اشکِ لہو سے لکھا ہے دیوانِ عین میم

عاطف ملک — مارچ 30، 2017 4:07 شام
اساتذہ کرام سے اصلاح کے بعد محفلین کی خدمت میں:

غزل

آباد درد و غم سے ہے کاشانِ عین میم
اشکِ لہو سے لکھا ہے دیوانِ عین میم
تیرِ نظر تھا ان کا، خطا ہوتا کس طرح؟
ہونا تھا جن کو، ہو گئے، اوسانِ عین میم
اس نازنیں کی تابشِ رخسار دیکھ کر
ناصح بھی ہو گئے تھے رقیبانِ عین میم
خاکِ وفا میں عجز و عقیدت کو بیج کر
سینچا جگر کے خوں سے گلستانِ عین میم
دشتِ جنوں کی سمت ہے یہ درد کا سفر
اور اس کی یادیں توشہ و سامانِ عین میم
دو چار قافیے تھے غزل ہی نہ ہو سکی
مانع ہوئی ہے تنگئیِ دامانِ عین میم
عاطف ترے فراق میں ٹوٹا، بکھر گیا
اور ٹوٹنے سے رہ گیا پیمانِ عین میم​
فرقان احمد — مارچ 30، 2017 4:32 شام
اِس غزل نے اچھا خاصا تاثر قائم کیا ہے، ماشاءاللہ :) :) :)
کاشف اسرار احمد — اپریل 11، 2017 5:49 شام
خوب اشعار نکالے ہیں عاطف بھائی۔ واہ
اس نازنیں کی تابشِ رخسار دیکھ کر
ناصح بھی ہو گئے تھے رقیبانِ عین میم
عاطف ترے فراق میں ٹوٹا، بکھر گیا
اور ٹوٹنے سے رہ گیا پیمانِ عین میم
ظل عرش — اپریل 11، 2017 5:59 شام
ماشاءاللہ.
اللہ ہمیشہ نفع بخش علم سے نوازے. آمین
ربیع م — اپریل 11، 2017 6:07 شام
زبردست ماشاءاللہ!
عاطف ملک — اپریل 11، 2017 6:32 شام
اِس غزل نے اچھا خاصا تاثر قائم کیا ہے، ماشاءاللہ :) :) :)
بہت نوازش محترم :)
اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس تاثر کو قائم رکھے اور مجھے توفیق عطا کرےکہ میں اس تاثر کو مزید بہتر کر سکوں ۔
خوب اشعار نکالے ہیں عاطف بھائی۔ واہ
شکریہ کاشف بھائی :)
ماشاءاللہ.
اللہ ہمیشہ نفع بخش علم سے نوازے. آمین
آمین۔
آپ کی پرخلوص دعاؤں کیلیے بہت شکرگزار ہوں :)
نوازش بدر بھائی!
آپ کی تعریف سے "وکھری" خوشی ہوئی :)
اساتذہ کرام کی توجہ اور شفقت اور محفلین کی حوصلہ افزائی ہی لکھنے کیلیے تحریک کا باعث بنتی ہے ورنہ مجھ میں اتنا دم کہاں!
امان زرگر — اپریل 11، 2017 6:42 شام
اساتذہ کرام سے اصلاح کے بعد محفلین کی خدمت میں:

