اقبال اور ہم ۔ نئی پیروڈیاں

محمد یعقوب آسی — اپریل 9، 2013 8:12 صبح
5۔ غزل
بلا تکلف ۔۔۔ یہاں آپ کی توجہ چاہتا ہوں:
لُغت افرنگ کی اب تو ہمارے پاس ہے گرچہ
’’فقیہہِ شہر قاروں ہے لُغت ھائے حجازی کا‘‘

یوں سمجھے لیجئے کہ ایک بہت صاف ستھرے گھر کے صحن میں، کمرے میں کہیں کوئی ایک تنکا بھی گرا پڑا ہو تو دُور سے دکھائی دے جاتا ہے؛ کچھ ایسی ہی صورت یہاں ہے۔
شوکت پرویز — اپریل 10، 2013 7:17 صبح
5۔ غزل
بلا تکلف ۔۔۔ یہاں آپ کی توجہ چاہتا ہوں:
یوں سمجھے لیجئے کہ ایک بہت صاف ستھرے گھر کے صحن میں، کمرے میں کہیں کوئی ایک تنکا بھی گرا پڑا ہو تو دُور سے دکھائی دے جاتا ہے؛ کچھ ایسی ہی صورت یہاں ہے۔
کہتے ہیں کہ "آسی¹" کا ہے اندازِ بیاں اور
¹۔ محترم استاد محمد یعقوب آسی صاحب۔۔۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 10، 2013 9:33 صبح
کہتے ہیں کہ "آسی¹" کا ہے اندازِ بیاں اور​

آداب بجا لاتا ہوں، شوکت پرویز صاحب۔ کوشش کرتا ہوں کہ اہلِ علم سے اُن کے انداز میں بات کر سکوں۔ اور کچھ بھی تو نہیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 14، 2013 8:09 صبح
8۔ پھولوں کی شہزادی
اقبال​
پھولوں کی شہزادی​
( بانگِ درا)​
کلی سے کہہ رہی تھی ایک دِن شبنم گلستاں میں​
رہی میں ایک مدت غنچہ ہائے باغِ رِضواں میں​
تمہارے گلستاں کی کیفیت سرشار ہے ایسی​
نگہ فردوس در دامن ہے میری چشمِ حیراں میں​
سناہے کوئی شہزادی ہے حاکم اس گلستاں کی​
کہ جس کے نقشِ پاسے پھول ہوں پیدا بیاباں میں​
کبھی ساتھ اپنے اس کے آستاں تک مجھ کو تو لے چل​
چھپاکر اپنے دامن میں برنگِ موجِ بو لے چل​
کلی بولی سریر آراٗ ہماری ہے وہ شہزادی​
درخشاں جس کی ٹھوکر سے ہوں پتھر بھی نگیں بن کر​
مگر فطرت تری اُفتندہ اور بیگم کی شان اُونچی​
نہیں ممکن کہ تو پہنچے ہماری ہم نشیں بن کر​
پہنچ سکتی ہے تو لیکن ہماری شاہزادی تک​
کسی دُک درد کے مارے کا اشکِ آتشین بن کر​
نظر اُس کی پیامِ عید ہے اہلِ محرّم کو​
بنادیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو​
ہم​
پھولوں کی شہزادی​
محمد خلیل الرحمٰن​
کسی ماسی سے بولا ایک لڑکا یوں گلستاں میں​
رہی تو ایک مدت سامنے والے خیاباں میں​
اجی اُس گھر کی کھڑکی سے چمک ایسی ہویدا ہے​
بسی کچھ دِن سے وہ دلہن ہے میری چشمِ حیراں میں​
سنا ہے کوئی شہزادی کہیں سے رہنے آئی ہے​
’’کہ جِس کے نقشِ پاسے پھول ہوں پیدا بیاباں میں‘‘​
’’کبھی ساتھ اپنے اس کے آستاں تک مجھ کو تو لے چل‘‘​
چھپاکر کالی چادر میں برنگِ موجِ بو لے چل​
کہا ماسی نے’ گو وہ ہے یقیناً ایک شہزادی‘​
’’درخشاں جس کی ٹھوکر سے ہو پتھر بھی نگیں بن کر‘‘​
مگر تو ایک آوارہ ہے اور بیگم کی شان اونچی​
نہیں ممکن کہ تو پہنچے مِرا واں ہمنشیں بن کر​
وہ غصے کی ذرا سی تیز ہے اور ڈانٹ دیتی ہے​
کسی لڑکے نے بے شرمی سے کوشش کی کمیں بن کر​
یہاں سے بھاگ اے کمبخت اور بس اپنا رستہ لے​
جہاں کہتی ہے ماں جاکر اسی لڑکی کو اپنا لے​

