اہلِ اظہار نہیں چاہنے والے مجھ کو، کس کے ہونٹوں سے گروں کون سنبھالے مجھ کو

مہدی نقوی حجاز — نومبر 16، 2013 6:51 صبح
کیا حال کر دیا بیچارے کا ۔۔۔ ویسے ایک بات بتاؤں کیا ؟
یہ میتھس کی مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آتی ہے ، پر میں پریکٹس کروں گی توڑ توڑ کے۔
ایک کڑوی بات کروں گا اس مقام پر میں۔ محبوب خزاں کا شعر ہے کہ:
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے، یا نہیں ہوتا
کسی موزوں طبیعت نہ رکھنے والے کو آپ لاکھ تقطیع و بحور و اوزان سکھا لیں، شاعر نہ بنے گا، عروضی بن جائے گا!
لہٰذا شرط ہے موزوں طبعی۔ اب دو طرح کے سے انسان موزوں طبع ہو سکتا ہے۔ یا مادرزادی، یا ریاضتی۔ طبیعت کو موزوں کرنے کا میرے نزدیک سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ شعرا کے کلام پڑھنا شروع کیجیے۔ یاد کیجیے۔ جب ہزار دو ہزار اشعار یاد ہو جائیں گے، اور بیس پچیس ہزار اشعار پڑھ لیں گی، تو یقیناً پھر آپ کو جملوں کو اس ڈھنگ سے توڑنے کی حاجت نہ ہوگی۔ پھر آپ کی طبیعت موزوں ہوگی۔ :) یہ میرا اپنا خیال و تجربہ ہے :)
ناعمہ عزیز — نومبر 16، 2013 6:55 صبح
تم تم تم تم نے خراب کیا ہے اچھا ۔۔:baringteeth::notlistening:میں تو اچھی بچی ہوں ہے نا بھئی :daydreaming:
میں نے شاعری کے متعلق گفتگو کی ہے بچو اب دیکھنا تمھیں ڈانٹ پڑے گی ۔
عینی شاہ — نومبر 16، 2013 6:58 صبح
میں نے شاعری کے متعلق گفتگو کی ہے بچو اب دیکھنا تمھیں ڈانٹ پڑے گی ۔
ک ک ک ک کون ڈانٹے گا مجھے :eek::eek:
ناعمہ عزیز — نومبر 16، 2013 6:59 صبح
ایک کڑوی بات کروں گا اس مقام پر میں۔ محبوب خزاں کا شعر ہے کہ:
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے، یا نہیں ہوتا
کسی موزوں طبیعت نہ رکھنے والے کو آپ لاکھ تقطیع و بحور و اوزان سکھا لیں، شاعر نہ بنے گا، عروضی بن جائے گا!
لہٰذا شرط ہے موزوں طبعی۔ اب دو طرح کے سے انسان موزوں طبع ہو سکتا ہے۔ یا مادرزادی، یا ریاضتی۔ طبیعت کو موزوں کرنے کا میرے نزدیک سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ شعرا کے کلام پڑھنا شروع کیجیے۔ یاد کیجیے۔ جب ہزار دو ہزار اشعار یاد ہو جائیں گے، اور بیس پچیس ہزار اشعار پڑھ لیں گی، تو یقیناً پھر آپ کو جملوں کو اس ڈھنگ سے توڑنے کی حاجت نہ ہوگی۔ پھر آپ کی طبیعت موزوں ہوگی۔ :) یہ میرا اپنا خیال و تجربہ ہے :)
ویسے اگر آپ تھوڑی آسان میں بات کر لیا کریں تو مجھے تھوڑی جلدی سمجھ آجائے گی ، یہ بھی سمجھ آگئی ہے ، بائی دا وے کلام پڑھتی تو میں بہت ہوں یاد کرنا کیوں ضروری ہے ؟ مجھے اقبال کی شاعری پسسند ہے ، اور اکثر یاد بھی ہے، باقی شعرا کی شاعری پڑھتی تو ہوں مگر یاد نہیں کرتی ۔۔۔
ناعمہ عزیز — نومبر 16، 2013 7:00 صبح
ک ک ک ک کون ڈانٹے گا مجھے :eek::eek:
سلمان بھائی اور کون
عینی شاہ — نومبر 16، 2013 7:03 صبح
سلمان بھائی اور کون
اچھا اچھا میں سمجھی تم کسی اور کو شکایت لگانے لگی ہو میری افف ڈرا ہی دیا تم نے تو پسینے ہی انے لگ پڑے تھے مجھے :nailbiting:نوپس نوپس سلمان بھائی کی خیر ہے وہ مجھے نہی ڈانٹ سکتے واہ واہ نہی کرانی انھوں نے اپنی پوئٹر پر مجھ سے :rolleyes:
عینی شاہ — نومبر 16، 2013 7:03 صبح
ویسے اگر آپ تھوڑی آسان میں بات کر لیا کریں تو مجھے تھوڑی جلدی سمجھ آجائے گی ، یہ بھی سمجھ آگئی ہے ، بائی دا وے کلام پڑھتی تو میں بہت ہوں یاد کرنا کیوں ضروری ہے ؟ مجھے اقبال کی شاعری پسسند ہے ، اور اکثر یاد بھی ہے، باقی شعرا کی شاعری پڑھتی تو ہوں مگر یاد نہیں کرتی ۔۔۔
کن کو کہ رہی ہو اسان زبان میں بات کرنے کے لیے:rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 16، 2013 7:14 صبح
محترمی، جناب سلمان حمید صاحب۔ کسرِ نفسی بھی ماشاءاللہ خوب ہے، اور شاعری بھی۔ یقیناً یہاں ایسے اساتذہ ہیں جن کی اپنی کندن بنانے کی صنعتیں ہیں۔ آپ میں تو پھر رمق ہے۔ زندہ و پائندہ رہیں۔ ایک مصرعے کو استاد محترم محمد خلیل الرحمٰن صاحب نے غور طلب قرار دیا ہے۔
میری صلاح یہ ہے کہ اسے یوں کر لیجیے:
رات مسجد میں تری یاد سے رو رو کے کہا
آداب۔ :)

