ایک حالیہ غزل۔جس جا کروں نظر ترےجلوے ہی پاؤں میں

سید عاطف علی — فروری 19، 2017 6:48 صبح
السلام علیکم
ایک حالیہ غزل ۔ محفلین کی خدمت میں
عزیز م فاتح بھائی کی نذ رخصوصاََ ۔ آپ نے نشاندہی کی کہ محفل میں کلام پیش کرنے میں سستی کرتا ہوں۔ سو پیش ہے۔
غزل
---------------------------
جس جا کروں نظر ترےجلوے ہی پاؤں میں
پھر کس طرح سے غیب پہ ایمان لاؤں میں
-------------
کچھ اس اداسےراز سے پردہ اٹھاؤں میں
شمشیر تم اٹھاؤ ، سپر کو گراؤں میں
-------------
رضواں جو باب خلدپہ کچھ پوچھ لےاگر
صل علی کا معجزہ تم کو دکھاؤں میں
------------
کیا پوچھتے ہو جانےدو،عادت ہے یہ مری
اب اشک بے سبب کا سبب کیا بتاؤں میں
------------
لبریز ایک عمر سے ہے جام صبر دل
کب تک اک آرزوکوتھپک کرسلاؤں میں
------------
ناگاہ نا م میرا تمھارے لبوں پہ آئے
افواہ بن کےشہرمیں اورپھیل جاؤں میں
------------
کس نےکہاتھا؟ "ٹھیک ہے منظورہے ہمیں"
اوراق زندگی کے پلٹ کر دکھاؤں میں؟
------------
سید عاطف علی۔فروری 2017
راحیل فاروق — فروری 19، 2017 7:32 صبح
کیا کہنے، سیدی۔ مصرعوں کی چستی نے آپ کی سستی کی تلافی کر دی! :):):)
فاتح — فروری 19، 2017 7:36 صبح
واہ واہ عاطف بھائی، کیا ہی خوبصورت اشعار ہیں۔ اور آپ کی محبت ہے کہ ہماری خواہش کا بھرم رکھا۔ ممنون ہوں۔
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 7:40 صبح
کیا کہنے، سیدی۔ مصرعوں کی چستی نے آپ کی سستی کی تلافی کر دی! :):):)
صد آداب راحیل بھائی۔ آپ کی پذیرائی گویا کاوش وصول ہوئی ۔
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 7:41 صبح
واہ واہ عاطف بھائی، کیا ہی خوبصورت اشعار ہیں۔ اور آپ کی محبت ہے کہ ہماری خواہش کا بھرم رکھا۔ ممنون ہوں۔
آپ کی محبت فاتح عالم ہے اور ہمارا سرمایہ ۔۔۔ صد آداب و امتنان۔
محمد تابش صدیقی — فروری 19، 2017 8:04 صبح
بہت خوب عاطف بھائی. بہت عمدہ.
خوشی ہوئی کہ آپ نے بھی جمود توڑا. :)
السلام علیکم
ایک حالیہ غزل ۔ محفلین کی خدمت میں
عزیز م فاتح بھائی کی نذ رخصوصاََ ۔ آپ نے نشاندہی کی کہ محفل میں کلام پیش کرنے میں سستی کرتا ہوں۔ سو پیش ہے۔
غزل
---------------------------
جس جا کروں نظر ترےجلوے ہی پاؤں میں
پھر کس طرح سے غیب پہ ایمان لاؤں میں
-------------
کچھ اس اداسےراز سے پردہ اٹھاؤں میں
شمشیر تم اٹھاؤ ، سپر کو گراؤں میں
-------------
رضواں جو باب خلدپہ کچھ پوچھ لےاگر
صل علی کا معجزہ تم کو دکھاؤں میں
------------
کیا پوچھتے ہو جانےدو،عادت ہے یہ مری
اب اشک بے سبب کا سبب کیا بتاؤں میں
------------
لبریز ایک عمر سے ہے جام صبر دل
کب تک اک آرزوکوتھپک کرسلاؤں میں
------------
ناگاہ نا م میرا تمھارے لبوں پہ آئے
افواہ بن کےشہرمیں اورپھیل جاؤں میں
------------
کس نےکہاتھا؟ "ٹھیک ہے منظورہے ہمیں"
اوراق زندگی کے پلٹ کر دکھاؤں میں؟
------------
سید عاطف علی۔فروری 2017
سید لبید غزنوی — فروری 19، 2017 8:18 صبح
کمال است۔۔۔
کیا پوچھتے ہو جانےدو،عادت ہے یہ مری
اب اشک بے سبب کا سبب کیا بتاؤں میں

لبریز ایک عمر سے ہے جام صبر دل
کب تک اک آرزوکوتھپک کرسلاؤں میں
کیا بات ہے بہت خوب
واہ سیدی کیا کہنے آپ کے خوش رہیں۔۔۔
لاریب مرزا — فروری 19، 2017 8:26 صبح
کیا پوچھتے ہو جانےدو،عادت ہے یہ مری
اب اشک بے سبب کا سبب کیا بتاؤں میں
بہت خوب!! بہت سی داد آپ کے لیے
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 10:43 صبح
کمال است۔۔۔
کیا بات ہے بہت خوب
واہ سیدی کیا کہنے آپ کے خوش رہیں۔۔۔
آداب و شکریہ سید لبید غزنوی صاحب ۔ خوش رہیں ۔
محمد وارث — فروری 19، 2017 11:25 صبح
خوبصورت غزل ہے سید صاحب قبلہ، لاجواب!
