اک پرانی غزل

سلمان حمید — فروری 28، 2014 9:00 صبح
آنکھیں پھٹی پھٹی ہیں تو لب ہیں سِلے سِلے
ہم اب بھی تیرے شہر کے عادی نہیں ہوئے
ہم سے ملو کہ ہم ہیں وہ بے نام سے بشر
جب سے ملے ہیں تجھ سے تو خود سےنہیں ملے
اے یار آج دیکھ تو لے راہ پر تری
پتھر پڑے ہوئے ہیں کہ ہم ہیں گرے پڑے
ہم منزلوں کی چاہ میں رستے بدل گئے
ہم سے محبتوں کے سفر طے نہیں ہوئے
جو عشق ایک عمر شریکِ سفر رہا
اُس بوجھ کو گرا کے وہ تنہا ہی چل دیے۔
نوٹ - یہ اشعار اصلاح کے لیے بھی حاضر ہیں اور تنقید و تعریف کے لیے بھی ،کیونکہ الفاظ کی کمی کے باعث مجھ سے زیادہ اشعار لکھے نہیں جاتے، مشکل الفاظ کی کمی کے باعث مشکل اشعار نہیں لکھے جاتے، مستقل مزاجی کی کمی کے باعث زیادہ غزلیں لکھی نہیں گئیں، وقت کی کمی (بے تحاشا موجود وقت کے غلط استعمال کی وجہ سے) کے باعث میں کچھ سیکھ نہیں سکا، پڑھے لکھے (ادبی) دوستوں کی کمی کے باعث تنقید اور داد سے محروم رہا۔ آیوڈین، روپے پیسے اور عقل کی کمی کے باعث جو مسئلے درپیش رہے وہ اگلی قسط میں بتا دوں گا۔ شکریہ
لئیق احمد — فروری 28، 2014 9:05 صبح
بہت لطف آیا بھاری لفظوں کے بوجھ سے آزاد مگر بہترین خیال سے بھری ہوئی غزل پڑھ کے۔ :)
داد پیش ہے۔
سلمان حمید — فروری 28، 2014 9:10 صبح
بہت لطف آیا بھاری لفظوں کے بوجھ سے آزاد مگر بہترین خیال سے بھری ہوئی غزل پڑھ کے۔ :)
داد پیش ہے۔
بھاری الفاظ سے پرہیز کرتے ہیں تو اور بھیجوں غزلیں؟؟:rollingonthefloor: کیوںکہ میرے پاس ہوں گے تو غزل میں ڈالوں گا نا :p
بہت شکریہ لئیق بھائی :)
لئیق احمد — فروری 28، 2014 9:16 صبح
بھاری الفاظ سے پرہیز کرتے ہیں تو اور بھیجوں غزلیں؟؟:rollingonthefloor: کیوںکہ میرے پاس ہوں گے تو غزل میں ڈالوں گا نا :p
بہت شکریہ لئیق بھائی :)
ضرور بھیجیں،
پرہیز کی بات نہیں ہے ۔مجھے غیر ضروری محض لفاظی کے لئے بھاری الفاظ کا استعمال پسند نہیں۔ جب تک اگلے پر اپنی علمی قابلیت کا رعب ڈالنے کی ضرورت نا ہو :)
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 28، 2014 9:33 صبح
بہت خوب صورت غزل ہے۔۔۔۔ بہت سی داد۔۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 28، 2014 9:35 صبح
ہم سے ملو کہ ہم ہیں وہ بے نام سے بشر
جب سے ملے ہیں تجھ سے تو خود سےنہیں ملے
”تجھ“ کے بجائے ”تم“ کردیں تو اپنائیت کے معنی میں زیادتی کے ساتھ ساتھ”تم“ کا صیغہ ”ملو“ کے مطابق بھی ہوجائے گا اور شعر شترگربہ کا شکار ہونے سے بچ جائے گا۔
پوری غزل کو شترگربہ سے بچانے کے لیے باقی مصرعوں میں بھی ”تو“ اور ”تیرے“ وغیرہ کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
ابن رضا — فروری 28، 2014 9:38 صبح
عمدہ است۔ شاد رہیں۔
نوٹ لکھتے ہوئے الفاظ کی کمی آڑے نہیں آتی کیا؟ :p
نیرنگ خیال — فروری 28، 2014 9:48 صبح
