دیا ۔ الفاظ کی نشست بدلنا تو ممکن نہیں لیکن پیرایہ بدل کر اسے درست کرسکتا تھا ۔ مگر شعر کی بے ساختگی جاتی رہتی سو اسے یونہی رہنے دیا ہے ۔
عام مشاہدہ یہی ہے کہ جب دو متواتر الفاظ ایسے آجائیں کہ پہلا لفظ الف پر ختم اور دوسرا الف سے شروع ہورہا ہو تو پہلے الف کا گرانا مشکل ہوتا ہے ۔ اسے معمول سے زیادہ دبانا پڑتا ہے ، قرأت کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایک ہی مخرج سے دو متواتر حروف کا ادا کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے اور عموماً روانی کو متاثر کرتا ہے ۔ ( عیبِ تنافر بھی اسی عمل کا مظہر ہے) ۔ عربی تجوید میں تو جب دو الف اس طرح متواتر آجائیں تو پہلے حرف کو ممدودہ کردیا جاتا ہے یعنی کھینچ دیا جاتا ہے ۔ تجوید کے اس اصول سے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دو متواتر الف کی صورت میں پہلا الف گرانا مشکل ہوتا ہے ۔