ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا

محمد بلال اعظم — مارچ 6، 2013 8:36 صبح
شکریہ سید زبیر صاحب، اور یہ حقیقت ہے کبھی کبھی انسان سے ایسا سجدہ ادا ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات کے لئے رشک کا باعث ہوتا ہے۔ اور اس وقت کی کیفیت ناقابلِ بیان ہوتی ہے۔ اللہ ہر مسلمان کو ایسا سجدہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
یعنی بقولِ علامہ اقبالؒ
وہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
محمد بلال اعظم — مارچ 6، 2013 8:41 صبح
واہ
بہت عمدہ راجہ بھائی۔
تمام اشعار ہی بہت خوبصورت ہیں۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
سید شہزاد ناصر — مارچ 6، 2013 8:43 صبح
سید شہزاد ناصر بھیا! کہاں رہ گئے، تبصرہ نہیں فرمائیں گے کیا ;)
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے :sad4:
شام میں تبصرہ کروں گا
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 9:25 صبح
واہ
بہت عمدہ راجہ بھائی۔
تمام اشعار ہی بہت خوبصورت ہیں۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔

نوازش، کرم، شکریہ، مہربانی
تری داد نے مجھ کو بخشی جوانی
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 9:30 صبح
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے :sad4:
شام میں تبصرہ کروں گا
پھینکا کیئے ہے وہ مجھے سر سے اتار کے
مجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے؟
:brokenheart: :brokenheart: :brokenheart::brokenheart::brokenheart:
محمد وارث — مارچ 6، 2013 9:55 صبح
آداب عرض ہے وارث بھیا! تعریف کرن نال نال کدرے سیالکوٹ دا دیسی کیہو والا پتیسہ ہی پیجوادیو۔ ویسے پل ایک نال دیسی کیہو دیاں جلیبیاں وی چنگیاں ملدیاں نیں :)

اجی واہ آپ تو بہت جانتے ہیں قبلہ سیالکوٹ کے متعلق :)
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 10:08 صبح
اجی واہ آپ تو بہت جانتے ہیں قبلہ سیالکوٹ کے متعلق :)
میں تے توانوں وی چنگی طرح جاننا واں، مرے کالج اگے کھلوتے رہندے سَو ;)
میں وی تھوڑا اگے نوں کر کے اکھاڑے وچ کسرت کرن جانداں ساں۔ واپسی تے حکیم صاحب دا مربہ کھانڑ تے شربت پینڑ واسطے آن لگیاں توانوں ویکھیا سی، مرے کالج اگے زخمی حالت اچ ;) اتھو نابینیاں دے سکول ول نس گئے سو۔ یاد آیا کُش؟
محمد وارث — مارچ 6، 2013 10:33 صبح
میں تے توانوں وی چنگی طرح جاننا واں، مرے کالج اگے کھلوتے رہندے سَو ;)
میں وی تھوڑا اگے نوں کر کے اکھاڑے وچ کسرت کرن جانداں ساں۔ واپسی تے حکیم صاحب دا مربہ کھانڑ تے شربت پینڑ واسطے آن لگیاں توانوں ویکھیا سی، مرے کالج اگے زخمی حالت اچ ;) اتھو نابینیاں دے سکول ول نس گئے سو۔ یاد آیا کُش؟

اللہ اکبر، جی کالج کے زمانے میں زخمی تو ضرور ہوتا تھا لیکن کسی بوائز کالج کے باہر نہیں :grin:
شیزان — مارچ 6، 2013 10:44 صبح
عمدہ شاعری راجا جی
سنجیدہ و مزاحیہ ، دونوں ہی میں کمال کرتے ہو بھیا۔۔
یعقوب آسی بھائی کے مشورے گرانقدر ہیں۔۔۔
باقی" راجا " سنجیدہ شاعری میں تخلص کے طور پر کچھ بھاری سا محسوس ہوتا ہے۔۔
شوکت پرویز — مارچ 6، 2013 10:49 صبح
سرخ آنکھوں میں رہے اشک تری یادوں کے
کتنا مشکل ہے شراروں میں سمندر رکھنا
واہ جناب! واقعی آپ کی سنجیدہ شاعری بھی کمال کی ہے، خاکسار کی داد قبول کیجئے۔
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 11:00 صبح
اللہ اکبر، جی کالج کے زمانے میں زخمی تو ضرور ہوتا تھا لیکن کسی بوائز کالج کے باہر نہیں :grin:
آپ کے رقیب تو یہی جگہ بتاتے ہیں وارث بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 11:02 صبح
واہ جناب! واقعی آپ کی سنجیدہ شاعری بھی کمال کی ہے، خاکسار کی داد قبول کیجئے۔

