ایک اور ادھوری نظم ۔۔۔۔

صائمہ شاہ — اپریل 3، 2016 7:34 صبح
زہے وہ نفس جو محروم تمنا ٹھہرے​
دل میں بےگور سی خواہش کی صلیبیں ٹانگے​
ہر وہ خواہش کہ جو بےنام و نسب دل میں بسی
خود پہ ہی نوحہ کناں چپ کی گواہی مانگے
ہم پہ برسی ہے اس بے نام کرم کی بارش
جس کی ہر بوند سے جلتا ہے خواہش کا بدن
جس کی ہر آنچ سے قربت کی حلاوت بھڑکی
جس کی حدت سے سلگتا رہا عادت کا چلن
نایاب — اپریل 3، 2016 7:49 صبح
کچھ نظمیں ادھوری ہوتے ہوئے بھی تکمیل کا احساس دلاتی ہیں ۔۔۔۔
بہت اچھی نظم
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
ابن رضا — اپریل 3، 2016 8:04 صبح
خیلی خوب است۔ داد قبول کیجیے
باباجی — اپریل 3، 2016 8:05 صبح
ہم کہ جو ازل سے محروم تمنا ٹھہرے
بہت خوب
اس نظم کا حسن اس کے نا مکمل رہنے میں ہے
یاز — اپریل 3، 2016 8:09 صبح
بہت خوب۔
سید لبید غزنوی — اپریل 3، 2016 8:19 صبح
شائستہ بہت خوب خوبصورت نظم ہے نظم چاہے نامکمل مگر الفاظ اور احساسات کا حن مکمل ہے۔۔۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو آمین
نور وجدان — اپریل 3، 2016 9:30 صبح
خود پہ ہی نوحہ کناں چپ کی گواہی مانگے
بہت خوب ۔۔۔ اچھی نظم کہی ہے
منال بلوچ — اپریل 3، 2016 9:49 صبح
بہت جوب
فلک شیر — اپریل 3، 2016 10:38 صبح
دل کی آواز.......نفس نفس بڑھتی بے چینی اور دم بدم اونچی ہوتی سوال کی لے..... سوال، جن کے جواب کوئی نہیں
لاریب مرزا — اپریل 3، 2016 11:12 صبح
ہم پہ برسی ہے اس بے نام کرم کی بارش
جس کی ہر بوند سے جلتا ہے خواہش کا بدن
جس کی ہر آنچ سے قربت کی حلاوت بھڑکی
جس کی حدت سے سلگتا رہا عادت کا چلن
واہ واہ!! عمدہ ترین!! بہت خوب!!
اتنی خوبصورت نظم کہنے پر بہت سی داد!!
محمدظہیر — اپریل 3، 2016 5:25 شام
دل چسپ : )
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:19 شام
کچھ نظمیں ادھوری ہوتے ہوئے بھی تکمیل کا احساس دلاتی ہیں ۔۔۔۔
بہت اچھی نظم
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
بجا فرمایا
بہت شکریہ
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:20 شام
خیلی خوب است۔ داد قبول کیجیے
سپاس گذار ہوں
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:21 شام
ہم کہ جو ازل سے محروم تمنا ٹھہرے
بہت خوب
اس نظم کا حسن اس کے نا مکمل رہنے میں ہے
متفق :)
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:21 شام
شکریہ
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:22 شام
شائستہ بہت خوب خوبصورت نظم ہے نظم چاہے نامکمل مگر الفاظ اور احساسات کا حن مکمل ہے۔۔۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو آمین
آپ نے اسے محسوس کیا تو اس سے بڑھ کر اس کی داد کیا ہوگی
سلامت رہیے
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:22 شام
بہت خوب ۔۔۔ اچھی نظم کہی ہے
شکریہ
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:23 شام
شکریہ اور محفل میں خوش آمدید
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:24 شام
دل کی آواز.......نفس نفس بڑھتی بے چینی اور دم بدم اونچی ہوتی سوال کی لے..... سوال، جن کے جواب کوئی نہیں
دل کی آواز کا کوئی جواب ہوتا تو میں یوں لاجواب نہ ہوتی :)
صائمہ شاہ — اپریل 4، 2016 1:24 شام
واہ واہ!! عمدہ ترین!! بہت خوب!!
اتنی خوبصورت نظم کہنے پر بہت سی داد!!
پسندیدگی پر ممنون ہوں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D9%85-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.89052/