محمود احمد غزنوی، سید شہزاد ناصر، نایاب ، محمدعلم اللہ اصلاحی، محمد بلال اعظم ، شمشاد ، یوسف-2 ، نبیل ، مزمل شیخ بسمل
محمد بلال اعظم — اپریل 14، 2013 8:30 صبح
8۔ پھولوں کی شہزادی
اقبال​
پھولوں کی شہزادی​
( بانگِ درا)​
کلی سے کہہ رہی تھی ایک دِن شبنم گلستاں میں​
رہی میں ایک مدت غنچہ ہائے باغِ رِضواں میں​
تمہارے گلستاں کی کیفیت سرشار ہے ایسی​
نگہ فردوس در دامن ہے میری چشمِ حیراں میں​
سناہے کوئی شہزادی ہے حاکم اس گلستاں کی​
کہ جس کے نقشِ پاسے پھول ہوں پیدا بیاباں میں​
کبھی ساتھ اپنے اس کے آستاں تک مجھ کو تو لے چل​
چھپاکر اپنے دامن میں برنگِ موجِ بو لے چل​
کلی بولی سریر آراٗ ہماری ہے وہ شہزادی​
درخشاں جس کی ٹھوکر سے ہوں پتھر بھی نگیں بن کر​
مگر فطرت تری اُفتندہ اور بیگم کی شان اُونچی​
نہیں ممکن کہ تو پہنچے ہماری ہم نشیں بن کر​
پہنچ سکتی ہے تو لیکن ہماری شاہزادی تک​
کسی دُک درد کے مارے کا اشکِ آتشین بن کر​
نظر اُس کی پیامِ عید ہے اہلِ محرّم کو​
بنادیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو​
ہم​
پھولوں کی شہزادی​
محمد خلیل الرحمٰن​
کسی ماسی سے بولا ایک لڑکا یوں گلستاں میں​
رہی تو ایک مدت سامنے والے خیاباں میں​
اجی اُس گھر کی کھڑکی سے چمک ایسی ہویدا ہے​
بسی کچھ دِن سے وہ دلہن ہے میری چشمِ حیراں میں​
سنا ہے کوئی شہزادی کہیں سے رہنے آئی ہے​
’’کہ جِس کے نقشِ پاسے پھول ہوں پیدا بیاباں میں‘‘​
’’کبھی ساتھ اپنے اس کے آستاں تک مجھ کو تو لے چل‘‘​
چھپاکر کالی چادر میں برنگِ موجِ بو لے چل​
کہا ماسی نے’ گو وہ ہے یقیناً ایک شہزادی‘​
’’درخشاں جس کی ٹھوکر سے ہو پتھر بھی نگیں بن کر‘‘​
مگر تو ایک آوارہ ہے اور بیگم کی شان اونچی​
نہیں ممکن کہ تو پہنچے مِرا واں ہمنشیں بن کر​
وہ غصے کی ذرا سی تیز ہے اور ڈانٹ دیتی ہے​
کسی لڑکے نے بے شرمی سے کوشش کی کمیں بن کر​
یہاں سے بھاگ اے کمبخت اور بس اپنا رستہ لے​
جہاں کہتی ہے ماں جاکر اسی لڑکی کو اپنا لے​