غزل

آباد درد و غم سے ہے کاشانِ عین میم
اشکِ لہو سے لکھا ہے دیوانِ عین میم
تیرِ نظر تھا ان کا، خطا ہوتا کس طرح؟
ہونا تھا جن کو، ہو گئے، اوسانِ عین میم
اس نازنیں کی تابشِ رخسار دیکھ کر
ناصح بھی ہو گئے تھے رقیبانِ عین میم
خاکِ وفا میں عجز و عقیدت کو بیج کر
سینچا جگر کے خوں سے گلستانِ عین میم
دشتِ جنوں کی سمت ہے یہ درد کا سفر
اور اس کی یادیں توشہ و سامانِ عین میم
دو چار قافیے تھے غزل ہی نہ ہو سکی
مانع ہوئی ہے تنگئیِ دامانِ عین میم
عاطف ترے فراق میں ٹوٹا، بکھر گیا
اور ٹوٹنے سے رہ گیا پیمانِ عین میم​
بہت خوبصورت. عمدہ خیالات اور اظہار عمدہ ترین.
ربیع م — اپریل 11، 2017 6:47 شام
آپ کی تعریف سے "وکھری" خوشی ہوئی
وہ کیسے بھیا؟!
عاطف ملک — اپریل 11، 2017 6:52 شام
بہت خوبصورت. عمدہ خیالات اور اظہار عمدہ ترین.
آپ کی محبت ہے امان بھائی!
پرخلوص محبت:in-love:
بس ایسے ہی!
آپ نے تعریف کی تو ایک الگ قسم کی خوشی ہوئی۔
الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا :)
عبید انصاری — اپریل 11، 2017 7:10 شام
سگنیچر آپ نے کمال لگایا ہے۔ میرے پسندیدہ اشعار ہیں، لیکن اگلے شعر کوملاکر۔۔۔۔۔۔۔
وإنْ مُتُّ فالإنْسانُ لابُدَّ مَيِّتٌ
وإنْ طالَتِ الأيامُ، وانْفَسَحَ العُمْرُ
ربیع م — اپریل 11، 2017 7:21 شام
آپ کی محبت ہے امان بھائی!
پرخلوص محبت:in-love:
بس ایسے ہی!
آپ نے تعریف کی تو ایک الگ قسم کی خوشی ہوئی۔
الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا :)
اللہ آپ کو برکات عطا فرمائے!
ربیع م — اپریل 11، 2017 7:23 شام
سگنیچر آپ نے کمال لگایا ہے۔ میرے پسندیدہ اشعار ہیں، لیکن اگلے شعر کوملاکر۔۔۔۔۔۔۔
وإنْ مُتُّ فالإنْسانُ لابُدَّ مَيِّتٌ
وإنْ طالَتِ الأيامُ، وانْفَسَحَ العُمْرُ
میرا بس چلے تو یہ پورا قصیدہ ہی لگا دوں!
عبید انصاری — اپریل 12، 2017 8:02 صبح
میرا بس چلے تو یہ پورا قصیدہ ہی لگا دوں!
قصیدہ ہے تو اسی لائق
سید عمران — اپریل 12، 2017 8:24 صبح
عاطف ملک ، بدر الفاتح
معذرت کے ساتھ۔۔۔
از راہِ تفنن!!!
نوازش بدر بھائی!
آپ کی تعریف سے "وکھری" خوشی ہوئی :)
بس ایسے ہی!
غلطی سے یہ خوشی ہوگئی۔
کوشش کروں گا آئندہ نہ ہونے پائے!!!
:bashful::bashful::bashful::bashful::bashful:
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 12، 2017 8:43 صبح
تیرِ نظر تھا ان کا، خطا ہوتا کس طرح؟
ہونا تھا جن کو، ہو گئے، اوسانِ عین میم

اس نازنیں کی تابشِ رخسار دیکھ کر
ناصح بھی ہو گئے تھے رقیبانِ عین میم

عاطف ترے فراق میں ٹوٹا، بکھر گیا
اور ٹوٹنے سے رہ گیا پیمانِ عین میم
بہت ہی زبردست اور لاجواب اشعار ہیں عاطف بھیا ۔
منفرد انداز کی یہ غزل ایک اچھوتا تاثر چھوڑ گئی ہے دل میں ۔ یقین مانیں بہت مزہ آیا پڑھ کے ۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔
اکمل زیدی — اپریل 12، 2017 8:44 صبح
لگتا ہے ملگئ سند صائب الف عین
نظر جو آرہا ہے اطمینان عین میم
:) خوب ھے ۔ ۔ ۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 12، 2017 8:59 صبح
کیا کہنے جناب
تیرِ نظر تھا ان کا، خطا ہوتا کس طرح؟
ہونا تھا جن کو، ہو گئے، اوسانِ عین میم

اس نازنیں کی تابشِ رخسار دیکھ کر
ناصح بھی ہو گئے تھے رقیبانِ عین میم

خاکِ وفا میں عجز و عقیدت کو بیج کر
سینچا جگر کے خوں سے گلستانِ عین میم

دو چار قافیے تھے غزل ہی نہ ہو سکی
مانع ہوئی ہے تنگئیِ دامانِ عین میم
مجھ سے پوچھ لیے ہوتے
دوکانِ عین میم
پکوانِ عین میم
دستر خوانِ عین میم
مہمانِ عین میم
عاطف ترے فراق میں ٹوٹا، بکھر گیا
اور ٹوٹنے سے رہ گیا پیمانِ عین میم
محمد تابش صدیقی — اپریل 12، 2017 9:15 صبح
دیکھی تھی ہم نے شہر میں دوکانِ عین میم
پھیکا بہت ہی نکلا تھا پکوانِ عین میم
:p
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 12، 2017 9:26 صبح
ماشاءاللہ بہت اعلی
لئیق احمد — اپریل 12، 2017 9:27 صبح
زبردست - بہت زبردست
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%90-%D9%84%DB%81%D9%88-%D8%B3%DB%92-%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%90-%D8%B9%DB%8C%D9%86-%D9%85%DB%8C%D9%85.95553/