شکریہ شوکت بھیا!
یہ خاکسار صاحب کو خود داد دیتے ہوئے شرم آتی ہے کیا جو آپ کے ہاتھ بھجوا دی؟ اور بھیا جی آپ کی داد کہاں ہے؟ دوسروں کی داد اٹھائے پھرتے ہو اپنی کا پتہ نہیں :)
شوکت پرویز — مارچ 6، 2013 11:05 صبح
شکریہ شوکت بھیا!
یہ خاکسار صاحب کو خود داد دیتے ہوئے شرم آتی ہے کیا جو آپ کے ہاتھ بھجوا دی؟ اور بھیا جی آپ کی داد کہاں ہے؟ دوسروں کی داد اٹھائے پھرتے ہو اپنی کا پتہ نہیں :)
آپ نے صحیح پکڑا!!
آپ غور سے دیکھیں، ہم لفظ "خاکسار" کی "خ" کے نیچے ملیں گے، کہ ہم تو اب تک خاکسار تک ہی کہلانے کے اہل نہیں ہوئے، تو چہ جائے کہ۔۔۔
سید ذیشان — مارچ 6، 2013 11:09 صبح
بہت خوب جناب!
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 6، 2013 12:24 شام
بہت خوب راجا صاحب۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 1:18 شام
یہ خاکسار صاحب کو خود داد دیتے ہوئے شرم آتی ہے کیا جو آپ کے ہاتھ بھجوا دی؟ اور بھیا جی آپ کی داد کہاں ہے؟ دوسروں کی داد اٹھائے پھرتے ہو اپنی کا پتہ نہیں :)

جناب شوکت پرویز صاحب، اور جناب امجد علی راجا صاحب۔ آپ نے شاید نوٹ نہیں کیا، محمد وارث صاحب خود کو ’’خاکسار‘‘ لکھا کرتے ہیں، اس فقیر کی طرح۔
ہے نا پتے کی بات!
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 1:21 شام
آپ نے جناب ’’خاکسار‘‘ کی داد پر بس بھی تو نہیں کیا نا! پتیسہ اور جلیبیاں بھی طلب کر لیں۔
:zabardast1:
عمراعظم — مارچ 6، 2013 3:59 شام
سرخ آنکھوں میں رہے اشک تری یادوں کے
کتنا مشکل ہے شراروں میں سمندر رکھنا
واہ ! کیا ہی خوب کلام ہے راجا صاحب۔اللہ آپکو خوش رکھے۔(آمین)
سید شہزاد ناصر — مارچ 7، 2013 3:38 صبح
سرخ آنکھوں میں رہے اشک تری یادوں کے
کتنا مشکل ہے شراروں میں سمندر رکھنا
بہت خوب :)
کیا تشبیہ دی ہے واہ واہ​
غزل تمام ہی خوب ہے مگر درج بالا شعر بہت پسند آیا​
(شوکت صاحب امید کے کہ اب ہتھ ذرا ہولا رکھیں گے)​
شوکت پرویز — مارچ 7، 2013 6:00 صبح
سرخ آنکھوں میں رہے اشک تری یادوں کے
کتنا مشکل ہے شراروں میں سمندر رکھنا
بہت خوب :)
کیا تشبیہ دی ہے واہ واہ​
غزل تمام ہی خوب ہے مگر درج بالا شعر بہت پسند آیا​
(شوکت صاحب امید کے کہ اب ہتھ ذرا ہولا رکھیں گے)​

جناب سید شہزاد ناصر صاحب!
اس میں ذیل اور بالا کی کشمکش آ ہی نہیں سکتی تھی، کیونکہ آپ نے "ذیل" کا شعر "اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ" لکھا ہی نہیں۔۔۔ ;););)
شاید آپ اب کہہ ہی دیں:
"اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے"
تو پیشگی ہمارا جواب بھی سن لیں:
"ہم ستانے کے لئے واں بھی چلے آئیں گے"
محترم محمد یعقوب آسی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%DB%81%DB%92-%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%AF%D9%84-%D9%BE%D8%B1-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7.60717/page-2