نوٹ - یہ اشعار اصلاح کے لیے بھی حاضر ہیں اور تنقید و تعریف کے لیے بھی ،کیونکہ الفاظ کی کمی کے باعث مجھ سے زیادہ اشعار لکھے نہیں جاتے، مشکل الفاظ کی کمی کے باعث مشکل اشعار نہیں لکھے جاتے، مستقل مزاجی کی کمی کے باعث زیادہ غزلیں لکھی نہیں گئیں، وقت کی کمی (بے تحاشا موجود وقت کے غلط استعمال کی وجہ سے) کے باعث میں کچھ سیکھ نہیں سکا، پڑھے لکھے (ادبی) دوستوں کی کمی کے باعث تنقید اور داد سے محروم رہا۔ آیوڈین، روپے پیسے اور عقل کی کمی کے باعث جو مسئلے درپیش رہے وہ اگلی قسط میں بتا دوں گا۔ شکریہ
یہ جو بےنام سے بشر والا شعر ہے۔۔۔۔ یہ تو کافی پرانا ہے۔۔۔ کچھ کچھ یاد پڑتا ہے۔۔۔ :)
مشکل الفاظ کی کمی
مستقل مزاجی کی کمی
وقت کی کمی
دوستوں کی کمی کے باعث تنقید کی کمی
آیوڈین کی کمی
روپے کی کمی
پیسے کی کمی
عقل کی کمی
اتنی کمیاں تو کسی "کمّی" میں ہی ہو سکتی ہیں۔۔۔۔ :p
ویسے غزل کے لیے داد حاضر ہے۔۔۔ اعلیٰ۔۔۔۔ :) اللہ کرے زور سخن اور زیادہ :)
سلمان حمید — فروری 28، 2014 10:08 صبح
ضرور بھیجیں،
پرہیز کی بات نہیں ہے ۔مجھے غیر ضروری محض لفاظی کے لئے بھاری الفاظ کا استعمال پسند نہیں۔ جب تک اگلے پر اپنی علمی قابلیت کا رعب ڈالنے کی ضرورت نا ہو :)
متفق :)
چلیں وقتاً فوقتاً شریکِ محفل کرتا رہوں گا :)
سلمان حمید — فروری 28، 2014 10:10 صبح
بہت خوب صورت غزل ہے۔۔۔ ۔ بہت سی داد۔۔۔ ۔
بہت شکریہ۔ نوازش :)
ہم سے ملو کہ ہم ہیں وہ بے نام سے بشر
جب سے ملے ہیں تجھ سے تو خود سےنہیں ملے
”تجھ“ کے بجائے ”تم“ کردیں تو اپنائیت کے معنی میں زیادتی کے ساتھ ساتھ”تم“ کا صیغہ ”ملو“ کے مطابق بھی ہوجائے گا اور شعر شترگربہ کا شکار ہونے سے بچ جائے گا۔
پوری غزل کو شترگربہ سے بچانے کے لیے باقی مصرعوں میں بھی ”تو“ اور ”تیرے“ وغیرہ کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

آپ یقین کریں میرے فرشتوں کو بھی شتر گربہ کا نہیں پتہ :( آپ کہتے ہیں تو ہو گا کچھ نہ کچھ یہ بھی لیکن اس سے کوئی مسئلہ ہوتا ہے شعر میں؟ میرا مطلب، یہ تو میں سمجھ گیا کہ جہاں تک ممکن ہو تو کی جگہ تم کو استعمال کرنا چاہئے اور آگے خیال بھی رکھوں گا (اگر کچھ لکھ پایا) لیکن تھوڑی روشنی ڈال دیں آسان الفاظ میں :(
سلمان حمید — فروری 28، 2014 10:11 صبح
عمدہ است۔ شاد رہیں۔
نوٹ لکھتے ہوئے الفاظ کی کمی آڑے نہیں آتی کیا؟ :p

بہت شکریہ ابن رضا بھائی :)
وہاں پر وزن کا خیال رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی نا تو جو دل میں آتا ہے بک (لکھ) دیتا ہوں۔ :rollingonthefloor:
سلمان حمید — فروری 28، 2014 10:14 صبح
یہ جو بےنام سے بشر والا شعر ہے۔۔۔ ۔ یہ تو کافی پرانا ہے۔۔۔ کچھ کچھ یاد پڑتا ہے۔۔۔ :)
مشکل الفاظ کی کمی
مستقل مزاجی کی کمی
وقت کی کمی
دوستوں کی کمی کے باعث تنقید کی کمی
آیوڈین کی کمی
روپے کی کمی
پیسے کی کمی
عقل کی کمی
اتنی کمیاں تو کسی "کمّی" میں ہی ہو سکتی ہیں۔۔۔ ۔ :p
ویسے غزل کے لیے داد حاضر ہے۔۔۔ اعلیٰ۔۔۔ ۔ :) اللہ کرے زور سخن اور زیادہ :)
اتنی روشنی میں نے نوٹ میں بھی نہیں ڈالی تھی جتنی تو نے اپنے جواب میں میری کمیوں پر ڈال کر مجھے کمّی بنا دیا :(
ہاں یہ شعر کافی پرانا ہے، میری اکلوتی کتاب کے پیچھے میری تصویر (آہم آہم) کے نیچے بھی لکھا ہے :p
