السلام علیکم سید عاطف علی صاحب ۔
جب سے آپ نے اس غزل کو پوسٹ کِیا ہے مجھے کچھ اعتراضات ہیں ۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں یہاں مت لکھوں ۔ لیکن شاید اللہ کو یہی منظور ہے ۔ اگر آپ جواب دینا مناسب سمجھیں ۔
جس جا کروں نظر ترےجلوے ہی پاؤں میں
پھر کس طرح سے غیب پہ ایمان لاؤں میں
میرا اعتراض اس بات پر ہے کہ غیب میں صرف اللہ کی ذات نہیں آتی وہ سب چیزیں بھی شامل ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتیں ۔ اگر آپ اللہ کے جلوے ملاحظہ فرماتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ساتھ ہی ساتھ باقی چیزیں بھی آپ کے مشاہدے میں ہیں ۔ یعنی غیب میں صرف اللہ کی ذات نہیں ہے ۔
کچھ اس اداسےراز سے پردہ اٹھاؤں میں
شمشیر تم اٹھاؤ ، سپر کو گراؤں میں
'ادا سے' بہت نامناسب لگا تھا مجھے پہلے دن سے ہی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس لفظ کا استعمال محبوب کے لیے ہی ہونا چاہیے ۔ اگر اپنے لیے کیا جائے تو یہ ایک مضحکہ خیز سا تاثر پیدا کرتا ہے ۔
کیا پوچھتے ہو جانےدو،عادت ہے یہ مری
اب اشک بے سبب کا سبب کیا بتاؤں میں
بہت کڑی تنقید نہ سمجھا جائے تو یہاں ' جانے دو' بہت عامیانہ اندازِ بیان ہے ۔
لبریز ایک عمر سے ہے جام صبر دل
کب تک اک آرزوکوتھپک کرسلاؤں میں
میرے علم میں ہے کہ محاورہ 'تھپک تھپک کر سلانا' ہوتا ہے ۔ اس سلسلے میں اگر آپ تحقیق کرنا مناسب سمجھیں ۔
رضواں جو باب خلدپہ کچھ پوچھ لےاگر
صل علی کا معجزہ تم کو دکھاؤں میں
------------
معاف کیجیے گا یہ شعر چھوٹ گیا ۔ مجھے اس پر اعتراض یہ ہے کہ ایک قسم کا تفرقہ آمیز ہے اس کے علاوہ کوئی بھی شخص یہ ہرگز پسند نہیں کرے گا کہ اسے ' تم ' کے ساتھ مخاطب کیا جائے ۔ مجھے ذاتی طور پر بھی یہ بات سخت نا پسند ہے ۔ ( مگر وہ لوگ جنہیں میں اجازت دوں یا نہایت بزرگ حضرات ) ایک مزید بات تدوین کر کے شامل کر رہا ہوں کہ خود کو جنت کا حقدار بتانا بھی اس شعر سے ثابت ہوتا ہے ۔ یعنی اپنے ہی آپ کو جنت کی بشارت ۔ بہت بہت معذرت ۔
ناگاہ نا م میرا تمھارے لبوں پہ آئے
افواہ بن کےشہرمیں اورپھیل جاؤں میں
میں سمجھتا ہوں کہ اس شعر میں روانی کی سخت کمی ہے ۔ اور دوسرے مصرع میں 'اور' کا بطور دو حروف استعمال یہاں اچھا نہیں لگا ۔
آپ سے اور باقی سب حضرات سے معافی کا طلب گار ہوں ۔