مہدی نقوی حجاز بھائی! بہت عمدہ اصلاح کی ہے آپ نے۔ داد قبول فرمائیے۔
مزید یہ کہ آپ کے مراسلے میں ایک ٹائپو نوٹ فرمائیے۔ ہمارے نام کے ساتھ استاد نہیں لگتا کہ ہم خود ابھی شاعری کے میدان میں مبتدی ہی ہیں۔ خوش رہیے
محمداحمد — نومبر 16، 2013 7:18 صبح
تیرگی شب کی مری روح میں اُتری ایسے
کاٹ کھانے کو لپکتے ہیں ا’جالے مجھ کو
ہوں زمیں بوس مگر خود کو گھسیٹے جاؤں
چلنے دیتے ہی نہیں پاؤں کے چھالے مجھ کو

بہت ہی خوب غزل ہے سلمان حمید صاحب۔
خوش رہیے۔
مہدی نقوی حجاز — نومبر 16، 2013 8:54 صبح
ویسے اگر آپ تھوڑی آسان میں بات کر لیا کریں تو مجھے تھوڑی جلدی سمجھ آجائے گی ، یہ بھی سمجھ آگئی ہے ، بائی دا وے کلام پڑھتی تو میں بہت ہوں یاد کرنا کیوں ضروری ہے ؟ مجھے اقبال کی شاعری پسسند ہے ، اور اکثر یاد بھی ہے، باقی شعرا کی شاعری پڑھتی تو ہوں مگر یاد نہیں کرتی ۔۔۔
مشکل باتوں پر ذرا غور کرنے سے انسان کو مشکل سوچنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ اچھی بات ہے۔ جتنا زیادہ انسان مشکل سوچتا ہے، وہ مشکل باتوں کو اتنی جلدی سمجھ بھی لیتا ہے۔ یہ ایک دائرہ ہے۔
اشعار پڑھیے تحت اللفظ میں۔ بہ آوازِ بند۔ یاد کرنے کی تاکید اس لیے ہے کہ ایک تو شاعری کے روایتی موضوعات یاد رہیں گے، دوسرے یہ کہ اشعار کے آہنگ ذہن نشین ہو جائیں گے۔ جنہیں ہم بحور کہتے ہیں۔
ناعمہ عزیز — نومبر 16، 2013 8:57 صبح
مشکل باتوں پر ذرا غور کرنے سے انسان کو مشکل سوچنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ اچھی بات ہے۔ جتنا زیادہ انسان مشکل سوچتا ہے، وہ مشکل باتوں کو اتنی جلدی سمجھ بھی لیتا ہے۔ یہ ایک دائرہ ہے۔
اشعار پڑھیے تحت اللفظ میں۔ بہ آوازِ بند۔ یاد کرنے کی تاکید اس لیے ہے کہ ایک تو شاعری کے روایتی موضوعات یاد رہیں گے، دوسرے یہ کہ اشعار کے آہنگ ذہن نشین ہو جائیں گے۔ جنہیں ہم بحور کہتے ہیں۔
شکریہ :)
آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی ۔
مہدی نقوی حجاز — نومبر 16، 2013 9:00 صبح
مہدی نقوی حجاز بھائی! بہت عمدہ اصلاح کی ہے آپ نے۔ داد قبول فرمائیے۔
مزید یہ کہ آپ کے مراسلے میں ایک ٹائپو نوٹ فرمائیے۔ ہمارے نام کے ساتھ استاد نہیں لگتا کہ ہم خود ابھی شاعری کے میدان میں مبتدی ہی ہیں۔ خوش رہیے
مصرع پسند فرمانے کا شکریہ۔ بہت آداب۔
حضور، کسر نفسی ہر میدان میں بھلی نہیں لگتی! ختمی مرتبت ﷺ سے جب مسلمانوں نے یہ کہا کہ حضور ﷺ آپ تو نبیِ خدا ہیں، رسول ہیں، سرورِ کائنات ہیں، تو آن حضرت ﷺ نے نعوذباللہ، کبھی یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ "نہیں جناب یہ کیا باتیں ہیں، یہ سب تو آپ کی عطا ہے، محبت ہے، ورنہ میں تو ناچیز سا بندہ ہوں۔۔۔"۔ ہمیشہ اس طرح خطاب شروع کیا، "انا نبی کم۔۔۔" آپ بہتر جانتے ہیں۔ لہٰذا شرمندہ نہ کیا کیجیے! :)
ایک ٹائپو آپ کے مراسلے میں بھی ہے حضور۔ ہم صلاح دینے والوں میں سے ہیں۔ اصلاح کے بارے مصلح جانیں! :)
مہدی نقوی حجاز — نومبر 16، 2013 9:05 صبح
شکریہ :)
آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی ۔
لاحول ولا قوت۔ اس واسطے ہم کسی سے علمی بحث میں وارد نہیں ہوتے!! آخر بھائی میرے یہ ہمارے نظریات ہیں! ہدایات کے لیے رہبران و ہادیانِ سخن بیٹھے ہیں!
ناعمہ عزیز — نومبر 16، 2013 9:53 صبح
لاحول ولا قوت۔ اس واسطے ہم کسی سے علمی بحث میں وارد نہیں ہوتے!! آخر بھائی میرے یہ ہمارے نظریات ہیں! ہدایات کے لیے رہبران و ہادیانِ سخن بیٹھے ہیں!