تعریف کے لیے شکریہ دوست، کرتا رہا کر، سیروں خون بڑھتا ہے :rollingonthefloor:
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 28، 2014 10:32 صبح
بہت شکریہ۔ نوازش :)
آپ یقین کریں میرے فرشتوں کو بھی شتر گربہ کا نہیں پتہ :( آپ کہتے ہیں تو ہو گا کچھ نہ کچھ یہ بھی لیکن اس سے کوئی مسئلہ ہوتا ہے شعر میں؟ میرا مطلب، یہ تو میں سمجھ گیا کہ جہاں تک ممکن ہو تو کی جگہ تم کو استعمال کرنا چاہئے اور آگے خیال بھی رکھوں گا (اگر کچھ لکھ پایا) لیکن تھوڑی روشنی ڈال دیں آسان الفاظ میں :(
شتر اونٹ کو اور گربہ بلی کو کہتے ہیں۔۔۔۔ اس سے ایک قصے کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو صحیح طور پر تو مجھے بھی نہیں معلوم، البتہ شترگربہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شعر میں دو ایسے الفاظ لے آنا جو ایک دوسرے کے خلاف ہوں ، مثال کے طور پر اگر ”تو“ لکھا ہے تو صیغہ ”مل“ آئے گا یعنی ”تو مل“ اور اگر ”تم“ لانا ہے تو صیغہ ”ملو“ آئے گا اور اگر ”آپ“ لانا ہے تو صیغہ ”ملیں“ آئے گا۔ اب ”تو مل“ کے بجائے ”تو ملو“ لکھا جائے تو یہ شترگربہ کہلاتا ہے۔
سلمان حمید — فروری 28، 2014 10:38 صبح
شتر اونٹ کو اور گربہ بلی کو کہتے ہیں۔۔۔ ۔ اس سے ایک قصے کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو صحیح طور پر تو مجھے بھی نہیں معلوم، البتہ شترگربہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شعر میں دو ایسے الفاظ لے آنا جو ایک دوسرے کے خلاف ہوں ، مثال کے طور پر اگر ”تو“ لکھا ہے تو صیغہ ”مل“ آئے گا یعنی ”تو مل“ اور اگر ”تم“ لانا ہے تو صیغہ ”ملو“ آئے گا اور اگر ”آپ“ لانا ہے تو صیغہ ”ملیں“ آئے گا۔ اب ”تو مل“ کے بجائے ”تو ملو“ لکھا جائے تو یہ شترگربہ کہلاتا ہے۔
بہت عمدہ۔ یعنی اس شعر میں تو میں کر دیتا ہوں تجھ کی جگہ تم
ہم سے ملو کہ ہم ہیں وہ بے نام سے بشر
جب سے ملے ہیں تم سے تو خود سےنہیں ملے
اس طرح تو کافی تبدیلیاں کرنی پڑیں گی :nailbiting:
الف عین — مارچ 1، 2014 2:14 صبح
ہم سے ملو کہ ہم ہیں وہ بے نام سے بشر
جب سے ملے ہیں تجھ سے تو خود سےنہیں ملے
یہ شعر سنا ہوا سا ہے، ممکن ہے کسی مشہور شاعر کا ہو۔
باقی احباب کے مشوروں کا خیال رکھیں
نیرنگ خیال — مارچ 1، 2014 3:28 صبح
آپ یقین کریں میرے فرشتوں کو بھی شتر گربہ کا نہیں پتہ :( آپ کہتے ہیں تو ہو گا کچھ نہ کچھ یہ بھی لیکن اس سے کوئی مسئلہ ہوتا ہے شعر میں؟ میرا مطلب، یہ تو میں سمجھ گیا کہ جہاں تک ممکن ہو تو کی جگہ تم کو استعمال کرنا چاہئے اور آگے خیال بھی رکھوں گا (اگر کچھ لکھ پایا) لیکن تھوڑی روشنی ڈال دیں آسان الفاظ میں :(
شترگربہ میاں بیوی کو کہتے ہیں استعاراتی زبان میں۔۔۔۔۔ جہاں کسی ایک کو اپنا وجود ہمیشہ ہی اضافی یا غلط لگتا ہے۔۔۔ :p
اتنی روشنی میں نے نوٹ میں بھی نہیں ڈالی تھی جتنی تو نے اپنے جواب میں میری کمیوں پر ڈال کر مجھے کمّی بنا دیا :(
ہاں یہ شعر کافی پرانا ہے، میری اکلوتی کتاب کے پیچھے میری تصویر (آہم آہم) کے نیچے بھی لکھا ہے :p