محمود احمد غزنوی، سید شہزاد ناصر، نایاب ، محمدعلم اللہ اصلاحی، محمد بلال اعظم ،
ہاہاہا
کیا خوب پیروڈی ہے
مزہ آ گیا
کمال لکھتے ہیں آپ۔
نایاب — اپریل 14، 2013 8:33 صبح
بہت خوب
سید شہزاد ناصر — اپریل 14، 2013 9:06 صبح
سر تسلیمِ خم ہے حضور :notworthy:
آپ کی یہی شگفتہ شفگتہ بوقلمونیاں ہی محفل کی جان ہیں
بہت خوب لکھا بہت لطف آیا پڑھ کر
شاد و آباد رہیں
فارقلیط رحمانی — اپریل 14، 2013 9:59 صبح
بہت خوب!نہایت عمدہ!شکریہ خلیل صاحب
یوسف-2 — اپریل 14، 2013 10:51 صبح
واہ واہ ۔ ۔ ۔ ماسی کے لئے بھی:applause: اور شاعر کے لئے بھی :applause:
مزمل شیخ بسمل — اپریل 14، 2013 11:36 صبح
واہ واہ۔ بہت عمدہ۔ کیا ہی بات ہے آپ محمد خلیل الرحمٰن بھائی۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 14، 2013 5:02 شام
ماشاءاللہ لاقوۃ الا باللہ!
داد قبول فرمائیے استاد جی!
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 18، 2013 3:30 صبح
ہاہاہا
کیا خوب پیروڈی ہے
مزہ آ گیا
کمال لکھتے ہیں آپ۔
جزاک اللہ محمد بلال اعظم بھائی پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمائیے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 18، 2013 3:32 صبح
جزاک اللہ نایاب بھائی۔
شمشاد بھائی کے ساتھ ساتھ آپ بھی ہر دھاگے میں مراسلہ نگار کی ہمت بندھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اللہ خوش رکھے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 18، 2013 3:34 صبح
سر تسلیمِ خم ہے حضور :notworthy:
آپ کی یہی شگفتہ شفگتہ بوقلمونیاں ہی محفل کی جان ہیں
بہت خوب لکھا بہت لطف آیا پڑھ کر
شاد و آباد رہیں
خوبصورت الفاظ کا ذخیرہ تو آپ لیے بیٹھے ہیں حضرت!
اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 18، 2013 3:36 صبح
بہت خوب!نہایت عمدہ!شکریہ خلیل صاحب
فارقلیط رحمانی بھائی۔ شکریہ آپ کا کہ آپ نے اسے قابلِ قدر جانا
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 18، 2013 3:38 صبح
واہ واہ ۔ ۔ ۔ ماسی کے لئے بھی:applause: اور شاعر کے لئے بھی :applause:
ماسی تو یہاں رقیبِ روسیاہ سے بھی بڑھکر روسیاہ ثابت ہوئی اور جناب ہیں کہ اسی کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 18، 2013 3:39 صبح
واہ واہ۔ بہت عمدہ۔ کیا ہی بات ہے آپ محمد خلیل الرحمٰن بھائی۔۔
جزاک اللہ مزمل شیخ بسمل بھائی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 18، 2013 3:43 صبح
ماشاءاللہ لاقوۃ الا باللہ!
داد قبول فرمائیے استاد جی!
دھیرج بھائی دھیرج!
ابھی ہم مانیٹر بننے کے لائق بھی نہیں ہوئے( کہ مانیٹر بھی کبھی کبھی استاد کی جگہ کھڑا ہوجاتا ہے) اور آپ نے ہمیں اتنا بڑا لقب دے ڈالا۔ خبردار کہیں اساتذہ سن پائیں تو ہمارا تو جو حشر ہو سو ہو، آپ کے ساتھ جانے کیا کریں؟
خوش رہیے!
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 21، 2013 11:04 صبح
9۔ مذہب
اقبال​
مذہب​
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر​
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی​
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسَب پر انحصار​
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری​
دامین دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت گئی​
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی​
ہم​
محمد خلیل الر حمٰن​
اپنی ملت پر قیاس اسلام سے ہرگز نہ کر​
خاص تھی ترکیب میں قوم رسول ھاشمی​
اپنی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار​
قوت مذہب سے مستحکم تھی جمعیت کبھی​
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا ہے فرقے بن گئے​
جبکہ جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی​
تلمیذ ، شمشاد، نیرنگ خیال، محمد احمد، غ۔ن۔غ، فارقلیط رحمانی، شوکت پرویز، الف عین، محمود احمد غزنوی، مہ جبین، محمد یعقوب آسی، نایاب، یوسف-2
سید شہزاد ناصر — اپریل 21، 2013 11:08 صبح
کیا گہرا اور حسب حال طنز ہے بھائی جی
اللہ کرے زور تضمین زیادہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85-%DB%94-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%88%DB%8C%D8%A7%DA%BA.60518/page-4