اففففف میرا بھی تو وہی مطلب تھا۔
مہدی نقوی حجاز — نومبر 16، 2013 10:37 صبح
اففففف میرا بھی تو وہی مطلب تھا۔
شکریہ :)
آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی ۔
:mad:
سلمان حمید — نومبر 16، 2013 1:21 شام
دن دہھاڑے نہی سلمان بھائی پاکستان میں اس ٹائم 7:45 منٹ تھے شام کے :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
میرے تو یہاں دن تھا بہن اب جس کے ساتھ بے ایمانی جب ہو رہی ہو تب کا وقت ہی بتائے گا نا وہ :(
عینی شاہ — نومبر 16، 2013 1:21 شام
میرے تو یہاں دن تھا بہن اب جس کے ساتھ بے ایمانی جب ہو رہی ہو تب کا وقت ہی بتائے گا نا وہ :(
اچھا اچھا ٹھیک ہے اب فیس ٹھیک کریں اپنا :)
سلمان حمید — نومبر 16، 2013 1:27 شام
محترمی، جناب سلمان حمید صاحب۔ کسرِ نفسی بھی ماشاءاللہ خوب ہے، اور شاعری بھی۔ یقیناً یہاں ایسے اساتذہ ہیں جن کی اپنی کندن بنانے کی صنعتیں ہیں۔ آپ میں تو پھر رمق ہے۔ زندہ و پائندہ رہیں۔ ایک مصرعے کو استاد محترم محمد خلیل الرحمٰن صاحب نے غور طلب قرار دیا ہے۔
میری صلاح یہ ہے کہ اسے یوں کر لیجیے:
رات مسجد میں تری یاد سے رو رو کے کہا
آداب۔ :)

بہت شکریہ مہدی نقوی حجاز بھائی آپ کی تعریف کا۔ میں اسی مقصد کو لے کر ہی اس محفل میں بھاگا چلا آیا کہ سیکھنے کو کچھ ملے گا۔ آپ کا مصرعے کو بدلے کے لیے دیا گیا مشورہ سر آنکھوں پر لیکن یہ غزل جلد بازی میں چھپ چکنے والی کتاب کا حصہ بن چکی ہے لیکن اگر آپ اور استاد محترم محمد خلیل الرحمٰن صاحب پہلے سے کہے گئے مصرعے میں خامی پر روشنی ڈال دیں تو آگے کے لیے اصلاح ہو جائے گی :)
سلمان حمید — نومبر 16، 2013 1:28 شام
اچھا اچھا ٹھیک ہے اب فیس ٹھیک کریں اپنا :)
تو اس کا مطلب اب بے ایمانی نہیں ہو گی؟ :biggrin:
عینی شاہ — نومبر 16، 2013 1:30 شام
تو اس کا مطلب اب بے ایمانی نہیں ہو گی؟ :biggrin:
ہو سیڈ ہو سیڈ :eek::eek::eek:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%81%D9%84%D9%90-%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88%D8%8C-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%DB%81%D9%88%D9%86%D9%B9%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D9%84%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88.69298/page-5