تعریف کے لیے شکریہ دوست، کرتا رہا کر، سیروں خون بڑھتا ہے :rollingonthefloor:
قسم لے لو جو ایک بھی کمی اپنی طرف سے ڈالی ہو۔۔۔۔۔ :D
میری وہ ڈائری گم گئی ہے جس پر تمہاری وہ ملک الموت والی غزل لکھی تھی۔۔۔۔ :(
سلمان حمید — مارچ 3، 2014 10:18 صبح
شترگربہ میاں بیوی کو کہتے ہیں استعاراتی زبان میں۔۔۔ ۔۔ جہاں کسی ایک کو اپنا وجود ہمیشہ ہی اضافی یا غلط لگتا ہے۔۔۔ :p
قسم لے لو جو ایک بھی کمی اپنی طرف سے ڈالی ہو۔۔۔ ۔۔ :D
میری وہ ڈائری گم گئی ہے جس پر تمہاری وہ ملک الموت والی غزل لکھی تھی۔۔۔ ۔ :(

میں دوبارہ لکھ دوں گا وہ غزل، لیکن تو پھر گم کر دے گا ڈائری۔ بھائی کی وقعت ہی نہیں رہ گئی اب تو :(
سلمان حمید — مارچ 3، 2014 10:21 صبح
ہم سے ملو کہ ہم ہیں وہ بے نام سے بشر
جب سے ملے ہیں تجھ سے تو خود سےنہیں ملے
یہ شعر سنا ہوا سا ہے، ممکن ہے کسی مشہور شاعر کا ہو۔
باقی احباب کے مشوروں کا خیال رکھیں

قسم لے لیں انکل الف عین ، میں نے خود لکھا تھا 4 سال پہلے یا شاید اس سے بھی پہلے :( :p
ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور شعر کے ساتھ ملتا جلتا ہو لیکن کیونکہ میرا مطالعہ صفر ہے، اور چار سال پہلے تو منفی تھا تو میں نے کہیں سے پڑھ کر نقل نہیں کی :(
لئیق احمد — مارچ 3، 2014 10:29 صبح
قسم لے لیں انکل الف عین ، میں نے خود لکھا تھا 4 سال پہلے یا شاید اس سے بھی پہلے :( :p
ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور شعر کے ساتھ ملتا جلتا ہو لیکن کیونکہ میرا مطالعہ صفر ہے، اور چار سال پہلے تو منفی تھا تو میں نے کہیں سے پڑھ کر نقل نہیں کی :(
یار ایسا ہوجاتا ہے کہ آپ کوئی ایسا شعر کہ دیتے ہیں جو کسی اور نے بھی کہا ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے ایک دفعہ۔
ایک دفعہ جب مجھ پر شاعری کا شوق چڑھا تھا تو میں نے اپنے ذاتی احوال کو مد نظر رکھ کر ایک شعر کہا،
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا​
بعد میں پتا چلا یہ تو غالب کا بہت مشہور شعر ہے۔ میں نے کسی کو شرم کے مارے بتایا نہیں کہ میں نے بھی یہ شعر کہا ہے کہ لوگوں نے مذاق اڑانا تھا۔
سلمان حمید — مارچ 3، 2014 10:31 صبح
یار ایسا ہوجاتا ہے کہ آپ کوئی ایسا شعر کہ دیتے ہیں جو کسی اور نے بھی کہا ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے ایک دفعہ۔
ایک دفعہ جب مجھ پر شاعری کا شوق چڑھا تھا تو میں نے اپنے ذاتی احوال کو مد نظر رکھ کر ایک شعر کہا،
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا​
بعد میں پتا چلا یہ تو غالب کا بہت مشہور شعر ہے۔ میں نے کسی کو شرم کے مارے بتایا نہیں کہ میں نے بھی یہ شعر کہا ہے کہ لوگوں نے مذاق اڑانا تھا۔
لیکن مجھے تو چار سال بعد پتہ چلا نا۔ میں ڈھونڈتا ہوں کہ یہ کس مشہور شاعر کا شعر ہے۔
ویسے آپ نے جو شعر کہا وہ غالب کا نہیں، مومن خاں مومن کا ہے شاید :p
ہماری ایف ایس سی میں اردو کی کتاب میں بھی تھا۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.72473/