شکریہ سید زبیر صاحب، اور یہ حقیقت ہے کبھی کبھی انسان سے ایسا سجدہ ادا ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات کے لئے رشک کا باعث ہوتا ہے۔ اور اس وقت کی کیفیت ناقابلِ بیان ہوتی ہے۔ اللہ ہر مسلمان کو ایسا سجدہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
میں تے توانوں وی چنگی طرح جاننا واں، مرے کالج اگے کھلوتے رہندے سَو
میں وی تھوڑا اگے نوں کر کے اکھاڑے وچ کسرت کرن جانداں ساں۔ واپسی تے حکیم صاحب دا مربہ کھانڑ تے شربت پینڑ واسطے آن لگیاں توانوں ویکھیا سی، مرے کالج اگے زخمی حالت اچ اتھو نابینیاں دے سکول ول نس گئے سو۔ یاد آیا کُش؟
میں تے توانوں وی چنگی طرح جاننا واں، مرے کالج اگے کھلوتے رہندے سَو
میں وی تھوڑا اگے نوں کر کے اکھاڑے وچ کسرت کرن جانداں ساں۔ واپسی تے حکیم صاحب دا مربہ کھانڑ تے شربت پینڑ واسطے آن لگیاں توانوں ویکھیا سی، مرے کالج اگے زخمی حالت اچ اتھو نابینیاں دے سکول ول نس گئے سو۔ یاد آیا کُش؟
اللہ اکبر، جی کالج کے زمانے میں زخمی تو ضرور ہوتا تھا لیکن کسی بوائز کالج کے باہر نہیں
شیزان — مارچ 6، 2013 10:44 صبح
عمدہ شاعری راجا جی
سنجیدہ و مزاحیہ ، دونوں ہی میں کمال کرتے ہو بھیا۔۔
یعقوب آسی بھائی کے مشورے گرانقدر ہیں۔۔۔
باقی" راجا " سنجیدہ شاعری میں تخلص کے طور پر کچھ بھاری سا محسوس ہوتا ہے۔۔
شکریہ شوکت بھیا!
یہ خاکسار صاحب کو خود داد دیتے ہوئے شرم آتی ہے کیا جو آپ کے ہاتھ بھجوا دی؟ اور بھیا جی آپ کی داد کہاں ہے؟ دوسروں کی داد اٹھائے پھرتے ہو اپنی کا پتہ نہیں
شکریہ شوکت بھیا!
یہ خاکسار صاحب کو خود داد دیتے ہوئے شرم آتی ہے کیا جو آپ کے ہاتھ بھجوا دی؟ اور بھیا جی آپ کی داد کہاں ہے؟ دوسروں کی داد اٹھائے پھرتے ہو اپنی کا پتہ نہیں
آپ نے صحیح پکڑا!!
آپ غور سے دیکھیں، ہم لفظ "خاکسار" کی "خ" کے نیچے ملیں گے، کہ ہم تو اب تک خاکسار تک ہی کہلانے کے اہل نہیں ہوئے، تو چہ جائے کہ۔۔۔
سید ذیشان — مارچ 6، 2013 11:09 صبح
بہت خوب جناب!
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 6، 2013 12:24 شام
بہت خوب راجا صاحب۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 1:18 شام
یہ خاکسار صاحب کو خود داد دیتے ہوئے شرم آتی ہے کیا جو آپ کے ہاتھ بھجوا دی؟ اور بھیا جی آپ کی داد کہاں ہے؟ دوسروں کی داد اٹھائے پھرتے ہو اپنی کا پتہ نہیں
جناب شوکت پرویز صاحب، اور جناب امجد علی راجا صاحب۔ آپ نے شاید نوٹ نہیں کیا، محمد وارث صاحب خود کو ’’خاکسار‘‘ لکھا کرتے ہیں، اس فقیر کی طرح۔
ہے نا پتے کی بات!
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 1:21 شام
آپ نے جناب ’’خاکسار‘‘ کی داد پر بس بھی تو نہیں کیا نا! پتیسہ اور جلیبیاں بھی طلب کر لیں۔
عمراعظم — مارچ 6، 2013 3:59 شام
سرخ آنکھوں میں رہے اشک تری یادوں کے کتنا مشکل ہے شراروں میں سمندر رکھنا واہ ! کیا ہی خوب کلام ہے راجا صاحب۔اللہ آپکو خوش رکھے۔(آمین)
جناب سید شہزاد ناصر صاحب!
اس میں ذیل اور بالا کی کشمکش آ ہی نہیں سکتی تھی، کیونکہ آپ نے "ذیل" کا شعر "اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ" لکھا ہی نہیں۔۔۔ شاید آپ اب کہہ ہی دیں:
"اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے" تو پیشگی ہمارا جواب بھی سن لیں:
"ہم ستانے کے لئے واں بھی چلے آئیں گے" محترم محمد یعقوب آسی