۱۱۔ پھولوں کی شہزاری
پھولوں کی شہزادی
محمد خلیل الرحمٰن
(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)
پڑوسن کہہ رہی تھی ایک دن مجھ سے گلستاں میں
رہی میں ایک مدت سامنے ہی باغِ رضواں میں
مگر بیوی کی سختی نے تمہیں ناآشنا رکھا
تمہیں ہم سے جدا رکھا، ہمیں تم سے جدا رکھا
تمہاری نصف بہتر سے تو میں بھی سخت نالاں ہوں
گزر کیسے کیا کرتے ہو اس کے ساتھ حیراں ہوں
کبھی مووی دکھانے کے لیے ہی مجھ کو تو لے چل
بٹھاکر اپنی گاڑی میں برنگِ موجِ بو لے چل
کہا میں نے سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادی
کہ جس کی سخت نظروں سے نہیں ہے مجھ کو آزادی
کھڑی ہے گھر کے دروازے پہ بیگم اس طرح تن کر
کہاں ممکن کہ میں نکلوں تمہارا ہم نشیں بن کر
مری آزاد ہے فطرت مگر ہوں گُربہء مسکیں
نہیں ممکن کہ نظریں پھیر لے مجھ سے مرا گلچیں
"نظر اس کی پیامِ عید ہے اہلِ محرّم کو
بنادیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو"
علامہ کی خوبصورت نظم یہاں ملاحظہ فرمائیے۔
بانگ درا --- علامہ محمّد اقبال: پھولوں کی شہزادی