عاطف ملک — فروری 19، 2017 12:03 شام
لبریز ایک عمر سے ہے جام صبر دل
کب تک اک آرزوکوتھپک کرسلاؤں میں
واہ!
ناگاہ نا م میرا تمھارے لبوں پہ آئے
افواہ بن کےشہرمیں اورپھیل جاؤں میں
بہت خوب
کس نےکہاتھا؟ "ٹھیک ہے منظورہے ہمیں"
اوراق زندگی کے پلٹ کر دکھاؤں میں؟
لاجواب۔۔۔۔یوں تو ہر شعرکی تعریف کے لیے ایک غزل بنتی ہے لیکن صرف داد اور بہت ساری دعائیں ہی دے سکتے ہیں آپ کو سیدی!
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
ربیع م — فروری 19، 2017 12:18 شام
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں مشاعروں میں نشست و برخاست کے آداب تک نہیں آتے داد کیا دیں!!!
چھوٹا منہ بڑی بات
لیکن کہے بغیر رہ نہیں سکتا : بہت خوب سیدی!
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 19، 2017 12:19 شام
آخرِ کار ترسا ترسا کر ایک غزل عطا کرہی دی عاطف بھائی نے۔ خوب صورت۔ مزے دار
بہت داد قبول ہو جناب
محمدظہیر — فروری 19، 2017 12:24 شام
بہت خوب جناب:)
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 1:28 شام
بہت خوب عاطف بھائی. بہت عمدہ.
خوشی ہوئی کہ آپ نے بھی جمود توڑا. :)
بہت آداب تابش بھائی ۔ آپ خوش ہوئے تو ہم بھی خوش۔ :)
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 1:29 شام
بہت خوب!! بہت سی داد آپ کے لیے
بہت شکریہ و آداب لاریب مرزا صاحبہ۔سلامت رہیں
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 1:38 شام
خوبصورت غزل ہے سید صاحب قبلہ، لاجواب!
صد ہا آداب وارث بھائی ۔ مولی سلامت رکھے ۔
La Alma — فروری 19، 2017 1:43 شام
میری نظر سے شاید پہلی بار آپ کا کلام گزرا ہے . اچھی غزل کہی ہے . بہت عمدہ .
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 1:54 شام
واہ!
بہت خوب
لاجواب۔۔۔۔یوں تو ہر شعرکی تعریف کے لیے ایک غزل بنتی ہے لیکن صرف داد اور بہت ساری دعائیں ہی دے سکتے ہیں آپ کو سیدی!
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
ممنون ہوں آپ کی فیاضی طبع پر ۔ عاطف صاحب ۔ شاد رہیں ۔ آداب و تشکر۔
سید عاطف علی — فروری 19، 2017 1:56 شام
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں مشاعروں میں نشست و برخاست کے آداب تک نہیں آتے داد کیا دیں!!!
چھوٹا منہ بڑی بات
لیکن کہے بغیر رہ نہیں سکتا : بہت خوب سیدی!
بدر الفاتح بھائی آپ جیسے اہل علم اشخاص کی داد میرا سرمایہ ہے ۔ صدہا آداب۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AD%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94%D8%AC%D8%B3-%D8%AC%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D8%AA%D8%B1%DB%92%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.94943/